آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ادارے آئینی راستے سے معاملات طے کریں

ریاستی معاملات جن اداروں کے ذریعے چلتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے بارے میں گفتگو اگرچہ احتیاط کا تقاضا کرتی ہے مگر بعض اداروں کی حساس ذمہ داریوں کے پیش نظر یہ ضرورت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر ایسی صورت میں کہ بات کرنیوالی شخصیت مملکت کے اہم ترین منصب کی حامل ہو اورگفتگو عدلیہ جیسے ادارے سے متعلق ہو جسکے احترام اور وقار کو برقرار رکھ کر ہی نظام انصاف پر اعتماد قائم رکھا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان پیر 18نومبر کو ایک تقریب میں جب علیل سابق وزیراعظم کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بیرون ملک بھیجنے کی بات کررہے تھے تو ان کی یہ خواہش درست تھی کہ قانون طاقتور اور کمزور کیلئے یکساں ہونا چاہئے۔ مگر یہ خواہش حکومت کی انڈیمنٹی بانڈ جمع کرنے کی شرط کے دونوں بھائیوں کے دستخطوں سے حلفیہ یقین دہانی داخل کرنے کی شرط میں بدلے جانے کے جس پس منظر میں سامنے آئی اس میں اظہار تحفظ کا ایسا پہلو نمایاں ہے جو عوامی تقریب میں سامنے نہ آتا تو زیادہ اچھا ہوتا۔ عدلیہ تک اپنے تاثرات پہنچانے کے لئے اٹارنی جنرل، وزارت قانون اور خط لکھنے جیسے طریقے دنیا بھر میں موجود ہیں اور یہاں بھی انہیں بروئے کار لانا شاید زیادہ مناسب ہوتا۔ دوسری جانب عدلیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جج اپنے فیصلوں کے ذریعے بولتے ہیں مگر امریکہ سے شروع

ہونے والی بعض روایات سے ججوں کے بولنے کے دوسرے طریقوں پراُس طرح کی قدغن نہیں رہی جیسی بیان کی جاتی ہے۔ وطن عزیز میں فاضل جج صاحبان کے ایسے خطبات کی مثالیں موجود ہیں جن میں بعض سوالات کے جوابات اور وضاحتیں ملتی ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کی موبائل ایپ اور ریسرچ سینٹر کی افتتاحی تقریب میں خطاب کے دوران واضح کیا کہ وزیراعظم نے جس کیس کی بات کی وہ چونکہ زیر التوا ہے اسلئے اس پر وہ بات نہیں کرینگے مگر طاقتور اور کمزور کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنےسب برابر ہیں۔انکی گفتگو کا ایک اہم نکتہ یہ بھی تھا کہ امیروں اور غریبوں دونوں کو انصاف فراہم کرناعدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جن افراد کو باہر بھیجا گیا انہیں باہر جانے کی اجازت آپ (حکومت)نے دی۔ا نکا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم ہمارے منتخب نمائندے ہیں وہ اپنے بیان پر غور اور احتیاط کریں۔یہ بات ،خاص طور پر توجہ طلب ہے کہ آج کی عدلیہ کا موازنہ 2009ء کی عدلیہ سے نہ کیا جائے، یہ عدلیہ مختلف اور آزاد ہے ،ایک خاموش انقلاب آچکا ہے، اگر کوئی شخص میڈیا کی مہربانی سے طاقتور بن گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان 36لاکھ سے زائد ناتواں افراد کو بھول جائیں جن کو عدلیہ نے دن رات محنت کرکے انصاف فراہم کیا۔ فاضل چیف جسٹس کابیان کردہ یہ نکتہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے کہ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں ایک وزیراعظم نااہل اور دوسرے وزیراعظم سزا یافتہ قرارپائے جبکہ ایک سابق آرمی چیف کا 28نومبر کو فیصلہ آنے والا ہے۔ یہ سب باتیں اہم ہیں۔ مگر حکومت اور عدلیہ کے حوالے سے ماضی کےبعض واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے اداروں کے درمیان رابطوں کے مربوط نظام کی ضرورت بہرطور سامنے آتی ہے۔ چیف جسٹس کا مقدمات کے فیصلوں کے حوالے سے انتہائی نمایاں کردار عدلیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات سےمزید درخشاں ہوگیا ہے۔ وزیراعظم بھی ان کی توصیف کرتے رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ سیاسی ادارے اور انصاف کے ادارے مل کر ایسا نظام وضع کریں جس میں ایک دوسرے کو تحفظات اورجذباتِ تحسین سے آگاہ کرنا ممکن ہو۔ زیادہ بہتر ہوگا کہ اس قسم کے معاملات کو آئینی بندوبست کے اندر رہ کر نمٹایا جائے۔