آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر16؍محرم الحرام 1441ھ 16؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہانہ ریکوری آدھی، کے ڈی اے ملازمین دو ماہ کی تنخواہ سے محروم

کراچی (طاہر عزیز/ اسٹاف رپورٹر)کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کے بعد ماہانہ ریکوری پچاس فیصد کم ہوگئی ملازمین کو دوماہ کی تنخواہیں نہ ملنے سے ان کیلئے روزمرہ ضروریات پوری کرنا مشکل ہوگیا ان میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے،ممبر فنانس آغا پرویز نے ریکوری میں کمی کی تصدیق کرتے ہوئےکہا ہے کہ بیس ستمبر تک ایک ماہ کی تنخواہ ادا کردینگے، تفصیلات کے مطابق کے ڈی اے کے نئے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بدر جمیل کی تعیناتی کو ایک ماہ بارہ دن ہوگئے لیکن ادارے کی صورتحال بہتری کی بجائے تنزلی کی جانب گامزن ہے وزیربلدیات سیدناصرحسین شاہ بھی کے ڈی اے کے دورے کے دوران واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ اگر ڈی جی سمیت دیگر افسران نے90 روز میں اپنی کارکردگی بہتر نہ کی تو وہ انہیں ہٹادیں گے۔ سابق ڈی جی عبدالقدیر منگی ادارے کی اپنی آمدنی بڑھا کر ماہانہ اوسطً دس سے گیارہ کروڑ روپے تک لے گئے تھے لیکن نئے ڈی جی کے چارج سنبھالنے کے بعد یہ کم ہوکر ساڑھے پانچ کروڑ روپے پر آگئی ہے کے ڈی اے ملازمین کی ماہانہ

مجموعی تنخواہ اور پنشن 28 کروڑ46 لاکھ روپے ہے جس میں ریگولر 3080 ملازمین کی تنخواہیں 17 کروڑ 30 لاکھ، 3800 پنشنرکو 9 کروڑ 45 لاکھ روپے، کنٹریکٹ ملازمین کو ایک کروڑ 56 لاکھ اور ورک چارج ملازمین کو 15 لاکھ روپے ماہانہ ادا کئے جاتے ہیں حکومت سندھ کے ڈی اے کو گرانٹ کی مدمیں ماہانہ 20 کروڑ 40 لاکھ روپے فنڈدیتی ہے سابق ڈی جی عبدالقدیر منگی کے ڈی اے کی ریکوری بڑھاکر دس سے گیارہ کروڑ روپے پر لے آئے تھے جس کے باعث ادارہ مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا تھا اور ملازمین کی تنخواہ بھی اس سلسلے میں جب ممبرفنانس کے ڈی اے آغا پرویز سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ریکوری کم ہونے کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ تنخواہ میں تاخیر حکومت سندھ سے ملنے والی گرانٹ میں رواں ماہ چھٹیوں کی وجہ سے ہوئی ہے 20 ستمبر تک ایک ماہ کی تنخواہ ادا کردیں گے، دریں اثناء بعض یونین رہنماؤں نے کہاہے کہ کے ڈی اے کو ماضی کی طرح ایک بار پھر پرائیویٹ کوآرڈینیٹر رکھ چلانے کی کوشش کی مذمت کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈی جی نے بھی اپنے دفتری امور نمٹانے کے لیے ادارے سے باہر کے ایک شخص کو رکھ لیا ہے جو روزانہ کے ڈی اے ہیڈ آفس سوک سینٹر میں بیٹھ کر افسران کو مختلف ہدایات دیتے رہتا ہے جو کہ سراسر غیرقانونی اقدام ہے وزیر اعلی اور وزیر بلدیات اس کا نوٹس لیں

اہم خبریں سے مزید