آپ آف لائن ہیں
ہفتہ یکم صفرالمظفر 1442ھ19؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: ۔ اخبار میں نوافل کے متعلق پڑھا، اس سلسلے میں مزید رہنمائی فرمائیں ، کیوں کہ اکثر لوگ کسی بات کے پورا ہونے کے نفل مان لیتے ہیں ، کیا یہ صورت جائز ہے، میرا خیال یہ ہے کہ ہمیں اس بات کے پورا ہونے پر شکرانہ کے نفل پڑھنے چاہییں۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔(سید محمد طارق، سعودی عرب)

جواب:۔ کوئی شخص اگر یہ کہے کہ کہ میرا فلاں کام ہوگیا تو میں اتنے نفل پڑھوں گا تو یہ نذر کہلاتا ہے۔اس کا حکم یہ ہے کہ جب وہ کام ہوجائے تو اس شخص پر اتنے نفل پڑھنا واجب ہے،جب کہ شکرانے کے نوافل پڑھنا واجب نہیں ہے۔اس سے دونوں میں فرق بھی واضح ہے کہ شکرانے کے نوافل پڑھناکار ثواب ہے، مگر نہ پڑھنے میں گناہ بھی نہیں ہے،جب کہ نذر کے نفل نہ پڑھے تو واجب ذمے پر باقی رہتا ہے۔(شامی ۲؍۷۵ ۔ہندیہ ۱؍۱۱۵)