آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

لیڈی گاگا اسٹیج سے کیسے گرگئیں؟

لیڈی گاگا دوران کانسرٹ اسٹیج سے گر گئیں


معروف امریکی گلوکارہ لیڈی گاگا اپنے کنسرٹ کے دوران اسٹیج سے سر کے بل گرگئیں تاہم انہوں نے اپنے کنسرٹ کا اختتام نارمل انداز میں کیا۔

امریکی ریاست لاس ویگاس میں اپنے کنسرٹ کے دوران انہوں نے اپنے مداحوں کو مزید محظوظ کرنے کے لیے ڈانس کا بھی اعلان کیا ۔

لیڈی گاگا نے گانا ’ملین ریزنز‘ گانے سے قبل حاضرین میں سے جیک نامی ایک مداح کو اسٹیج پر بلایا۔

جیک کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے جیک اپنا توازن قائم نہیں رکھ سکے اور دونوں اسٹیج سے سر کے بَل گر گئے۔

اس حادثے کے رو نما ہوتے ہی کنسرٹ میں بھگدڑ مچ گئی ۔ کنسرٹ میں موجود حاضرین سمجھے کہ لیڈی گا گا مر چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: گولڈن گلوب ایوارڈز، لیڈی گاگا نے میدان مار لیا

لیکن اس کے باوجود لیڈی گاگا اور جیک دونوں دوبارہ اسٹیج پر آئے اور کنسرٹ جاری رکھا۔

حادثے کے بعد جیک رونا شروع ہوگئے تھے، لیڈی گاگا نے جیک کو تسلی دیتے ہوئے واپس اسٹیج پر بلایا اور اپنے کنسرٹ میں موجود حاضرین سے کہا کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ اسٹیج سے ہی نیچے گر گئے۔

انہوں نے اپنی اور جیک کی محبت کو مشہور زمانہ فلم ٹائیٹینک کے مرکزی کردار جیک اور روز قرار دیا۔

لیڈی گاگا کے مداحوں نے اس ناخوشگوار واقعے کے بعد کنسرٹ کو جاری رکھنے پر اُن کا شکریہ بھی ادا کیا۔

کنسرٹ کے اختتام پر انہوں نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے اگلے کنسرٹ کی تمام تر تفصیلات بتائیں۔

یہ بھی پڑھیے: گریمی ایوارڈز، لیڈی گاگا نےمیدان مار لیا

اس حادثے کے بعد سے لیڈی گاگا کے مداحوں کو ان کی صحت کے حوالے سے کافی اندیشے تھے تاہم انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ایک تصویر اپلوڈ کی اور بتایا کہ وہ بلکل ٹھیک ہیں۔


آسکر ایوارڈ یافتہ امریکی پاپ گلوکارہ لیڈی گاگا کو پوری دنیا میں جانا جاتا ہے، وہ جہاں بھی کنسرٹ کرنے جاتی ہیں تو مداحوں اور شائقین کی ایک بڑی تعداد ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے پہنچ جاتی ہے۔

نا صرف ان کے گانے بلکہ وہ بیوٹی آئیکون کے طور پر بھی خوب شہرت رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ان کے لاکھوں کروڑوں شائقین انہیں دیکھنے اور سننے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید