آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بھارتی فوجی جب سیاچن بیس کیمپ پہنچتے ہیں، توان کا پہلا سواگت نمایاں طور پر لکھی ہوئی یہ تحریر کرتی ہے ۔ ’’ یہ زمین اس قدر سرد وویران اور پہاڑ اس قدر بلند ہیں کہ ہماری ملاقات کیلئے بدترین دشمن آسکتا ہے ، یا بہترین دوست۔ دشمن توزیادہ دور نہیں، مگر دوست شاید ہی کبھی ادھر کارخ کریں ۔یہ دنیا کابلند ترین میدان جنگ ہے جہاں ڈپلائمنٹ22ہزار فٹ کی بلندی پر بھی ہوسکتی ہے۔ یہاں دشمن کی بندوقوں اور توپوں سے کچھ زیادہ خطرہ نہیں ، کیونکہ بارہ برس ہونے کو آئے دونوں ملکوں کے درمیان فائر کاتبادلہ نہیں ہوا ۔ ہماری حقیقی دشمن یہاں کی فضا ہے ، برف ہے ، آسمان کوچھوتی چوٹیاں ہیں ، تنہائی ہے ، حتی کہ ہمارے ذہن اور جسم بھی بعض اوقات اس فہرست میں شامل دکھائی دیتے ہیں 75کلو میٹر طویل سیاچن گلیشیر ہمالہ کی مشرق قراقرم رینج میں واقع ہے ۔ لائن آف کنٹرول سرحدی پوائنٹNJ9842پر ختم ہوتی ہے ،اور سیاچن وہاں سے بجانب شمال شروع ہوتا ہے ۔ سیاچن تنازعہ کی اصل وجہ1949میں کراچی میں طے پانے والے پاک۔ بھارت سرحدی معاہدہ کی مبہم زبان میں مضمر ہے ۔ جو1947-48کی کشمیر جنگ کے بعد فریقین میں طے پایا تھا ۔ اور جس میںNJ9842تک کے شملہ معاہدہ میں سیز فائر لائن کو لائن آف کنٹرول کا نام دے دیا گیا ، مگرNJ9842کے اوپر کے علاقے کے حوالے سے ابہام بدستور برقرار رہا ۔

کیونکہ بظاہر فریقین میں سے کسی کوبھی اس بے پناہ دشوار گزار علاقے سے کوئی دلچسپی نہ تھی ۔معاملہ اس وقت گرم ہوا ، جب1984میں بھارت نے سیاچن پر قبضہ جمالیا اور پاکستان کوبھی جواباً دفاعی اقدامات کرنا پڑے ۔ تب سے ہرچند کے دونوں راویتی حریف اس یخ بستہ جہنم میں ایک دوسرے کے مقابل جمے بیٹھے ہیں ۔ اور دونوں طرف سے اس دوران دوہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں ۔ جن میں سے بہت کم ایک دوسرے کے اسلحہ کا نشانہ بنے زیادہ تر ہلاکتیں موسم کی شدت کے سبب ہوئیں 3فروری 2016کوسیاچن میں ایک بھارتی پوسٹ پر برفانی تودا گرا تھا ۔ جس کے نیچے دب کر دس فوجی ہلاک ہوگئے بمشکل تمام صرف ایک اہلکار لانس نائیک کو پڑ کو نکالا جاسکا تھا ۔ جو35فٹ گہری برف تلے چھ دن تک دبا رہنے کے باوجود زندہ تھا اور اسپتال پہنچ کر جاں بحق ہوگیاتھا ۔
تب سےبھارت بھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔ سیاستدانوں،میڈیا، سول سوسائٹی اور ریٹائرڈ ملٹری آفیسرز سمیت ہر کوئی سیاچن میں بے پناہ جانی اور مالی وسائل کے ضیاع پر سوال اٹھا رہا ہے ۔ تزویری حوالے سے بھی رائےعامہ منقسم ہے ۔ بعض تواسے سرے سے سیکورٹی ایشو تسلیم ہی نہیں کرتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں نے سیاچن کو خواہ مخواہ وقار کامسئلہ بنایا ہوا ہے ۔ حتی کہ انڈین آرمی کے ایک ریٹائرڈ ٹو اسٹار جنرل گپتاکی بھی یہی سوچ ہے ۔ جن کے مطابق سیاچن اس قدرخوفناک اور بے فیض علاقہ ہے کہ فریقین نے کبھی اسکی حدبندی کا بھی نہیں سوچا ۔ جو کاغذوں میں ہےاور نہ موقع پر ۔ فری فارآل قسم کی صورت حال ہے ۔ یہاں ہونے والی جنگ بھی انوکھی قسم کی ہے ۔ بس آنے والی گولی کے تعاقب میں جوابی فائر کردیا جاتا ہے ۔ ایسے میں دونوں ملکوں کودور اندیشی اور ژرف نگاہی سے مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا ۔ معروف بھارتی انگریزی اخبار ’’ دی ہندو ‘‘ نے اپنے ایک اداریے میں لکھا : ’’ سیاچن سے فوجیں نکالنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے ۔ فریقین کے مابین شاید یہ واحد مسئلہ ہے ، جسے باآسانی حل کیا جاسکتا ہے ۔ جسکے لئے دونوں جانب رائے عامہ بھی شاید یکساں طور پر ہموار ہے ۔ یہ انسانوں کی انسانوں کے ساتھ جنگ نہیں ، بلکہ فطرت کے خلاف محاذ آرائی ہے ، جسے کوئی جیت نہیں سکتا ۔ اس حوالے سے بے عملی اور تساہل بے حد نقصان دہ ہے کیونکہ محاذ پرامن ہی کیوں نہ ہو سیاچن کے بے رحم برفانی تودے اور طوفانی جھکڑ اپنا خراج وصول کرتے رہیں گے۔‘‘ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ اس حوالے سے البتہ مختلف ہے۔ ان کے نزدیک اس علاقے میں پاکستان اور چین کے بے پناہ مفادات ہیں۔ بھارت نے ذرا سی بھی کمزوری دکھائی تو یہ دونوں ممالک فوری طور پر اس کا فائدہ اٹھائیں گے اور سیاچن میں پوزیشن مضبوط بنانے کے بعد ان کا اگلا ہدف لداخ ہو گا جبکہ بعض عسکری تجزیہ نگار اس سوچ سے متفق نہیں۔ ریٹائرڈ بریگیڈیئر گرمیت کے مطابق سیاچن کی تزویری حیثیت کو خواہ مخواہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور چین کو اگر لداخ پر قبضہ کرنا ہو گا تو وہ سیاچن کے یخ بستہ جہنم کی راہ کیوں لینے لگے جبکہ لداخ تک پہنچنے کیلئے ان کے پاس بدرجہا بہتر آپشنز موجود ہیں۔ سو سیاچن پر بھارتی قبضہ لداخ پر چین، پاکستان یلغار کی راہ میں کسی طور رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر جیکب کا خیال ہے کہ سیاچن کے حوالے سے جو فضا اس وقت بھارت میں بنی ہوئی ہے، دونوں ملکوں کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ پاکستان اور بھارت باہمی تنازعات نمٹانے میں اگر واقعی مخلص ہیں تو سیاچن کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جانا چاہئے۔ پرو ایکٹو سفارت کاری جس کیلئے شاید ایک مناسب چینل ہو۔
انڈین آرمی کی نارتھ کمانڈ کے چیف لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہودا نے بھی زیادہ دن نہیں گزرے کہا تھا کہ انخلا سے پہلے گلیشئرپردونوں ملکوں کی گرائونڈ پوزیشن کا تعین اور نشاندہی کرنا ضروری ہوگا۔ 2011میں اس وقت کے بھارتی ایئر چیف مارشل پی وی نائیک نے فریقین کی گرائونڈ پوزیشن کے تعین کیلئے بین الاقوامی گارنٹی اور تعاون کی بات بھی کی تھی۔ اس حوالے سے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل گریوال کا کمنٹ البتہ کچھ دوسری قسم کاہے۔ موصوف کا کہنا ہے کہ سیکورٹی اور اسٹرٹیجی کے معاملات یوں بیچ چوراہے پر ڈسکس نہیں ہوتے۔ دس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کو بہانہ بنا کر سیاچن پر جاری بحث بھارت جیسی بڑی فوجی طاقت کے شایان شان نہیں۔ موسم کی شدّت سے گھبرا کر سیاچن سے انخلا کی بجائے جدید ساز و سامان کے ذریعے فوجیوں کی صلاحیت کار کو بہتر بنایا جائے۔ کل کلاں راجستھان کی لو سے گھبرا کر بھی کیا علاقہ خالی کر دو گے؟ موصوف نے انخلا کے حامیوں سے ایک اور نوکیلا سوال بھی پوچھا ہے کہ کوئی چار برس قبل اس سے کہیں بڑا سانحہ پاکستان کو پیش آیا تھا۔ سیاچن کے گیاری سیکٹر میں 129پاکستانی فوجی اور 11سویلینز ایک دیوہیکل برفانی تودے کے نیچے دب کر جاں بحق ہو گئے تھے جن کی لاشیں بھی چھ مہینے کی مشقّت کے بعد نکالی جا سکی تھیں۔ وہاں تو کسی نے سیاچن سے فوج کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا تھا تو بھارت بھر میں ہنگامہ سا کیوں برپا ہے؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں