آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان ٹیکسز اور پاور ٹیرف میں استحکام رکھے، چین

پاکستان ٹیکسز اور پاور ٹیرف میں استحکام رکھے، چین


چین نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ٹیکسز اور بجلی کے نرخ میں استحکام برقرار رکھے۔

چین پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کو فعال بنانے کے لیے مزید مستحکم توانائی مارکیٹ اور بہتر تعلقات استوار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

چینی حکام نے باضابطہ بات چیت کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مزید بڑھانے اور سی پیک کی بدلتی پالیسیوں کی وجہ سے پڑنے والے اثرات کا مشاہدہ کرنے پر زور دیا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان اور چین نے مستحکم پالیسی اور پائیدار ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

دونوں فریقین نے سی پیک کے تحت تمام منصوبوں کا جائزہ لینے اور ان کی اجازت دینے کی رضامندی پر اتفاق کیا۔

تمام منصوبے پاکستان کی پالیسی اور ریگولیٹری فریم ورک کے ماتحت ہیں۔ دوسری جانب چین نے پاکستان کو ٹیکسز اور پاور ٹیرف میں استحکام برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے۔

صنعتی تعاون پر سی پیک کے تحت قائم مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) کے مطابق چینی کمپنی چائنا انٹرنیشنل انجینئرنگ کنسلٹنگ کارپوریشن (سی آئی ای ای سی) کی جانب سے چینی ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی گئی تھی۔

ٹیم نے 14 سے 19 اکتوبر تک پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے پاکستانی صنعت کا جائزہ لیا۔

مذکورہ ٹیم نے پاکستان میں انڈسٹریل اور سی ای زی ترقی میں اہم تکنیکی اور ذہنی صلاحیت سے متعلق مدد فراہم کی تھی اور ان کے اس عمل کی وجہ سے ہی اچھے نتائج برآمد ہوئے۔

امید کی جارہی ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے پاک چین صنعتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے طویل مدتی طریقہ کار ترتیب دیا جائے گا۔

چینی حکام کی جانب سے امید کی جارہی ہے کہ پاکستان بہت جلد بیرونی انفرااسٹرکچر سہولیات نصب کرے گا، ہدف کے مطابق ترجیحی پالیسیاں متعارف کروائے گا اور ایس ای زی کے لیے ’ون ونڈو‘ سروس فراہم کرے گا۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے پاکستان اسٹیل ملز کی بہتری کو اولین ترجیحات میں شامل کر لیا ہے جبکہ چینی حکام بھی اس منصوبے کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہیں۔

اس وقت میٹل لرجیکل کارپوریشن آف چائنا (ایم سی سی) اور ڈونگوا اسٹیل نے اس منصوبے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

دونوں ممالک کے حکام نے بلوچستان سولر پاور لائیٹننگ ایکوپمنٹ، پینے کے پانی کی فراہمی جن میں کے پی میں شمسی توانائی سے چلنے والے پمپس اور آزاد جموں و کشمیر میں اسی طرح کے فلٹریشن پلانٹس سمیت دیگر اہم منصوبوں کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔