آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مصنّفہ: فاطمہ صغریٰ قادر

صفحات: 310

قیمت: 2000روپے

ناشرSoftlines:، آفس نمبر 17، میزنائن فلور، محمّدی پرائڈ، پاکستان چوک، کراچی

زیرِتبصرہ کتاب، محض ایک آٹو بائیو گرافی نہیں، یہ ایک پوری نسل، تہذیب، دَور کا احاطہ اور ایک بہت سَچّی، سُچّی، صاف، کھری، خالص مشرقی عورت کی تگ و دو سے بھرپور زندگی کا خلاصہ ہے۔ اُس زندگی کا خلاصہ، جس میں خوشیوں کے موتی بھی غم کے سیاہ بادل ہی سے چَھن کر آتے ہیں، اُس زندگی کا خلاصہ، جس کی ہر راہ میں اتنی اونچی نیچی پگڈنڈیاں، عشقِ پیچاں کی نازک مگر بہت گنجلک بیل کی طرح اتنی بھول بھلّیاں ہیں کہ منزل تک پہنچتے پہنچتے تو حیاتی کا سارا رَس ہی نُچڑ جاتا ہے۔ یہ سوانح عُمری صرف فاطمہ صغریٰ قادر ہی کی نہیں، بلکہ میری، آپ کی ماں، خالہ، پھپھو، چاچی، تائی، نانی، دادی سب کی داستانِ حیات ہے۔ 

یہ ہر اُس عورت کی دل گدازکہانی ہے، جس کی پوری زندگی عشق سمندر میں غوطےکھاتے، عشق بھنور میں چکراتے چکراتے ہی گزر جاتی ہے۔ اچھی بیٹی، اچھی بہن، اچھی بیوی، اچھی بہو اور اچھی ماں بنتے بنتے جیون نیّا کنارے آلگتی ہے اور خبر بھی نہیں ہوتی۔

فاطمہ صغریٰ قادر نے اپنی زندگی کے ’’عشقِ پیچاں‘‘ جیسے سفر کو اِس آپ بیتی میں اس سادگی و عُمدگی اور مربوط و منظّم انداز سے رقم کیا ہے کہ قاری 310 صفحات کی نسبتاً ضخیم کتاب کو بھی محض ایک ہی نشست میں ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور نہ بھی کرسکے، تو کم از کم اُدھوری نہیں چھوڑ پاتا، جب کہ مکمل کرلینے کے بعد بھی اِس کے سحر سے نکلنا آسان نہیں۔ 

یہ آپ بیتی، ہر عورت ہی کے لیے نہیں، ہر مرد کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔ اُن مردوں کے لیے بھی جو عورت کو ناقص العقل، خود سے بہت کم تر جانتے ہیں اور اُن مردوں کے لیے بھی، جنہوں نے فاطمہ صغریٰ قادر کے ’’ریاض منزل‘‘ سے شروع ہونے والے ’’عشقِ پیچاں‘‘ جیسے گُھمّن گھیر سفر میں پَل پَل سایہ کیے رکھا۔ کتاب کا سرِورق ’’عشقِ پیچاں‘‘ کی بیل میں گِھری مصنّفہ کی سادہ سی تصویر سے مزیّن ہے۔ 

انتساب، مصنّفہ کے ’’ہم نفس‘‘ کے نام ہے، تو شان دار پیش لفظ متین فاروقی نے لکھا۔ کاغذ اچھا، طباعت عُمدہ، پروف کی غلطیاں نہ ہونے کے برابر اور سونے پہ سہاگا مختلف ابواب کے ساتھ، یادگار تصاویر کا حُسنِ انتخاب، بلا شک و گماں کہا جاسکتا ہے کہ اس آپ بیتی کو پڑھنا کسی کارِ ثواب سے کم نہیں ۔