آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ28؍جمادی الاوّل 1441ھ 24؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ہر سال یکم اکتوبر کو پوری دنیا میں یومِ بزرگان (Senior Citizens Day) منایا جاتا ہے، جو ہم لوگ پاکستان میں بھی مناتے ہیں۔ پاکستان میں ہماری سوسائٹی کا نام Senior Citizens Foundation of Pakistanہے۔ پچھلے کئی برس سے میں اس کا صدر ہوں (عمر کے حساب سے کہ میں ماشاء اللہ 83برس کا ہوں)۔ اس فائونڈیشن کے نائب صدر اکبر حیات گنڈاپور صاحب ہیں، سیکرٹری جنرل ایچ ایم چوہان صاحب ہیں، سیکرٹری انفارمیشن حفیظ الدین احمد صاحب ہیں اور سیکرٹری فنانس ایف آئی قریشی صاحب ہیں۔ پہلے ہمارا دفتر G-7ستارہ مارکیٹ اسلام آباد میں تھا جب مالک مکان نے خالی کرا لیا تو یہ دفتر اب شہر سے کافی دور G-12/1میں منتقل ہو گیا ہے چونکہ یہ دفتر خاصا دور ہے (کرایہ کی وجہ سے دوری قبول کرنا پڑی) لہٰذا میں اپنے گھر میں ہر ماہ فائونڈیشن کی میٹنگ کی سعادت حاصل کرتا ہوں اور ساتھی اس سے خوش ہیں۔اس سال بھی ہم نے ’’یومِ بزرگان‘‘ یکم اکتوبر کو زور و شور سے منایا۔ یہ فنکشن پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس کی تعمیر میں نے اپنے صدارتی دور میں کرائی تھی۔ ہال بھر گیا تھا۔ اسلام آباد، راولپنڈی، واہ، ٹیکسلا، لاہور وغیرہ سے کافی لوگ تشریف لے آئے تھے۔ خوب چہل پہل، گفتگو رہی، ایک سال کے بعد ملنے پر بہت سی باتیں کرنا تھیں وہ کر ڈالیں۔ ہماری میٹنگز ایک طے شدہ طریقہ کار سے شروع کی جاتی ہیں، پہلے سیکریٹری جنرل مجھ سے شروع کرنے کی اجازت لیتے ہیں پھر تلاوت قرآن ہوتی ہے پھر وہ ان تمام کارکنوں اور پاکستانیوں کے لئے دُعائے مغفرت مانگتے ہیں جو رحلت فرما چکے ہوتے ہیں، پھر تمام بیماروں کی صحتیابی کی دعا مانگتے ہیں اس کے بعد پاکستان کی سلامتی اور حفاظت کی دُعا مانگتے ہیں اور پھر ایجنڈے پر جو پوائنٹس ہوتے ہیں ان کو ہم حل کرنا شروع کردیتے ہیں۔

یکم اکتوبر کو جو فنکشن ہوتا ہے اس میں یہ اضافہ ہوتا ہے کہ قرآن کی تلاوت اور مرحومین کی مغفرت، بیماروں کی صحتیابی کی دعاکے بعد سالانہ رپورٹ سیکرٹری جنرل پیش کرتے ہیں اور پھر سیکرٹری فنانس مالی حالت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد بجٹ کی منظوری دی جاتی ہے اور پچھلے سال کے مالی حالات پر چارٹرڈ اکائونٹنٹ (یعنی آڈیٹرز) کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے اس کے بعد ممتاز بزرگ کو شیلڈ پیش کی جاتی اور ان کی کارکردگی، کوائف پر تحریر (تعریف) پیش کی جاتی ہے۔ اس سال کا ممتاز سینئر سٹیزن کا ایوارڈ ڈاکٹر جاوید حنیف صاحب کو دیا گیا جن کی کارکردگی کا ریکارڈ سب کیلئے قابلِ رشک و تحسین ہے۔ آپ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ممتاز سائنسدان رہے ہیں۔ پروفیسر اور لاتعداد سلیکشن بورڈز کے ممبر بھی رہے ہیں۔ ہمارے درمیان ان کی موجودگی باعثِ مسرت اور عزّت ہے۔ یہ نہایت باقاعدگی سے ہر ماہ ہماری میٹنگز میں شرکت کرتے ہیں۔ کافی اور کیک کے شوقین ہیں اور میں میٹنگ میں چائے، چکن پیٹز کے علاوہ کافی کیک کا انتظام خاص طور پر کرتا ہوں۔ یہ تمام میٹنگز میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں، اچھے مشورے دیتے ہیں اور دفتری کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ اللہ پاک اُن کو طویل، تندرست زندگی عطا کرے اور خوشیاں دے۔ آمین۔

دوسرا سینئر سٹیزن ایوارڈ بعد رحلت جناب مرحوم ڈاکٹر نصیر بخش کو دیا گیا جو ان کی بیگم صاحبہ نے وصول کیا۔ ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ آپ آنکھوں کے امراض کے ماہر تھے، تقریباً تین کروڑ کی لاگت سے ایک اعلیٰ اسپتال مندرہ میں بنایا اور دو سال بعد یعنی 2005میں اس کو مشہور اسپتال LRBTمیں شامل کردیا۔ کنگ ایڈورڈ کالج لاہور نےان کی ممتاز خدمات کے بدلے گولڈ میڈل دیا تھا اور آنکھوں کی سوسائٹی پشاور نے بھی گولڈ میڈل دیا تھا۔ آپ کا انتقال 2011میں ہوا تھا۔ اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین

آئیے اَب بزرگان پاکستان کودرپیش مشکلات کا جائزہ لیتے ہیں۔

(1)سینئر سٹیزنز بل حکومت سندھ، کے پی اور بلوچستان نے پاس کردیئے ہیں اور اس کےمثبت اثرات ضرورتمندوں تک پہنچنے لگے ہیں۔ بدقسمتی (یا نااہلی) سے اب تک اسلام آباد اور پنجاب کے حکمرانوں نے یہ قانون پاس نہیں کیا۔ پنجاب مُلک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کی وجہ سے لاکھوں لوگ اس سے متاثر ہورہے ہیں۔(2)حکومت نے جو میڈیکل الائونس جولائی 2010میں منظور کیا تھا وہ بالکل بیکار اور ناکافی ہے، دوائوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں دوائیں نایاب ہیں، بزرگ و پنشنرز حضرات اس کے سب سے بڑے شکار بنے ہیں۔ ضروری ہے کہ فوراً بزرگ افراد کے میڈیکل الائونس میں اضافہ کیا جائے۔(3)حکومت نے 85سالہ اور اس سے زیادہ عمر والوں کے لئے پینشن میں 25فیصد اضافہ کیا تھا۔ اس عمر کے بزرگ ایک فیصدی بھی نہیں یہ صرف مذاق کیا گیا ہے۔ حکومت سے درخواست ہے کہ براہ مہربانی عمر کی حد 75سال کردی جائے تاکہ کم از کم کچھ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔(4)گروپ انشورنس کی رقم پنجاب اور اسلام آباد میں ادا کرنے کی سخت اور جلد ضرورت ہے۔(5)’بزرگانِ پاکستان‘ کے پاس کوئی مستقل دفتر نہیں ہے۔ CDAاور حکومت سے بار بار درخواست کی ہے کہ دس مرلے یا ایک کنال کا پلاٹ یا مکان دے دیا جائے کہ ہم لوگ کہیں بیٹھ کرحکومت کی مدد کرسکیں۔

اس تنظیم میں 50,40سال کا تجربہ رکھنے والے افراد شامل ہیں اور اکثر گریڈ 22کے پنشن یافتہ ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ انکے تجربے سے فائدہ اُٹھائے۔ تمام بزرگان سے درخواست ہے کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اپنی آواز اُٹھائیں تاکہ وہ موثر ہو سکے اور حکومت انکی مشکلات پر توجہ دے۔

ادارتی صفحہ سے مزید