آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا خواتین پر تشدد کے خاتمے کے حوالے سے عالمی دن کے موقع پر یہ عزم نہایت حوصلہ افزا ہے کہ متاثرہ خواتین کی داد رسی کے مراکز کا دائرہ کار صوبہ بھر میں پھیلایا جائے گا۔ 2017ء میں پنجاب کے ہر ضلع میں گھریلو مظالم کی شکار خواتین کے داد رسی مراکز قائم کرنے کا جو پروگرام بنایا گیا تھا اس کی شروعات ملتان سے کی گئی تھی جہاں ایک ہی چھت تلے ان خواتین کی طبی، قانونی امداد، کونسلنگ، تشدد کی صورت میں قانونی کارروائی اور ان کی بحالی کے لئے متعلقہ اداروں کی خدمات حاصل کی گئیں جبکہ پروگرام میں ڈویژنل سطح پر اسپیشل جج کی نگرانی میں صلح صفائی سمیت کیس ٹو کیس ان کے مختلف عدالتی پہلوئوں کا تعین بھی شامل تھا۔ یہ ایک نہایت مثبت پروگرام ہے جو ترقی یافتہ ملکوں میں پہلے سے رائج ہے۔ اس وقت پنجاب کی سطح پر گھریلو تشدد کے خلاف خواتین کی شکایات اور ان پر کارروائی کے لئے لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں بھی شکایات مراکز قائم ہیں۔ صوبہ سندھ میں بھی ویمن پروٹیکشن سیل کام کر رہا ہے۔ خواتین کا ایک حفاظتی مرکز اسلام آباد میں مارچ 2017ء میں قائم ہوا تھا۔ ان سب کا ہونا اپنی جگہ یقیناً بہت اچھی بات ہے تاہم اس پر مزید کام کرنے اور اس کا دائرہ کار ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے

کہ ملک میں خواتین کی اکثریت دیہی علاقوں اور ایسے شہروں میں آباد ہے جہاں ان میں گھریلو تشدد جیسے ہراسگی کے معاملات اور اپنے لئے قانونی تحفظ سے آگاہی کا فقدان پایا جاتا ہے۔ اسی طرح تشدد پسند مردوں کی بھی مروجہ قوانین سے واقفیت ضروری ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فعال اور متحرک ہونا پروگرام کی کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔ اس کام میں اب مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ خواتین کی تعظیم ہماری اسلامی اقدار، آئینی اور سماجی دستور کی بنیاد ہے۔