• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا 2026 میں اسمارٹ فونز ختم ہو جائیں گے؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کیا 2026 میں اسمارٹ فونز ختم ہو جائیں گے؟ ماہرینِ ٹیکنالوجی نے تشویشناک پیش گوئی کردی۔

تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) کی غیر معمولی ترقی نے اسمارٹ فونز کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ ڈیوائس جو کبھی ذاتی اور پورٹیبل ٹیکنالوجی کی پہچان سمجھی جاتی تھی، اب ممکن ہے کہ آئندہ چند برسوں میں اپنی موجودہ شکل میں غیر متعلق ہو جائے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ تاثر تیزی سے پھیل رہا ہے کہ 2026 وہ سال ہو سکتا ہے جب اسمارٹ فونز جیسا ہم آج جانتے ہیں، اپنی افادیت کھونے لگیں گے، اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ مصنوعی ذہانت اور نئے، زیادہ قدرتی انٹرفیسز پر مبنی ڈیوائسز کا ظہور ہے۔

ٹرو وینچرز (True Ventures) کے شریک بانی جان کالاہین کے مطابق اسمارٹ فونز پر ہمارا انحصار آنے والے برسوں میں نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ ہم پانچ سال بعد اسمارٹ فونز اسی طرح استعمال کر رہے ہوں گے، یا یوں کہہ لیں کہ ہم انہیں بالکل مختلف انداز میں استعمال کر رہے ہوں گے، یہ محض ایک اندازہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، جس پر ٹرو وینچرز عملی طور پر سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔

جان کالاہین کا مؤقف ہے کہ اسمارٹ فونز انسانی اور کمپیوٹر کے درمیان رابطے کا ایک غیر مؤثر ذریعہ ہیں، جس طرح ہم آج پیغام بھیجنے کے لیے فون نکالتے ہیں، وہ طریقہ انتہائی غیر مؤثر ہے، یہی خامی نئی متبادل ٹیکنالوجیز کے لیے راستہ ہموار کر رہی ہے، جو انسان اور ٹیکنالوجی کے درمیان زیادہ فطری اور آسان رابطہ فراہم کر سکتی ہیں۔

ٹرو وینچرز گزشتہ کئی برسوں سے ایسے متبادل حل تلاش کر رہا ہے، ان میں ایک نمایاں مثال سینڈبار نامی وائس ایکٹیویٹڈ انگوٹھی ہے، جو آواز کے ذریعے خیالات محفوظ اور منظم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کالاہین اس ڈیوائس کو خیالات کا ساتھی قرار دیتے ہیں، جو ایک ایسی بنیادی انسانی ضرورت کو پورا کرتی ہے جسے موجودہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر پورا نہیں کر پا رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق اسمارٹ فون مارکیٹ کی سالانہ ترقی کی شرح محض 2 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ اس کے برعکس ویئرایبل ڈیوائسز جیسے اسمارٹ واچز اور وائس بیسڈ آلات ترقی کر رہے ہیں۔

یہ رجحان صارفین کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ بھاری اور پیچیدہ ڈیوائسز کے بجائے ایسی ٹیکنالوجی استعمال کریں جو روزمرہ زندگی میں زیادہ آسانی سے ضم ہو سکے۔

جان کالاہین کے مطابق ٹیکنالوجی کا مستقبل محض پرانے آلات کو اپ گریڈ کرنے میں نہیں بلکہ نئے رویوں اور نئے انٹرفیسز متعارف کرانے میں ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ اصل قدر تخلیق ٹیکنالوجی کی ایپلیکیشن لیئر میں ہو گی، جہاں انسان معلومات اور ایک دوسرے سے بالکل نئے انداز میں رابطہ قائم کر سکیں گے۔

2026 کے قریب آتے ہوئے یہ سوال بدستور موجود ہے کہ آیا اسمارٹ فونز واقعی ماضی کا حصہ بن جائیں گے یا نہیں، تاہم مارکیٹ کی سیرشدگی، متبادل ڈیوائسز کی تیز رفتار ترقی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات اس تبدیلی کو ناگزیر بناتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر اسمارٹ فون مکمل طور پر ختم نہ بھی ہوں، تو یہ طے ہے کہ انسان اور ٹیکنالوجی کا تعلق آئندہ برسوں میں یکسر بدل جائے گا اور شاید اسمارٹ فون اس کہانی کا مرکزی کردار نہ رہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید