آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

رشتوں کے بھرم چکنا چور ہونے لگیں تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرہ زوال پذیر ہونے کے درپے ہے۔ ان رشتوں میں سیاسی رشتے بھی بہت اہم ہیں۔ وہ باہمی رشتہ حکومت اور عوام کے مابین ہو یا سیاستدان اور کارکن کے درمیان۔ رشتہ تو رشتہ ہوتا ہے اس کے ساتھ ’’اہم‘‘ لفظ بھی ایک اضافت ہے۔ اہم یا اہمیت تو ازخود رشتے میں پنہاں ہے۔ لیڈر اور عام سیاست دان کے بیچ کا رشتہ گر کمزور ہونے لگے تو سوسائٹی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ گویا رشتہ گھر تک محدود ہو یا اس کی وسعتوں کا پھیلاؤ ملک کے کوچہ و بازار تک ہو، اس کا بھرم نہ رکھنا غیر فطری و غیر سماجی اور غیر سیاسی و غیر اخلاقی نہیں تو کیا ہے؟

عہدِ حاضر میں کنفلکٹ مینجمنٹ ایک سائنس بن چکی ہے جسے سمجھنا حقیقت میں بناؤ کو سمجھنے کے مترادف ہے۔ ملک کوئی بھی ہو حزب اختلاف اور حزب اقتدار ایک ہی آسمان تلے ہوتے ہیں، دونوں کو عوام ہی ایوانوں کی زینت بناتے ہیں اور بظاہر دونوں عوام ہی کیلئے سیاسی و جمہوری دھینگا مشتی میں مصروف ہوتے ہیں تاکہ اپنے اپنے حصہ کے عوام منقسم رکھ سکیں۔ اس تقسیم کا عوام کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے یا سیاست دانوں کو، کیا عوام اسے سمجھتے ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ عوام تو عوام ہیں، اِدھر کے ہوں یا اُدھر کے۔ اوپر اگر ایک سیاسی و پارلیمانی افق ہے تو نیچے عوام کو بھی ایک جانا جائے گا تو ہی گلشن کا کاروبار چلے گا۔ اس ڈیجیٹل دور میں سب ڈیجیٹل دکھائی دیتا ہے حتیٰ کہ سیاست دان بھی، چاہے وہ دائیں بازو کا ہے یا بائیں بازو کا یا ’’بے بازو‘‘، مذہبی سیاست کار بھی دیگر عمائدین و قائدین کی طرح سو فی صد ڈیجیٹل ہیں لیکن عوام تاحال نصف صدی پیچھے ہیں، اور یہی وہ وجہ ہے کہ ہم اور ہماری جمہوریت دائروں کے سفر سے باہر نہیں نکلتی!

امریکہ امریکہ کیوں نہ ہو ،حالانکہ سیاسی لابنگ وہاں پر بھی ہے بلکہ بڑے بڑے لابسٹ بڑے مہنگے خریدے جاتے ہیں، سازگار ماحول بنانے اور مطلوبہ نتائج کے حصول کیلئے شعلہ بیانیوں و الزام تراشیوں سے کام بھی لیا جاتا ہے، سیاست دان وہاں بھی آپے سے باہر ہوتا ہے تاہم ان چیزوں کے باوجود حب الوطنی کے سرٹیفکیٹس چھینے جاتے ہیں نہ بانٹے جاتے ہیں، گویا عوام اعتدال سے باہر نہیں نکلتے۔ ریکارڈ کی درستی کیلئے یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ وہاں پارٹیاں ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے علاوہ بھی ہیں، پنٹاگون کو بھی دوام میسر ہے لیکن عوام کے سرپرائز دینے کا یہ عالم ہے کہ ٹرمپ کو خواتین نے زیادہ ووٹ دیے اور ہلیری کلنٹن کو کم۔ آخر کیوں؟ لوگوں، بلکہ پورے پاکستان کو بھی یہی امید تھی کہ ہلیری میدان مار لے گی۔ لیکن امریکہ میں مقیم ہمارے کرم فرماؤں نے بتایا کہ بہت سی امریکی خواتین کا مؤقف تھا کہ ہلیری نے اپنے صدر میاں کو مواخذے سے بچا کر یہ ثابت کیا کہ اس کے نزدیک فیملی افیئر اور اقتدار عورت کے حقوق اور اصول سے زیادہ مقدم تھا، پس وہ ہمارے لئے کیا کرے گی؟ گھر، در اور دستار بچانے کے لئے رکھا بھرم آگے آکر باقی سب کا محافظ تو رہا مگر سیاسی سطح پر پھر سے دستار بندی کا سبب نہ بن سکا! ایک بھرم کا عالم یہ بھی کہ برطانیہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، اسرائیل اور سعودیہ جیسے ممالک اخلاقی بھرم پر چلتے ہیں، وہاں کوڈیفائیڈ آئین ہی نہیں!

عالم یہ کہ حزب اختلاف یا حزب اقتدار مجموعی بھرم یا اپنے ’’حصے کے عوام‘‘ کا جتنا بھی بھرم نیست و نابود کر دیں یا عوامی آنکھوں کے امید کے دیپ جب چاہیں بجھائیں اور خواب جیسے چاہیں چھین لیں۔ ہم عوام کو ان سے پیار ہے۔ اور وہ بھی اندھا۔ ’’مارچ اور دھرنے کی داستانِ حسرت اور... یہ سیاست اپنے نصراللہ کی تلاش میں ہے‘‘ سے لے کر ’’پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا مشترکہ بارہواں کھلاڑی/ مارچ میں دم نکلا/ وہ لیفٹ میں کہ لیفٹسٹ اس میں‘‘ تک اپنی استدعا تو ایک ہی رہی کہ جمہوریت کا تسلسل اور پانچ سالہ دورانیہ ضروری ہے مگر دھاندلی زدہ حلقوں، نیب کے تحفظات، الیکشن کمیشن پر حرف، چند وزراء کی عاقبت نااندیشیوں، پروڈکشن آرڈرز اور بیماروں کی حالت پر گفت و شنید کسی کی جیت یا ہار نہیں، جمہوریت کو دوام بخشنے والی بات ہے۔ جمہوریت کی رسوائی اور پسپائی نہیں ہونی چاہئے، یہ چھوٹی موٹی پسپائیاں جمہوریت کا حسن ہوا کرتی ہیں۔

خیر، نوابزادہ نصراللہ تو نہیں ملا تاہم چوہدری برادران کی صورت میں کچھ عکس ضرور نظر آیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ پر بھی تحفظات اپنی جگہ، مگر نواز شریف اور زرداری صاحب کے علاج کی مثبت بات انہوں نے بھی کی اور چوہدری شجاعت نے بھی، حکومتی حلیف ایم کیو ایم کی طرف سے بھی یہی بات سامنے آئی۔ جو بھی کہیں یہ مولانا مارچ کے آفٹر افیکٹس ہیں، اس سے قبل اتحادی بہر صورت ’’اصلی وزراء‘‘ کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے تھے، حکومت سخت گیر اور زبان آگ اگلتی تھی، کوئی خم تھا نہ غم۔ کل پرسوں سوا سال بعد اگر پارلیمنٹ میں تقریباً 9آرڈیننس واپس لینے اور ان کی پارلیمانی کمیٹیوں میں از سر نو مذاکرات کی بات ہوئی ہے اور حکومت نے علم و حکمت سے کام لیا ہے تو یہ بھی کوئی پسپائی نہیں، جمہوریت کی شاہراہ پر آنے کی پہلی کاوش ہے۔ اپوزیشن نے بھی ایک بھرم کو رواج بخشا کہ ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی۔ اللہ کرے یہ حکومت کسی قانون سازی کی طرف پہنچے مگر اس کے لئے بھرم رکھنا ہوگا ۔ لگتا ہے مولانا کا پلان بی ابھی کچھ ثمرات دے گا مگر مولانا نظم والا بھرم نہ ٹوٹنے دیں تو بہرحال تحریک کے سبب تاریخ مرتب ہوگی۔ اس دوران پیپلز پارٹی اور بلاول تدبّر اور زرداری استقامت اور نون لیگی سیاست قابل تعریف رہی۔

پرویز الٰہی انکشاف ہے کہ مولانا نے ’انڈر اسٹینڈنگ‘ سے اسلام آباد مارچ ختم کیا، حکومت سے گفتگو ہمارے ذریعے ہوئی۔ ہم نے جو دے کر بھیجا ہے وہ ’’امانت‘‘ ہے۔ یہ سب درست اقدام سو اس ’’انڈر سٹینڈنگ- امانت‘‘ کا بھرم بھی ضروری ہے۔ آگے بڑھنا ہے تو قومی بھرم درکار ہے۔ بھٹو نے 73ء کے آئین میں کتنے سیاسی و مذہبی اور عسکری و سماجی رشتوں کے بھرم رکھے، اسے کہتے ہیں سیاسی و غیر سیاسی بھرم اور لیڈر شپ!