A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: HTTP_REFERER

Filename: front/layout_front.php

Line Number: 246

Backtrace:

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/views/front/layout_front.php
Line: 246
Function: _error_handler

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 351
Function: include

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 294
Function: _ci_load

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/modules/frontend/controllers/Detail.php
Line: 464
Function: view

File: /var/www/js.jang.com.pk/html/index.php
Line: 333
Function: require_once

آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 15؍ صفرالمظفر 1441ھ 15؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آرٹیکل 149 سے سندھ کی تقسیم کا تاثر دیا جا رہا ہے: فضل الرحمٰن

مولانا فضل الرحمٰن ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے


جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے آرٹیکل 149 کے استعمال سے یہی تاثر دیا جا رہا ہے کہ سندھ کو تقسیم کیا جا رہا ہے، سندھ کے عوام سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔

ملتان کی جامعہ قاسم العلوم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ سیاسی قائدین ہمارے اسٹیج پر موجود ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہر پارٹی کا اپنا اختیار اور اس کی اپنی حکمتِ عملی ہوتی ہے، آج بھی ہم ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، تمام جماعتوں کے بیانیے میں کوئی اختلاف نہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 18 ستمبر کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا، باقی سیاسی جماعتوں سے ہماری جماعت کی سیاسی حکمتِ عملی میں فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ 25 جولائی سے اب تک تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں بدترین دھاندلی کو تسلیم نہیں کیا، لیکن صرف ہماری جماعت اس دھاندلی کے خلاف گئی۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ دھاندلی کے خلاف ہم نے 15 تاریخی اجتماعات کیے، ہم تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں لیکن تمام جماعتوں کی اپنی ترجیحات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، کوئی سیاسی جماعت اسٹیج پر آئے یا نہ آئے یہ ان کا فیصلہ ہے، دھاندلی پر تمام سیاسی جماعتوں کا بیانیہ ایک ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کا تعلق کشمیر کمیٹی سے نہیں ہے، اس معاملہ پر ہمیشہ مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا، سیاسی طور پر مجھے تنقید کا نشانہ بنانا درست تھا لیکن کشمیر کا مسئلہ پارلیمنٹ کے سوا کہیں حل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مودی کے انتخابات پر آنکھیں بند رکھیں حالانکہ انہوں نے اپنے انتخابی منشور میں کشمیر کا انضمام کرنا تھا، بیان بازی اور میڈیا کے ذریعے عوام سے اظہارِ یک جہتی کیا جاتا رہے گا۔

امیر جمعیت علمائے اسلام ف نے مزید کہا کہ جو کشمیر کو بچانے کی بات کر رہے ہیں، انہوں نے کشمیر کو بیچ دیا ہے، پوری دنیا میں کہیں جمہوریت نہیں، عالمی برداری جمہوریت کے نام پر عوام کو دھوکہ دیتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حکومت ناجائز ہے اور اب یہ اپنی ایک سال کی کارکردگی کے بعد نااہل بھی ہو چکی ہے۔

قومی خبریں سے مزید