آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

رانا فوروہر

ایرو الیکٹرانکس، کمپنی جس کے بارے میں جولائی کے آخر میں اپنے ایک کالم میں تحریر کیا تھا، کے چیف فنانشل آفیسر سے حال ہی میں میرا ایک دلچسپ مکالمہ ہوا۔ایرو الیکٹرانکس کمپنی جو پوری دنیا میں کاروں، ڈش واشرز، کمپیوٹرز اور فون میں استعمال کیے جانے والے اجزاء اور سیمی کنڈکٹرز تقسیم کار ہے، نے طلب کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے، منافع کے بارے میں انتباہ دیا تھا ۔گزشتہ کئی برس میں پہلی بار ایسا ہوا ہے۔اس کے کاروبار کی نوعیت کی وجہ سے اس میں میری دلچسپی تھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ چین کے ساتھ امریکی تجارتی تنازع سے متاثر ہونے والوں میں ایرو الیکٹرانکس پہلی صف میں ہے ،کیا یہ واقعی امریکی کاروبار کیلئے فائدہ مند ہے۔

اثرات؟چین کے ساتھ تجارتی مذاکرات کی ممکنہ تجدید کے سلسلے میں خوشخبریوں کے اس حالیہ دور کے بارے میں زیادہ پرجوش نہ ہوں۔جیسا کہ الیانز کے چیف اقتصادی مشیر محمد ال ایریان نے اس ہفتے فنانشل ٹائمز میں وضاحت کی ہے کہ مذاکرات کے انعقاد کا امکان نہیں ہے۔ درحقیقت، ایر چیف فنانشل آفیسر کرس اسٹینبری نے میرے اس خیال کو مزید بڑھاوا دیا اور کہا میرا خیال ہے کہ ہم کئی عشروں پر مشتمل سرمایہ کاری کے ایک بالکل نئے دور کی جانب گامزن ہیں، جس میں عالمی جارح ہونے کے کئی سال بعد امریکی کمپنیاں دفاعی کھیل کھیلیں گی۔

جیسا کہ میں نے اوپر حوالہ دیئے گئے کام میں وضاحت کی ہے کہ 1980 کی دہائی سے امریکی کمپنیوں کا اسٹاک خریدنا عالمگیریت خریدنے کا ایک طریقہ رہا ہے۔اب اس کے بالکل برعکس ہوسکتا ہے۔ایرو الیکٹرانکس کبھی ترقی کرتا اسٹاک تھا،اب ایک دور میں نیچے بیٹھ رہا ہے جس میں وہ کم رقم استعمال کرے گا، سست ترقی کی توقع کریں ، مختصر المدتی گراوٹ کا بھی امکان ہے،اور عالمی سطح کی بجائے مقامی طور پر توجہ مرکوز نظر آئے گی،یہ کچھ اتنا آسان بھی نہیں ہوگا کیونہ دنیا سہ قطبی اور تحفظ پسند بنتی جارہی ہے (اسٹانسبری کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ ماہ میں بدترین صورتحال میں تیزی آگئی ہے جس میں چین نے اسٹرٹیجک شعبوں میں غیر ملکی کھلاڑیوں کے لئے اپنے دروازے مکمل طور پر بند کرنا شروع کردیے ہیں۔

اس بارے میں سوچیں کہ اگر یہ معمول بن گیا تو امریکی معیشت کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے۔جیسا کہ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں وضاحت کی تھی کہ کارپوریٹ امریکا کے قرض کا بوجھ، عظیم مالیاتی بحران کے بعد برسوں آسان رقم کی پیداوار، پہلے ہی کساد بازاری کا ایک ممکنہ محرک ہے۔جن کاروباری تزویر کاروں کا میں بغور جائزہ لیتا ہوں،ان میں سے ایک لیوک گرومین نے حال ہی میں شائع ہونے والے نیوز لیٹر میں کہا ہے کہ اگر امریکا اور چین بالآخر کسی معاہدے پر نہیں پہنچتے تو مجموعی ملکی پیداوار کی فیصد کے حساب سے امریکی کارپوریٹ کے منافع میں با ٓسانی 30 سے 60 فیصد کمی واقع ہوسکتی ہے۔ صرف ایک طویل المدتی حد میں واپسی کے لئے جو چین کے عالمی تجارتی تنظیم میں شمولیت سے پہلے موجود تھی۔

اس میں بہت بڑی معاشی اور سیاسی تقسیم ہے۔میرے ذہن میں اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ کشیدگی میں وقتی سکون اور مارکیٹس کے اس پر بے جا شدید ردعمل کے باوجود اس موسم خزاں میں کسی مرحلے پر وہائٹ ہاؤس میں چین کو مزید لالچ کے ساتھ ہم معمول کے مطابق کاروبار میں واپس آجائیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ بالآخر بیان بازی کے معاملے میں اس کی جانب راغب ہوں گے،امریکی صدرکے لئے ایک اچھےبیرومیٹر اسٹیو بینن نے ہواوے کو نشانہ بناتے ہوئے کلاز آف دی ریڈ ڈریگن( سرخ ڈریگن کے جبڑے) کے نام سے ایک نئی فلم تیار کی ہے۔ان کا مقصد یقینا مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔لیکن میری یہ شرط ہے کہ اگر یہ مارکیٹ کے ایسے واقعات کو پیش کرتی ہے جو نازک امریکی صارفین کو غیر مستحکم کرے اور اس طرح کساد بازاری کا باعث بنے، تو امریکی صد ڈونلڈ ٹرمپ الزبتھ وارن کا شکار بن سکتے ہیں، بآواز بلند سوچنا۔

سفارش کردہ تحریریں

گوگل میمو کےدی وال جرنل میں ڈینیئل ہننگر کی بھیجی گئی تحریر پسند ہے، جس میں وہ بتاتے ہیں کہ ملازمت بنیادی طور پر کام کرنے کیلئے ہوتی ہے نا کہ دفتر میں سارا دن ثقافتی جنگیں لڑنے میں وقت گزاریں۔

ایک ہفتہ جس میں گوگل اور فیس بک دونوں کو ایک بار پھر مشکل سوالات کا سامنا تھا،بڑے ٹیک کی اپنی روح کی تلاش جہاں کہیں بھی تھی؟ کے بارے میں دی نیو یارکر کے فیچر کا بھی مطالعہ کیا،ایسیلین۔ کیا کوئی اس میں پیش کئے گئے خیالات کو اتنا ہی ناپسند کرتا ہے جتنا میں کرتا ہوں۔

اور فنانشل ٹائمز میں اس ہفتے بہت اچھا مواد ہے( جمعہ کوجن میں سے کچھ کو ایڈیٹر نےپہلے ہی سوامپ نوٹس کہہ دیا تھا)یقینی طور پر گیلین ٹیٹ کے اس کام کو نہیں بھولنا چاہئے کہ آیا سرمایہ داری کو بچت کی ضرورت ہے۔

ایڈورڈ لوس کا ردعمل

رانا فوروہر، مجھے یقین ہے کہ گرومین کی پیش گوئیاں درست ہیں:امریکا اور چین کی علیحدگی سےعالمگیریت کے سفر معکوس کا عمل شروع ہو جائے گا،دنیا عالمگیریت سے پہلے کے دور کی جانب چلی جائے گی۔اس کے نتیجے میں معاشیات کے پیمانے اور عالمی سپلائی چین کا خاتمہ ہوگا جس نے امریکی ملٹی نیشنل کیلئے آخری سنہرے دور کی پیداوار میں مدد دی ہے۔اس کے ہونے کے امکانات غیرمعمولی ہیں، جیسا کہ ماہر اقتصادیات نے کہا۔ڈونلڈ ٹرمپ کوسب سے زیادہ نا اہل چین مخالفوں نے گھیرا ہوا ہے۔

مجھے زیادہ اعتماد نہیں ہے کہ ڈیموکریٹک امیدوار کی حیثیت سےالزبتھ وارن نتیجہ میں تعلقات کی خرابی سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے ایک ہوں گی۔جیسا کہ یہ ہے کہ الزبتھ وارن نے امریکا کے بیشتر دولت مند وں کے اندر خوف پیدا کیا(ان کا مجوزہ ویلتھ ٹیکس کیونکہ ثبوت کئے طور پر پیش کیا جاتاہے)۔ اگر آپ سکڑتے ہوئے منافع کے افق کے ساتھ موجودہ خوف کو منسلک کرتے ہیں تو یہ امریکا اور چین کے درمیان اقتصادی علیحدگی کے نتیجے میں ہوگا۔مجھے شبہ ہے کہ الزبتھ وارن کے دھن راج کا خبط بڑھتا ہی جائے گا۔اس کا مطلب ٹرمپ کیلئے بہت زیادہ سیاہ دھن ہوگا۔ جیسا کہ میں الزبتھ وارن کو پسند کرتا ہوں،مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ اسے عام انتخابات میں شکست دے سکتی ہیں۔

فنانشل ٹائمز سے مزید