آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دیہات میں حقّہ عام, شہروں میں پابندی بلاجواز ہے، معاذ شاہ

دیہات میں حقّہ عام, شہروں میں پابندی بلاجواز ہے، معاذ شاہ


آل پاکستان کیفے اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن نے پاکستان میں سگریٹ نوشی اور دیہات میں حقّے کے عام استعمال کی طرح ملک بھر میں شیشہ پینے کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے میڈیا کوآرڈینیٹر سید معاذ شاہ اور لیگل ایڈ کے سربراہ  شفیق احمد نے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیشہ انڈسٹریز پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اسٹینڈرڈ کے مطابق قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے شراب نوشی پر قانون تو بنا ہوا ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا بلکہ شیشہ نوشی کو شراب سے بھی زیادہ بدتر اور خطرناک ظاہر کیا جا رہا ہے، حالانکہ شیشے میں فلیور کے سوا کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو نشہ آور ہو۔

انہوں نے بتایا کہ غیراسلامی ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں تمام اسلامی ملکوں کے کیفے یا ریسٹورنٹس میں شیشہ پینے کا رواج عام ہے۔ کسی بھی ملک میں شیشہ پینے سے کبھی بھی کوئی بیماری سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں اس انڈسٹری کو قانونی شکل دی گئی ہے وہ ممالک اس کاروبار سے اچھا خاصہ ریونیو کما رہے ہیں۔ پاکستان میں اگر شیشہ پر غیر قانونی پابندی ختم کی جائے تو یہاں پر بھی کروڑوں کا ریونیو حکومت کو دیا جاسکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سگریٹ نوشی پر جو قانون سازی کی گئی ہے وہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے تو پھر شیشے پرعالمی ادارہ صحت کے قوانین کے عملدرآمد کو کیوں فالو نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس رپورٹس موجود ہیں کہ شیشہ پینے سے نہیں بلکہ سگریٹ نوشی سے نقصان ہوتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن نے ماضی میں بھی ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جو اس کاروبار کی آڑ میں غیرقانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

وہ مستقبل میں بھی ایسے عناصر کے خلاف کاروائی جاری رکھیں گے، ہماری ایسوسی ایشن اس بات کی یقین دہانی کراتی ہے کہ شیشے پر قانون سازی کے بعد ہم 18 سال سے کم عمر بچوں یا طلبا و طالبات کو شیشہ فراہم نہیں کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے گاؤں دیہات میں آج بھی لاکھوں بزرگ اپنے حقّہ نوشی کی روایت برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ یہی کام سلجھے ہوئے انداز میں شہروں میں کرنے پر انتہائی خطرناک جرم قرار دیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے اس حوالے سے قانون سازی کا حکم دیا ہے جبکہ پولیس اور متعلقہ اداروں نے تابڑ توڑ کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جس کے خلاف ان کی دائر کردہ اپیل اعلیٰ عدلیہ نے سماعت کیلئے منظور کر لی ہے۔

پریس کانفرنس میں ایسوسی ایشن کے عہدے داروں نے صحافیوں کو شیشہ بھی پیش کیا۔

قومی خبریں سے مزید