آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
تحریر: جلال چوہدری ۔۔۔ ایڈنبرا
ماہ رمضان کا آخری عشرہ تھا اور فلسطین کے لیڈر یاسر عرفات صاحب نے ہمیں افطاری کیلئے مدعو کررکھا تھا۔ ہماری مصروفیات ہی اتنی زیادہ تھیں کہ ہم وقت مقررہ پر یروشلم سے ہیڈکوارٹر کی طرف روانہ نہ ہوسکے۔ عرفات صاحب کی طرف سے آیا ہوا پروٹوکول آفیسر پریشان تھا کہ ہم لوگ افطاری سے پہلے منزل مقصود پر پہنچ بھی پائیں گے۔ ڈرائیور کو حکم ہوا کہ فل سپیڈ پر گاڑی دوڑائو، خود ہمیں بھی فکر تھی کہ اگر ہم افطار سے پہلے پہنچ نہ سکے تو میزبان پر کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑ سکیں گے۔ گاڑی فراٹے بھرتی دوڑ رہی تھی اور ہم پریشر میں ہونے کی وجہ سے خاموش تھے، میری سیٹ سے ملحقہ سیٹ پر چوہدری محمد سرور حالیہ گورنر پنجاب اور جارج گیلووے بیٹھے تھے۔ ان دنوں جارج بھی لیبرپارٹی کی طرف سے ممبر آف پارلیمنٹ تھے۔ میں اپنی سوچ میں گم تھا اچانک مجھے اپنے شہر ایڈنبرا کا خیال آیا میں نے چوہدری صاحب سے پوچھا کہ ایڈنبرا میں کوئی ایسا ایم۔پی ہے جس کو وہ جانتے ہوں، چوہدری صاحب بولے سبھی جاننےوالے ہیں تم کیوں پوچھ رہے ہو، میں نے کہا کہ کچھ کاغذات پر دستخط کروانے ہیں بولے کوئی بات نہیں، بات ختم ہوگئی۔ کوئی پندرہ منٹ کے بعد چوہدری صاحب نے مجھے متوجہ کرتے ہوئے کہا دیکھو جلال، جو کام آپ کمیونٹی کی خدمت کے لئے کررہے ہو، قابل ستائش ہے مگر ایک اور کام بھی ہے جس میں کمیونٹی کی خدمت اس سے زیادہ ہے اور تمہارے لئے بھی فائدہ مند ہوگی۔ وہ یہ کہ تمہارے جیسے پڑھے لکھے لوگوں کو سیاست میں حصہ لینا چاہئے، میں حیران ہوگیا کہ چوہدری صاحب کیا مشورہ دے رہے ہیں اور کیوں دے رہے ہیں، میں نے عرض کی کہ چوہدری صاحب آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں ایک پروفیشنل پرسن ہوں اچھا بھلا کام ہے آرام سے زندگی گزر رہی ہے۔ صبح 9بجے سے شام 5بجے تک کام کیا اس کے بعد فراغت ہی فراغت، اس کے مقابلہ میں سیاست چوبیس گھنٹے کا کام، ووٹ لینے کیلئے ایک ایک فرد کی خوشامد اور تگ و دو اور اگر ان تمام مرحلوں سے گزر کر آدمی ممبر آف پارلیمنٹ بن بھی جائے تو مالی طورپر تو مجھے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ چوہدری صاحب بولے کہ بات مالی فائدے کی نہیں کمیونٹی کی، خصوصاً پاکستانی کمیونٹی کے مستقبل کا معاملہ ہے اور تمہارا فائدہ یہ کہ جو تم پوچھ رہے ہو کہ دستخطوں کیلئے کسی ایم۔پی کی ضرورت ہے۔ پھر تم میری وساطت کی بجائے ڈائریکٹ ان سے بات کرسکو گے۔ یہ ایم۔پی اور وزیر وغیرہ سب وہیں ہوتے ہیں، پارٹی ممبران میں بے تکلفی ہوتی ہے۔ پاکستان کی طرح کا ماحول اس ملک میں نہیں ہے کہ ایم۔پی یا وزیر بن گئے تو تمہیں سرخاب کے پر لگ گئے ہیں اور دوسری بات یہ کہ ضروری نہیں کہ تم ایم۔پی بنو اور اپنی ملازمت کو چھوڑو، میں کہہ رہا ہوں کہ لوکل لیول پر برانچ کمیٹیوں یا سنٹرل کمیٹیوں کے ممبر بن کر ایکٹیو رول ادا کرو اور وہاں پر اپنی موجودگی کا احساس دلائو۔ اس وقت یہ حالت ہے کہ لوکل کمیٹیوں میں ہمارے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں پر فیصلے ہوتے ہیں اور انہی فیصلوں کی روشنی پر ایم۔پیز اور وزیر پارٹی کیلئے لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہماری کمیونٹی کے لوگ ان کمیٹیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ایک تاثر پیدا ہو کہ ہم بھی اس ملک کو اپنا ملک سمجھتے ہیں اور یہاں پر بسنے والے لوگوں کے نفع و نقصان کا پورا پورا احساس ہمیں بھی ہے۔ آپس میں گھل مل جانا، مختلف لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے ریس ریلشنز میں قربت ہوتی ہے، محبت پیدا ہوتی ہے غرضیکہ لمبا چوڑا لیکچر تھا جس نے مجھے رضا مند کردیا جب میں نے پوچھا کہ بتائو کونسی پارٹی میں شامل ہو جائوں اس کے جواب میں چوہدری صاحب نے بڑی اچھی بات کی۔ میں تمہیں کہتا یہ تم خود فیصلہ کرو آخر واپس برطانیہ آکر میں نے ایک پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور پھر چل سو چل، لیکن ایک بات یہ کہ سیاستدانوں کے بارے میں جو ایک تاثر تھا کہ یہ خودغرض قسم کی مخلوق ہے۔ چوہدری صاحب کی حد تک تو یہ غلط نکلا بلکہ ان کی عزت اور احترام میں اضافہ ہوا کہ واقعی اس شخص کے دل میں اپنی قوم اور کمیونٹی کے متعلق ایک فکر ہے اور خواہش ہے کہ اس ملک میں ہماری نئی نسل کامیاب ہو اور معاشرے میں میری طرح ایک مقام پیدا کریں۔ یہ چوہدری صاحب کی عمدہ سوچ کا معیار تھا وگرنہ ہوتا کیا ہے کہ کوئی شخص ذرا سی کامیابی حاصل کرلے تو پھر عام آدمی کو انسان ہی نہیں سمجھتا۔ کیا مجال اس کے قریب کوئی پھٹک پائے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ کامیابی میرے تک محدود رہے، میں اکیلا ہی گھنگرو باندھ کے ناچوں اور باقی سب بس مجھے ناچتا دیکھیں۔ بہرحال چوہدری صاحب کی نصحیت پر عمل کرتے ہوئے میں نے اپنی پسند کی ایک سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی اورپھر چل سوچل۔ اس دن سے آج تک متحرک ہوں اور اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہوں۔ چوبیس برس ہونے کو آئے ہین لوکل اور نیشنل لیول پر کام کیا۔ الیکشنوں میں حصہ لیا سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ مسلسل بارہ سال تک نیشنل ایگزیکٹیو پارٹی کا ممبر رہا، نیشنل ایگزیکٹیو پارٹی کی اہمیت کا اندازہ کچھ اس طرح لگایا جاسکتا ہے بقول شخصے پارٹی ملک پر حکومتی کرتی ہے اور ایگزیکٹیو کمیٹی پارٹی پر حکومت کرتی ہے اس سارے وقت میں چوہدری صاحب کی نصیحت کو پیش نظر رکھا کہ اپنی کمیونٹی کیلئے کرنا اور وہ ٹاسک مکمل کرنا ہے جس کی ذمہ داری یروشلم سے جیریکو جاتے ہوئے چوہدری صاحب نے مجھے سونپی تھی۔ میں چوہدری صاحب کی بات ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے کہوں گا کہ جس پارٹی سے بھی آپکا تعلق ہے یا جس امیدوار کو آپ پسند کرتے ہیں، کوئی بھی ہو، آپ اسے ووٹ دیں۔ لیکن خدارا ووٹ ضرور دیں۔ میں اپنے چوبیس سالہ تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ مختلف کمیونٹی میں سب سے کم ووٹ دینے والوں میں بنگلہ دیش کے بعد پاکستانی کمیونٹی کا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر میں آپ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہر پارٹی کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ کس ووٹر نے اپنا ووٹ نہیں ڈالا اور الیکشن کے دنوں میں ایک ایک ووٹ کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے۔ ایک ایسے ووٹ کیلئے چھ سے سات مرتبہ گھر پر جاکر دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔ امیدوار خود اس کے گھر جاتا ہے اس کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے۔ دوسری بات یہ برطانیہ کی سیاست اور اسکے ووٹرز بھی عجیب نفسیات کے مالک ہیں۔ یہاں پر تین بڑی پارٹیاں ہیں کنزرویٹو، لیبر اور لبرل ڈیموکریٹ، کچھ علاقائی پارٹیاں بھی ہیں جیسے اسکاٹش نیشنل پارٹی، ویلز اور شمالی آئرلینڈ۔ جہاں تک ان چھوٹی پارٹیوں کے منشور کا تعلق ہے یہ ان تین بڑی پارٹیوں کے علیحدہ ہونے والے بچے بچیاں ہیں۔ تقریباً سو سال سے زیادہ عرصہ سے یہ بات چلی آرہی ہے کہ جن کے آبائواجداد کنزرویٹو کو، لیبر والے لیبر اور لبرل ڈیموکریٹ کو ووٹ دیتے تھے۔ آج بھی ان کی اولادیں اسی طریقے سے متعلقہ پارٹیوں کو ووٹ دیتی آرہی ہیں چاہے کچھ بھی حالات ہوں لیکن ایک چھوٹا سا گروپ ایسا ہے جن کی سوچ آزادانہ ہے اور یہ لوگ ملکی حالات کو پرکھتے ہیں اس کے مطابق ووٹ دیتے ہیں اور جس پارٹی کو یہ ووٹ دیں وہ پارٹی جیت جاتی ہے اور جن حلقہ انتخاب میں یہ تبدیلی ہوتی ہے وہاں پر کچھ ایسے حلقے بھی ہوتے ہیں کہ تبدیلی بہت تھوڑے سے ووٹوں کی وجہ سے آجاتی ہے۔ ان حلقوں کو مارجنل حلقے کہتے ہیں اور اب اس الیکشن میں جو ریسرچ کی گئی ہے کہ برطانیہ میں 30سے42حلقے ایسے ہیں جو مارجنل ہیں، جہاں پر اچھی بھلی تعداد مسلمان ووٹروں کی ہے اگر یہ لوگ ایک سٹریٹجی کے تحت ووٹ دیں تو نتیجہ ان کے حق میں آسکتا ہے۔ ایک عام اندازہ ہے کہ ایسےووٹر جو کسی پارٹی سے منسلک ہوں اور اپنے ارادے کا اظہار بھی کردیا ہو کہ وہ اس پارٹی کو ووٹ دے گا اس میں صرف50فی صد پر گمان کیا جاسکتا ہے کہ واقعی انہوں نے متعلقہ پارٹی کو ووٹ دیا ہوگا۔ مگر یہ کہ کن ووٹروں نے ووٹ ہی نہیں ڈالا یہ ہر پارٹی ورکرز کو پتہ ہوتا ہے یہ نہ سمجھنا کہ کسی کو کیا پتہ چلے گا کہ ہم نے ووٹ ڈالا ہے یا نہیں اور قدر بھی اسی کی جاتی ہے جو ووٹ ڈالتا ہے۔ برطانیہ میں ایک کمیونٹی ہے اس کے ممبران کا ووٹ ڈالنے کا ریکارڈ 90فیصد ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اگر ان کا مذہبی لیڈر ایک شکایت کردے پوری کی پوری کیبنٹ شکایت کے ازالہ میں اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے علاقہ کا ایم پی ہماری فرداً فرداً پرابلمز حل کرنے میں دل جمعی سے کام لے ہمارے علاقہ کی ترقی ہو، اقوام عالم ہمارے ملک پاکستان کے ایشوز پر ہمارا ساتھ دے، ہمارے دینی مسائل میں ہماری مدد کرے، برطانیہ کی پارلیمنٹ میں ہماری آواز ہو، تو آپ کو ایک کام کرنا ہوگا، وہ ہے ووٹ کا ڈالنا، بھلے ہی سردی، بارش اور دوسری مصروفیات ہوں، گھر سے نکلو اور ووٹ ڈالنے جائو اسی میں تمہارا تمہاری کمیونٹی، تمہاری قوم اور آنے والی نسل کا فائدہ ہے۔ ووٹ ایک قومی امانت ہے، ووٹ نہ ڈالنا امانت میں خیانت ہے اور مسلمان خیانت نہیں کرتا۔
یورپ سے سے مزید