آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مقابلہ جاری ہے۔ ایٹم بم بنانے کا مقابلہ، ایٹمی میزائل تیار کرنے کا مقابلہ، اعلیٰ سے اعلیٰ جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر خریدنے کا مقابلہ، ٹینکوں اور توپوں کا مقابلہ، کاش یہ مقابلہ غربت کے خاتمے کا ہوتا، تعلیم کے فروغ کا ہوتا، زندگی کو بہتر بنانے کا ہوتا، روشنیوں کو پھیلانے کا ہوتا، مگر کیا کریں۔ دشمن ایسا ہے کہ چین ہی نہیں آتا۔ تین چار جنگیں ہو چکی ہیں مگر اُس کا دل نہیں بھر رہا۔ اب پھر پٹھانکوٹ میں جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹر لا کھڑے کیے ہیں۔ ہاں پھر کسی آپریشن کی تیاری ہے۔ ایسی آگ سے کھیلنا چاہ رہا ہے جو نہ صرف سارے برصغیر کو بھسم کر سکتی ہے بلکہ دنیا کی تباہی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ غصہ نہیں جا رہا کہ فروری میں دو بھارتی مگ 21پاکستانی ایئر فورس نے کیوں گرا لیے۔ بھارتی فضائیہ نے الزام ٹیکنالوجی پر دیتے ہوئے بھارتی وزیراعظم سے کہا تھا کہ اس طرح آپریشنز کے لئے اپاچی ہیلی کاپٹرز انتہائی ضروری ہیں۔ ہم نےیہ ہیلی کاپٹرز 2015ء میں امریکہ سے خریدے تھے مگر ابھی تک ملے نہیں۔ سو نریندر مودی نے اگلا آپریشن اپاچی ہیلی کاپٹرز کی آمد تک منسوخ کر دیا۔ امریکی حکومت پر دبائو ڈالا کہ ہمیں فوری طور پر اپاچی ہیلی کاپٹرز فراہم کئے جائیں۔ 2015ء میں بائیس ہیلی کاپٹرز کا سودا ہوا تھا جس میں سے 8بھارت کو دیدئیے گئے، باقی اگلے سال دئیے جائیں گے۔

یہ دنیا کا طاقتور ترین ہیلی کاپٹر ہے۔ اس میں ٹینک تباہ کرنے والے میزائل پھینکنے کی صلاحیت ہے۔ آمنے سامنے کی لڑائی میں کارگر ثابت ہوتا ہے۔ موبائل اسٹرائیک آپریشنز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ورٹیکل حملوں میں کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ اس میں دو پائلٹ ہوتے ہیں۔ رات کو بھی پرواز کر سکتا ہے۔ ہر طرح کےخراب موسم میں اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر یہ بھی نہیں کہ ناقابلِ شکست ہے۔ یمنی فورسز نے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا۔ افغانستان میں کئی اپاچی ہیلی کاپٹرز تباہ ہوئے۔ 2017ء میں ایک اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوا تھا۔ اسرائیلی رپورٹ کے مطابق اس میں ایک ایسی خرابی موجود ہے جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹر تباہ ہو تو پائلٹس بھی ہلاک ہو جاتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا بھی ایک اپاچی ہیلی کاپٹر یمن کے شمالی صوبے الجوف میں گر کر تباہ ہوا تھا اس میں سوار دونوں پائلٹ بھی ہلاک ہو گئے تھے۔بھارت کے اپاچی ہیلی کاپٹرز پٹھانکوٹ ایئر پورٹ پر پہنچ چکے ہیں مگر وہ ابھی آپریشن کے قابل نہیں کیونکہ انہیں اڑانا کسی عام پائلٹ کے بس کا کام نہیں۔ انہیں اڑانے کے لئے پرانے پائلٹوں کو بھی کم از کم چھ ماہ کی ٹریننگ درکار ہے۔ آٹھ ہیلی کاپٹرز کے لئے سولہ پائلٹ چاہئیں اور امریکہ سے ایک پائلٹ کی ٹریننگ پر تیس لاکھ ڈالر خرچ آئیں گے یعنی چھ مہینے تک تو ابھی بھارت ان ہیلی کاپٹرز سے کشمیر میں کوئی آپریشن نہیں کر سکتا۔ ہاں! اسرائیل کے پائلٹ مانگ سکتا ہے۔ اس سے پہلے یہ ہیلی کاپٹر امریکہ، مصر، انڈونیشیا، اسرائیل، یونان، قطر، سعودی عرب اور جاپان کے پاس موجود ہیں۔

اپاچی کے مقابلے میں چین نے ڈبلیو زیڈ-10اٹیک ہیلی کاپٹر بنایا ہے۔ یہ چار ہیلی کاپٹر چین کی طرف سے تین سال پہلے پاکستان کو گفٹ دئیے گئے تھے۔ اس میں اس وقت کوئی معمولی خرابی تھی جسے بعد میں درست کر لیا گیا تھا مگر اُس وجہ سے مارکیٹ میں لیٹ آئے ہیں۔ اس جنگی ہیلی کاپٹر کو ضربِ عضب آپریشنز میں بھی استعمال کیا گیا۔ کارکردگی متاثر کن تھی۔ پاکستان نے چین سے مزید سترہ ’’Z-10‘‘ ہیلی کاپٹرز حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ جنگی ہیلی کاپٹر اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور ریڈار سے تقریباً چار کلومیٹر کی دوری برقرار رکھتے ہوئے کارروائی کر سکتا ہے، اس جنگی ہیلی کاپٹر کی قیمت تقریباً 17ملین امریکی ڈالر ہے۔ اس وقت تک یہ چین کے پاس تقریباً ایک سو کے قریب ہیں۔ یقیناً اب پاکستان چین سے فوری طور پر انہیں حاصل کرے گا مگر امریکہ سے یہ سوال پوچھا تو جانا چاہئے کہ اس نے جو ہیلی کاپٹرز چار سال سے بھارت کو نہیں دئیے تھے، اچانک ایسے وقت میں فراہم کر دئیے جب فضا میں پاک بھارت جنگ کے خطرے کے سائرن بج رہے ہیں۔ جنگ کا ہر لمحہ خطرہ ہے اور عمران خان بار بار دنیا سے کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ ایٹمی جنگ بن جائے گی۔ پلیز انڈیا کو سمجھائیں مگر امریکہ اسے سمجھانے کے بجائے الٹا جنگی ہیلی کاپٹر دے رہا ہے۔ یعنی جنگ کو شہ دی جا رہی ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امریکی فضائیہ نے برطانیہ کے شہر گلوسسٹر شائر کی فائر ایئربیس پر ایٹمی بموں سے لیس تین بی ٹو بمبار طیارے تعینات کر دئیے ہیں۔ ان کی تعیناتی کے متعلق بات کرتے ہوئے امریکی فضائیہ کے کمانڈر کورٹ وینڈٹ نے کہا ہے کہ ’’یہ امریکہ اور نیٹو کی فوجی طاقت کے بارے میں ایک بڑا پیغام ہے‘‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ پیغام کسے دیا گیا ہے۔ اس وقت ایٹمی جنگ کا خطرہ تو بھارت اور پاکستان میں ہے۔ امریکہ نے پاکستان سے نو اے ایچ ون زیڈ وائپر اٹیک ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے جو 2018ء میں ملنا تھے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے فارن ملٹری سیلز فنڈز کے تحت پاکستان کو دینے کیلئے ہیلی کاپٹر بنانے والی کمپنی بیل کو 9اے ایچ ون زیڈ وائپر اٹیک ہیلی کاپٹرز کی تیاری کا کنٹریکٹ دیدیا تھا۔ ستمبر 2018ء تک ہیلی کاپٹرز کو تیار ہو جانا چاہئے تھا۔ کانگریس نے بھی نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان نے ممکنہ طور پر 15اے ایچ ون زیڈ ہیلی کاپٹرز کی درخواست کی تھی جس میں الٹرا ہائی فریکوینسی کمیونیکیشن اور نیویگیشن سسٹم نصب ہے۔ دیگر ملٹری آلات میں 32ہیلمٹ ماؤنٹڈ ڈسپلے، 47میزائل وارننگ سسٹم، دو ریڈار وارننگ ریسیور، 15جوائنٹ مشن پلاننگ سسٹم اور 17ایم 197بیس ملی میٹر گن سسٹم وغیرہ شامل تھیں مگر ابھی امریکہ اس معاملے میں خاموش ہے۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے دن جیسے جیسے بڑھتے جارہے ہیں جنگ کے امکانات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ خدشہ ہے کہ کشمیر کے معاملہ میں بھارت دنیا کے بڑھتے ہوئے دبائو کو کم کرنے کے لئے جنگ نہ چھیڑ دے۔ وائس آف امریکہ کے مطابق ایک امریکی تھنک ٹینک نے تنبیہ کی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ خاص طور پر بھارتی وزیر دفاع کے اس بیان کے بعد کہ ہم پہل کرنے کا بھی سوچ سکتے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ بھارت میں دماغ کے ساتھ سوچنے والے لوگ کہاں چلے گئے ہیں۔

ادارتی صفحہ سے مزید