آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نہیں … نا گلابی کپڑے اور نا ہی آسمانی رنگ کے کپڑے … کچھ بھی نہیں تھا … بس جب میں پیدا ہوا تو پرانے سے چیتھڑے میں لپیٹ دیا گیا تھا۔میری پیدائش سے پہلے کوئی تیاری نہیں تھی۔ نہ سوئیٹر نہ ٹوپی اور نہ ہی موزہ، کچھ بھی تونہیں تھا۔ مجھے گرم اور زندہ رکھنے کو بس کمزور ماں ہی تھی، اس ہی نے مجھے بچالیا ۔ یہ بھی بہت ہے کہ میں سرکاری اسپتال میں پیدا ہوا، جبکہ میرے جیسے اور بہت سارے بچے تو اکثر سرکاری اسپتال کے گیٹ یا کوریڈور میں ہی پیدا ہوجاتے ہیں … کبھی بروقت اسپتال میں داخلہ نہ ملنے پر اور کبھی اسپتال پہنچنے میں دیر ہوجانے پر، بلکہ زیادہ تر تو گھر میں ہی غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ہاتھوں۔

میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بچہ ہوں۔ ملک کی آبادی کا 35 فیصد حصہ ہوں ۔ میرے کئی روپ ہیں۔ میں لڑکی بھی ہوں، میں لڑکا بھی ہوں … میں کچی آبادی کا باسی بھی ہوں اور پکے مکان کا رہائشی بھی ہوں … میں گلی میں رُلنے والا بچہ بھی ہوں ،جس نے اسکول کی کبھی شکل نہیں دیکھی … میں مدرسے کا طالب علم بھی ہوں ۔ میں سرکاری اسکول کا شاگرد بھی ہوں۔ میں چائلڈ لیبر کا شکار گھروں میں کام کرنے والا ملازم بھی ہوں ۔ ورکشاپ اور چائے خانے پر کام کرنے والا چھوٹا بھی ہوں اور میں گھروں میں کام کرنے والی چھوٹی بھی ہوں۔ میں سڑکوں پر زندگی گذارنے والا اسٹریٹ چلڈرن بھی ہوں۔ میں جنسی زیادتی کا شکار بچی بھی ہوں۔ 

میں بدفعلی کا شکار لڑکا بھی ہوں… میں بھیک مانگنے والی بچی بھی ہوں میں گاڑیاں صاف کرنے والا بچہ بھی ہوں… میں غریب نچلے ،درمیانے طبقے یا غربت کے مارے خاندانوں کا بچہ ہوں، مگر میں صاحبِ ثروت اشرافیہ کا بچہ نہیں ہوں۔ میں کیا چاہتا ہوں ؟ زندہ رہنا، خوش ہونا،علم حاصل کرنا اور آگے بڑھنا۔ زندگی ایک نعمت ہے۔ ہونے اور نہ ہونے کے درمیان کا ایک دورانیہ ہے، جس میں ہر انسان چاہتا ہے کہ ہرے بھرے درخت، پھول خوشبو، ٹھنڈا پانی، آسودہ دھوپ اور بارش کی پھوار جیسی خوبصورتیوں پر مشتمل ایک منظر اس کی آنکھوں کے سامنے ہو، مگر اشرافیہ کے بچوں کو چھوڑ کر ہمارے چہروں پر نظر ڈالئے، ہمارے ہونے اور نہ ہونے کے درمیانی دورانیے میں صرف درد، دکھ اور تکلیف ہے۔ 

یہ درد آنکھوں میں کرچیوں کی طرح چبھتا ہے۔ لہو میں سرسراتا ہے اور بدن پر یا سیت طاری کردیتا ہے۔ پر ہم زندہ کیسے ہیں؟ یہ معجزہ ہی تو ہے، موجودہ حالات میں جب میرا ملک ریاستِ مدینہ بننے جارہا ہے۔ مجھے تو اس بات کا بھی یقین نہیں ہے کہ کل ہم بھوکے نہیں سوئیں گے ۔ہم بیمار ہونگیں تو ہمیں لازمی علاج معالجے کی سہولت میسر ہوگی۔ ہم اچھی تعلیم حاصل کرسکیں گے ،جیسے دوسرے ممالک کے بچے حاصل کرتے ہیں ۔ ہمیں رہنے کےلئے چھت میسر ہوگی۔ سب سے اہم یہ کہ ہماری جان، عزت اور ذہنی صحت کا تحفظ ہوگا اور ہمارا کام صرف کوشش کرنا، خوش رہنا اور آگے بڑھنا ہوگا …

کہا اس نے

سنا میں نے

نہ کہتا تو وہ مرجاتا

نہ سنتا تو میں مرجاتا …

حقائق شاید اس سے بھی زیادہ تلخ اور تکلیف دہ ہیں۔ میرے بچوں کی آواز۔ نہیں یہ آواز نہیں ہے ،منجمد سی فریاد ہے ۔دل کو چیرنے والی آہ ہے۔ ہمارے بچے ہماری محبتوں کا مرکز ،ہماری تمنائوں کے جزیرے غربت، بھوک جہالت، اداسی اور اندھیروں کے جنگل میں بھٹک رہے ہیں۔ اور اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ کہ کوئی پریشان نہیں ہے۔ یہ بچے ہمارامستقبل ہیں۔ یہ بچے تو انسانوں پر خدا کے یقین کا استعارہ ہیں، انہیں تو ذہنی، جسمانی، روحانی اور سماجی طور پر صحت مند ہونا چاہیے۔ صحت مند جسم اور صحت مند دماغ، صحت مند قوم کی ضمانت ہوتا ہے۔ اور اسی طرح صحت مند معاشرہ تشکیل پاتا ہے جو قوموں کی ترقی کا ضامن ہوتا ہے ، مگر میرے ملک میں حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔

یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نومولودوں کےلئے دنیا کا سب سے خطرناک ملک ہے۔ اعدادوشمار کے حساب سے 52 فی صد نومولود مائوں کی گودیں ویران کرجاتے ہیں۔ 100 میں سے 61 بچے ایک سال کی عمر کو نہیں پہنچ پاتے۔ 1000 میں سے 78 بچے اپنی پانچویں سالگرہ نہیں منا پاتے۔ 5 سال سے کم عمر 45 فی صد بچے کمزور جسم اور کمزور ذہن کے ساتھ پل کر بڑے ہورہے ہیں۔ میرے ملک میں بچوں کی قدر اور ذہنی صلاحتیں اور آئی کیو لیول کم ہورہا ہے۔

اس سال صرف تھر میں چار ماہ سے کم عمر 1726 بچے فوت ہوچکے ہیں۔کے پی کےمیں اب تک 3979 بچے 6 ماہ کی عمر میں فوت ہوچکے ہیں۔ پورے ملک کا اندازہ ہم خود لگا سکتے ہیں، جبکہ کئی اموات ریکارڈ کا حصہ نہیں بنتیں۔ ان اموات کی بڑی وجوہات غذائی کمی ڈائریا اور نمونیہ ہیں۔ہم اب تک پولیو کو شکست نہیں دے سکے 2019 میں اب تک 78 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 2018 میں یہ تعداد 12 تھی، باوجود اس کے کہ پولیو سے بچاؤ کی مہم ہر ماہ ہوتی ہے۔بچوں کے ماہر ڈاکٹرز کے مطابق، ملک بھر کے بچوں میں خطرناک حد تک فولاد، وٹامن اے اور وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے۔ اس کمی کو ’’پوشیدہ غذائی کمی‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان کی علامات اس طرح ظاہر نہیں ہوتیں، جس طرح غذائی کمی کے دیگر مسائل کی علامات بچوں کے وزن یا نشونما میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں ۔

سندھ خصوصاً کراچی اور حیدرآباد میں دوائوں کو مات دینے والا ٹائیفائڈ پھیل چکا ہے۔ ناصاف پانی اور غذا کی وجہ سے یہ مرض بچوں کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔ملک میں سیکڑوں بچے تھیلیسمیا کی بیماری کے ساتھ پیدا ہورہے ہیں۔ کس کو فکر ہے؟

بچوں کی صحت کی خرابی کی ایک وجہ ملاوٹ بھی ہے۔ کھانے پینے کی ہر چیز دودھ سے لےکر سبزی گوشت تک بچوں کی ٹافیوں سے لےکر چپس تک، سب کچھ ملاوٹ زدہ، آلودہ اور کیمیکل سے تیار شدہ زہریلا ہے۔دوسری طرف فضائی آلودگی سے ہر سال لاکھوں بچے ہلاک ہورہے ہیں۔ زہریلی ہوا اور فضاء بچوں کی صحت اور ذہانت کو متاثر کررہی ہے۔ آلودگی کی وجہ سے بچے پیدا ہوتے ہی سانس اور پھیپھڑوں کے مختلف امراض ، الرجی اور اعصابی نشونما میں خرابی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ 

ہم اجتماعی بے حسی کا شکار ہیں ، اس بے حسی کا اندوہ ناک واقع جو میرپور میں پیش آیا کون بھول سکتا ہے۔ جب کیول بھیل کا دو سالہ بچہ ڈائریا کی وجہ سے فوت ہوگیا۔ اس کی میت گائوں لےجانےکےلئے، اس نے ایمبولینس کے ڈرائیور کی منتیں کیں لیکن انہوں نے پیٹرول کے لیے 2000 روپے کا مطالبہ کردیا جو ان کے پاس نہیں تھے ۔ غربت کی وجہ سے وہ مجبوراً بچے کی لاش کو اپنے بہنوئی کے ساتھ موٹر سائیکل پر لے کر گھر روانہ ہوا۔ راستے میں منی ٹرک سے ایکسیڈنٹ ہونے پر دونوں فوت ہوگئے اور تین لاش گھر پہنچ گئیں لیکن وہ تین لاشیں نہیں تھیں، وہ چار لاشیں تھیں، جن میں تین لاشیں ان غریبوں کی اور ایک لاش انتظامیہ کی تھی جو دراصل انسانیت کی لاش تھی۔

اس سال سگ گزیدگی کے واقعات بھی بہت ہوئے۔ جن میں بہت سےبچے بھی متاثر ہوئے۔ ایک بچے نے اسپتال میں داخلہ نہ ملنے اور ظاہر ہے علاج نہ ہونےکی وجہ سے اپنی ماں کی گود میں اسپتال کے گیٹ پر سسک سسک کر جان دے دی۔ انتظامیہ لاکھ کہے کہ بچے کو اسپتال دیر سے پہنچایا گیا یا ویکسین موجود نہیں تھی، مگر ہر اہل دل نے اس بچے کی آخری سانسیں اپنے کاموں سے سنیں اور ماں کی بے بسی کو اپنے دل پر محسوس کیا ہوگا۔ شاید کتا مار مہم شروع ہوجائے اور جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں مخالفت نہ کریں اور شاید کتے کے کاٹے کی ویکسین بھی میسر آجائے اور ہمارے بچے کتوں کے کاٹے سے بچ جائیں ، مگر انہیں دو پائوں والے کتوں کے کاٹنے سے کون بچائے گا اور ان کے کاٹے کا علاج کیوں کر ہوگا؟۔

2018 میں بچوں سے بد فعلی( Child Abuse )کے 2232 کیس ریکارڈ ہوئے ،جبکہ 2019 میں جنسی زیادتی یا جنسی تشدد کا شکار بچوں کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے۔ 10 سے 15 بچے روزانہ جنسی تشدد کا شکار ہوئے ،جن میں کچھ قتل بھی کردیئے گئے۔ ان میں 56 فی صد لڑکیاں اور 44 فی صد لڑکے شامل ہیں۔

صوبہ پنجاب اس وقت بچوں سے جنسی زیادتی میں سرفہرست ہے۔جنوری 2019 سے جون کے مہینے تک 1300 سے زیادہ بچے زیادتی کا شکار ہوئے، جن میں 652 بچے پنجاب میں 458 بچے سندھ میں، 51 بچے کے پی کےمیں 32 بلوچستان میں، 90 اسلام آباد میں 18 بچے آزاد کشمیر میں اور 3 گلگت بلتستان میں جنسی تشدد کا شکار ہوئے، صرف لاہور شہر میں ان کی تعداد 50 تھی اور مردان میں 48 ہے۔12 معصوم بچے مدرسوں میں دینی تعلیم کے حصول کے دوران شکار کئے گئے۔ کیا قیامت کی خبریں ہیں کہ سگا چچا زیادتی کے بعد قتل کا مجرم نکلا۔ پنوں عاقل میں امام مسجد کے ہاتھوں ننھی افسانہ بے آبرو ہوئی۔ مٹھی میں سونیا میگھوارڑ ، مگر ناموں سے کیا ہوتا ہے۔ ان کا صرف ایک نام ہے ’’بچے‘،‘ میرے اور آپ کے بچے جو زندہ تو بچ جاتے ہیں، مگر شاید زندہ رہتےنہیں ۔

راول پنڈی پولیس نے ایک ایسے مجرم سہیل ایاز کو گرفتار کیا ہے جو بچوں سے زیادتی کی براہ راست ویڈیو نشر کرنے والی بین الاقوامی ڈارک ویب کا سرغنہ بتایا جاتا ہے، جو بدفعلی اور جنسی زیادتی کا عادی ہے، جسے برطانیہ اور اٹلی سے بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کی وجہ سے ڈی پورٹ کیا جاچکا ہے۔ جس نے اب تک پاکستان میں 30 بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے۔ جہاں اس کی گرفتاری اطمینان کا باعث ہے وہیں حیرت انگیز بات یہ کہ تصدیق شدہ بدفعلی میں ملوث یہ شخص ڈی پورٹ ہونے کے باوجود پاکستان میں نہ صرف کھلا پھر رہا تھا۔ بلکہ سرکاری ادارے میں کنسلٹنٹ کی ملازمت بھی حاصل کرلی تھی۔ کیا اسے سرعام کوڑوں کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ کیونکہ سرعام پھانسی ہمارےے ملک کے قانون میں نہیں ہے، شاید قہوہ بیچنے والے یتیم بچے کی آہ اسے عبرت کا نشانہ بنادے۔

وہ بچے جو اسکول ہی نہیں جاتے یا وہ بچے جو اتنے چھوٹے ہیں کہ انہیں گڈ اور بیڈ کی کیا خبر وہ تو صرف ماں کا لمس پہنچانتے ہیں ۔کہا گیا کہ صرف ’’زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2019‘‘ سے سدھار آجائے گا۔ یہ پیڈ فیلیا کے مریض صحیح ہوجائیں گے ۔ یہ واقعات یہ صرف پیڈو فیلیا نہیں، اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ ہم ذہنی، اخلاقی اور سماجی طور پر بھی کینسر زدہ ہیں۔

ملک میں بچوں میں منشیات کا استعمال دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔ سگریٹ نوشی، مین پوری، گٹکا، شیشہ، صمد بونڈ اور نیا نشہ آئس، جس کا استعمال تعلیمی اداروں میں بڑھ رہا ہے ہے کسی کو فکرہے؟سزا کا اعلان کر دیاگیا۔ پابندی عائد کر دی گئی لیکن کیسی سزا، کیسی پابندی، سب کچھ ویسے ہی چل رہا ہے۔ پہلے کھلے عام استعمال ہوتا تھا۔ اب چھپ کر ہوتا ہے۔

بچوں کی تعلیم پر نظر ڈالیں تو تعلیم سے محرومی کا منظر نہایت اذیت ناک ہے2019خبر آئی کہ ملک میں 2کروڑ 20لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے، جن میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔ اچھے انگریزی میڈیم اسکولوں میں اشرافیہ کے بچے پڑھتے ہیں، یا کوئی مڈل کلاس اپنے کٹے ہوئے پیٹ کو مزید کاٹ کر بچوں کو ان اسکولوں میں داخل کروا دیتا ہے، جہاںہر آٹھ دس دن بعد دو چار ہزار روپے کسی نہ کسی ایکٹوٹی یا فنکشنز کے نام پر لئے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ سرکاری اور اردو میڈیم اسکول صرف غریبوں کےلئے ہیں ،جہاں تعلیم تو مفت ہے ،مگر معیاری نہیں ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت حکومت کی ذمہ داری ہے کہ 5 سے 16 سال تک کے بچوں کےلئے مفت تعلیم کا بندوبست کرے ، آرزو نا تمام …!

یونیسکو کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تعلیم کی شرح دنیا میں نچلی ترین سطح پر ہے۔ یہ شرح صرف 60 فی صد ہے۔ بلوچستان میں آج بھی قریباً 60 فی صد بچے تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ سندھ میں 51 فی صد پنجاب میں 30 فی صد،کے پی کے میں 45 فی صد بچوں نے اسکول کی شکل تک نہیں دیکھی۔ جو بچے اسکول جاتے ہیں توان کے لیے درسی کتب ہی دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔گائوں کے اسکولوں میں وڈیروں، جاگیرداروں یا سرداروں کے قبضے ہیں ،جہاں بچوں کے بجائے بھینس اور بکریاں ہوتی ہیں۔یہ2019 کی خبر سے علم ہوا۔

اندرون سندھ ایک اسکول کے راستے میں ندی ہے اور اس پر کوئی پل نہیں ہے بچے روزانہ اسے تیر کر پار کرتے ہیں۔سندھ کے گائوں سائیں داد علیانی کے بچوں کو سیم نالے کا خستہ حال پل پار کرکے اسکول آنا پڑتا ہے، کیونکہ یہاں مکھی مچھر تو بہت ہیں ،مگر کان پر رینگنے والی جوں نہیں ہے…! اسکول آنے کے بعد نیم تعلیم یافتہ اساتذہ بچوں کو پڑھاتے کم اور مارتے زیادہ ہیں۔ ہم سب میڈیا اور سوشل میڈیا پر دیکھتے اور سنتے ہیں کہ استاد کے تشدد سے بچہ جان کی بازی ہار گیا ،کیسے خواب دیکھنے والی آنکھوں کے ستارے بجھ گئے کیسے ماں باپ کی آنکھیں اپنے بچے کو دفناکر ویران ہوگئیں۔

یہ استاد نے سوچا ہی نہیں ہوگامدرسے کے مولوی نے بچے کو سبق یاد نہ کرنے پر الٹا لٹکاکر تشدد کیا یا زنجیروں سے جکڑ کر ڈنڈے سے مار مار کر بے ہوش کردیا۔ کیا یہ انسانی فعل ہے یا تعلیم سے متنفر کرنے کی سازش، جبکہ استاد کا کام تو تعلیم اور کردار سازی کرنا ہے۔ کس کو فکر ہے کہ بچے اچھے انسان بھی بن رہے ہیں یا نہیں۔ اسکولوں کے بچوں کے چہروں کی رونقیں اجڑ چکی ہیں۔ وہ بچے کم اور اسٹریس کے مریض زیادہ لگتے ہیں۔ تھکاوٹ کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ انہیں سر درد ہوتا ہے، بھوک نہیں لگتی۔ نیند کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ ان کی خوشیاں ختم ہورہی ہیں ۔وہ زیادہ نمبروں کے حصول میں ہنسنا بھول رہے ہیں۔ ان کےلئے تفریح کے مواقع ختم ہورہے ہیں گلی گلی، شہر شہر بھکاری بچے سڑکوں گلیوں بازاروں میں منڈلاتے پھرتے ہیں۔ یہ کہاں سے آتے ہیں، کہاں چلے جاتے ہیں۔ ان کے پیچھے کون ہے۔ کسی نے سوچا …؟

اس وقت ملک میں 10 سے 14 برس تک کی عمر کے قریباً 40 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ان میں 70 فی صد لڑکے اور 30 فی صد لڑکیاں ہیں۔ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب کر یہ کمسنی میں ہی بالغ ہوجاتے ہیں۔ ورکشاپوں، چائے خانوں، اینٹوں کے بھٹوں، بسوں کے اڈوں پر کام کرنے والے چھوٹے اور بڑے بڑے گھروں میں کام کرنے والی چھوٹیاں طرح طرح کے جسمانی اور نفسیاتی تشدد برداشت کرتے ہیں،جبکہ اکثر جنسی تشدد کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔ اینکر خاتون اور انصاف کے شعبے سے وابستہ خاتون کے تشدد کا شکار ہونے والی بچیوں کو ہم اور آپ میڈیا پر دیکھ چکے۔ بلکہ شاپنگ مال میں کام کرنے والی سیلز گرل کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹے جانے کا منظر تو پرانی بات ہیں۔

ظالم کو کتنی سزا ملی؟ یہ سوال الگ ہے ۔ سزا کے سوال پر سانحہ ساہیوال کے متاثر بچوں کے معصوم چہرے اداس آنکھیں، مسکراہٹ کو ترسے ہونٹ اور خالی فیڈر ہم کیسے بھول سکتے ہیں، مگر عدم ثبوت کی بنا پر ملزموں کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد کیا آپ اور میں انصاف دلانے والوں پر اعتبار کرسکتے ہیں۔ملک میں اسٹریٹ چلڈرن کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اس وقت ان کی تعدادتقریباً 15 سے 20لاکھ ہے۔ یہ بچے جن کا کوئی گھر نہیں۔ کوئی وارث نہیں۔ شقی القلب لوگ ان کا بدترین جسمانی، نفسیاتی اور جنسی استحصال کرتے ہیںلیکن مسلم معاشرے کے ٹھکیداروں کی آنکھ ہی نہیں کھلتی۔

اس سال کے آوخر میں دودل چیر دینے والی خبریں کہ جیکب آباد میں 9ماہ قبل اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی 13 سالہ یتیم بچی ارم ابڑو نے لاڑکانہ کے شیخ زید وومن اسپتال میں ایک بچی کو جنم دیا ہے۔ 4 میں سے گرفتار 2 ملزمان ضمانت پر آزاد ہیں۔ اور اب تک ڈی این اےٹیسٹ نہیں ہوئے ہیں … ثنا خوانِ تقدیس کی آنکھ ہی نہیں کھلتی ۔

معاشرتی گراوٹ کا اندازہ لگانے کے لیے دوسری خبر بھی پڑھ لیںکہ، 11 سالہ نجمہ کو لالچی کے والد کو گرفتار کیا گیا ہے جس نے 3لاکھ میں نجمہ کا سودا کیا اور اپنی بچی کی شادی 8 بچوں کے باپ سے کروا رہا تھا۔یہ کون سا آسیب ہے جو ہمیں شاہ لطیف کے عظیم پیغام شہباز قلندر کے وجد، رحمن بابا اور خوشحال خٹک کے لازوال نغموں سے سرشار ہونے نہیں دیتا۔ بلھے شاہ اور بابا فرید کی پکار کی گونچ کو سماعت تک پہنچنے نہیں دیتا ۔ اب پتا چل گیا ہے کہ اس آسیب کا نام ہے غربت،بھوک جہالت اور لاپرواہی۔ اسی آسیب کا شکار ہیں ہم اور ہمارے بچے۔ سچ ہے کہ ہمارے ذاتی دکھوں اور تکلیفوں سے بچے بھی اتنا ہی متاثر ہوتے ہیں، جتنا ہم۔ کتنی تشویشناک بات ہے کہ ہمارے ملک میں بچوں میں ذہنی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ 

ان میں اشرافیہ کے بچے بھی شامل ہیں، جن میں ذود حسی، مایوسی اور خودکشی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ اگر ان بچوں کو بچانا ہے تو والدین کو انہیں وقت، توجہ، محبت اور تحفظ دینا ہوگا۔ ایک مسکراہٹ، ایک بوسہ، ایک چھبی ،ایک گدگدی سے بچہ کتنا خوش، کتنا مسرور اور کتنا پر اعتماد ہوجاتا ہے۔ کبھی سوچا؟گلے لگانا اور بات کرنا کتنا آسان حل ہے۔ نظر میں رکھیں۔ وقت گذرنے کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ سامنے ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ افراد اور قوموں کی زندگی بدلنے کا کوئی پیمانہ اگر ہے تو وہ بچے ہیں۔ یہ تقدیریں ہم خود بھی بناسکتے ہیں۔ اس کے لیے جستجو کرنا اور بہترین خواب دیکھنا لازم ہے ۔ اندھیرے کی آہٹ اور خطرے کی دستک سنائی دے رہی ہے۔ اس سے نمٹنے کےلئے ایک روشن دن کا اہتمام کرنا ہوگا۔

ہمیں نئے سال میں قوم کے ہجوم میں کسی ایسے کو منتخب کرنا ہوگا، جسے آنے والی نسلوں کو بلند کرداری کا استعارہ بناکر سونپا جاسکے۔صحت مند، خوشحال، پرسکون، بامعنی اور محفوظ زندگی گذارنا ہر بچے کا پیدائشی حق ہے۔ اپنے بچوں کی بھرپور حفاظت اور تربیت کریں، تاکہ ا ن کے لیے ان کاگھر، اردگرد کا ماحول، درسگاہیں اور تفریح گاہیں خوبصورت اور پرسکون ہوں۔پھولوں اور محبت کے زمانے ختم نہیں ہوئے۔ بچوں کو اندھیروں سے بچاکر روشن اور بلندیوں کی طرف بڑھانے کا موسم شروع ہوا چاہتا ہے۔

آئو کے کوئی خواب بُنیں کل کے واسطے

ورنہ یہ رات آج کے سنگین دور کی

ڈس لے گی جان و دل کو کچھ ایسے کہ جان و دل

تا عمر پھر نہ کوئی حبس خواب بن سکیں

اس راہ میں رہزن ہیں اتنے

کچھ اور یہاں ہوسکتا ہے

کچھ اور تو اکثر ہوتا ہے

پر تم جس لمحے میں زندہ ہو

یہ لمحہ تم سے زندہ ہے

یہ وقت نہیں پھر آئے گا

تم اپنی کرنی کر گذرو

جو ہوگا دیکھا جائے گا