آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تاریک عشرہ تاریخ بنا، ٹیسٹ کرکٹ کیلئے بھی میدان آباد

پاکستان میں آخر کار ٹیسٹ کرکٹ بھی واپس آرہی ہے،مارچ 2009سے دسمبر 2019 تک کا کٹھن،مشکل اور تاریک عشرہ تاریخ بنا،اب پھر سے نئی شروعات ہیں،سری لنکن کرکٹ بورڈ نے ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کا حقیقی دوست ہے،اسکے کرکٹرز کے حوصلے اور پاکستان قدم رکھنے کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے کوئی ٹیم آگے نہیں بڑھی،سیریز کا آغاز 11دسمبر سے راولپنڈی میں ہوگا،امید ہے کہ پاکستانی شائقین مہمان کرکٹرز کا نہ صرف مختلف انداز میں شکریہ اداکریں گے بلکہ انکی حوصلہ افزائی بھی کریں گے،بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم بھی پاکستان آئے گی،پاکستانی شائقین،کرکٹ کے حلقے آسٹریلیا کی حالیہ عبرتناک شکست پر افسردہ ہیں، مگر پی سی بی کے حکام اپنے فیصلے پرڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے سال بھر کسی بھی سطح پر تبدیلی سے انکار کردیا ہے، سری لنکا کے خلاف فواد عالم کی واپسی خوش آئند ہے، سری لنکا سے کھیلے گئے ٹیسٹ میچز میں فتح وشکست کا فرق نہ ہونے کے برابر ہے،53 میچزمیں پاکستان کے نام کے آگے 19 فتوحات ہیں تو سری لنکا کی بھی 16 کم نہیں ہیں 18 ٹیسٹ ڈرا ہوئے،آخری ٹیسٹ جیتے ہوئے بھی 4 سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے۔

جولائی 2015میں پالی کیلے میں پاکستان جیتا تھا اس کے بعد سے 2 ٹیسٹ میچز ہار چکاہے ،دلچسپ بات یہ ہے کہ مارچ 2009میں لاہور اٹیک کے بعد سری لنکن ٹیم ٹیسٹ ڈرا کرکے پاکستان سے رخصت ہوئی تھی اسکے بعد سے دونوں ممالک میں کھیلے گئے 19 میچزمیں سے9میچ سری لنکا نے اپنے نام کئے جبکہ گرین کیپس صرف 4 میچ میں کامیابی کا ذائقہ چکھ سکی۔6میچز بے نتیجہ رہے،گویا قومی ٹیم عشرہ رفتہ میں سری لنکا کے مقابلے میں ناکام ونامراد رہی ۔

سیریز ٹرافیز کا جائزہ لیں تو دونوں ممالک میں اب تک مجموعی طور پر 19 سیریز ہوچکی ہیں ،پاکستان نے8جیتی ہیں تو سری لنکا نے6میں میدان مارا ہے۔5 سیریز ڈرا پر ختم ہوئیں ،2009سے دونوں ممالک میں کھیلی گئی 7 سیریز میں سےپاکستان 2 جیت سکا،سری لنکا نے ڈبل یعنی 4ٹیسٹ ٹرافیز پر قبضہ جمایا،ایک سیریز کا اختتام برابری پرتھا،سری لنکا نے آخری سیریز 2 سال قبل پاکستان کے خلاف عرب امارات میں 0-2 سے جیت لی تھی۔

عشرہ رفتہ کی میچ در میچ کارکردگی ہو یا سیریز کے اعدادوشمار ہوں،ہوم گرائونڈز کے قلعے والی بات ہو اور یا پھر موجودہ پرفارمنس ہو،سب سے بڑی بات موجودہ آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ ہی کیوں نہ ہو پاکستان کو خسارہ ہی خسارہ ہے،ٹیم اس وقت 8ویں نمبر پر ہے،سری لنکا کا مقام چھٹا ہے،آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا اب چیلنج بھی ساتھ ہے،کسی بھی جانب سے کوئی حوصلہ افزا بات نہیں ہے۔

اسلئے یہ ماضی کے ریکارڈز کسی کھاتے میں نہیں آئیں گے،ہوم گرائونڈ کا ایڈوانٹیج بھی وہ نہیں ہوگا کہ جوماضی میں تھا ،کیونکہ جن ہوم گرائونڈز کی ہم بات کر رہے ہیں ،وہاں سری لنکا کی طرح میزبان پاکستان بھی 10 سال بعد کھیلے گا،کتنے کھلاڑی ایسے ہونگے موجودہ ٹیم میں کہ جنہوں نے اس سے قبل پاکستان کی سرزمین پر ٹیسٹ میچ کھیلا ہوا ہو،چنانچہ کسی بھی ملک کی ہوم گراؤنڈ کی سیریز کے وہ ایڈوانٹیج پاکستان کو حاصل نہیں ہونگے۔ 

جو اکثر ہوا کرتے ہیں،پھر سری لنکن اسپن اٹیک کا سامنا کرنا بھی آسان نہیں ہوگا ،پاکستان 2سال قبل یو اے ای میں اسی کا شکار ہوکر قلیل مجموعے پر ڈھیر ہوا تھا۔باہمی مقابلوں میں پاکستان کا سری لنکا کے خلاف ہائی اسکور کراچی ٹیسٹ میں 6وکٹ پر 765ہے جو 2009میں بنا،سری لنکا کا اسی ٹیسٹ میں7وکٹ پر 644ہے۔1994میں سری لنکا کینڈی میں قلیل اسکو ر71 اور 2009میں کولمبو میں پاکستان 90 پر آئوٹ ہوچکا ہے۔کمار سنگاکارا 23 میچز میں 2911،یونس خان 29میچزمیں 2286رنزکے ساتھ مجموعی ٹاپ اسکورر ہیں ،فروری 2009میں کراچی ٹیسٹ میں یونس خان کی 313 اور 2004 کے فیصل آباد ٹیسٹ میں جے سوریا کی 253رنزکی اننگز دونوں ممالک کے بلے بازوں کی بڑی اننگ ہیں ۔

باہمی سیریز میں سے کسی ایک میں پاکستان کا کوئی بیٹسمین 400سے زائد اسکو ر نہیں کرسکا۔مصباح نے عرب امارات میں 2013کی سیریز میں 364اسکور کئے جبکہ اسکے مقابلے میں سری لنکن بلے بازوں کی لاٹری رہی ہے ،سنگا کارا عرب امارات کی 3 میچز کی سیریز میں 516رنزکرچکے انکے علاوہ 6سیریز میں لنکن بیٹسمین 380 سے 490 رنزبناچکے ہیں ۔بولنگ میں رنگنا ہیراتھ کی21میچزمیں 106 اور پاکستان کے سعید اجمل کی 14میچزمیں 66وکٹیں اپنے اپنے ملک کی نمایاں کارکردگی ہے۔

2014کے کولمبو ٹیسٹ میں ہیراتھ نے ایک اننگ میں 127رنزکے عوض 9وکٹیں لیکر انفرادی گیند بازی کا قابل رشک ریکارڈ بنایا ہے ،پاکستان کی جانب سے 1982 میں لاہور ٹیسٹ میں 58 رنزکے عوض 8وکٹیں عمران خان نے اپنے نام کی تھیں ،عمران خان ایک میچ میں بہترین گیند بازی میں پہلے نمبر پر ہیں 1982کے لاہور ٹیسٹ میں انہوں نے 116رنزکے عوض 14 وکٹیں لیں ،کولمبو کے 2014 ٹیسٹ میں ہیراتھ کے شکار بھی 14 تھے مگر اسکے لئے انہوں نے 184 رنزدیئے۔1999 میں مرلی دھرن اور 2015میں یاسر شاہ نے ایک سیریز میں بالترتیب 26 اور 24وکٹیں اڑاکر ایک سیریز کے ٹاپ وکٹ ٹیکر میں اپنانام اونچا کر رکھا ہے۔2009 کے کراچی ٹیسٹ میں چوتھی وکٹ پر سمارا ویرا اور جے وردھنے کی 437کی شراکت رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی ہے جبکہ 1985 میں قاسم عمر اور میاںداد نے تیسری وکٹ پر فیصل آباد میں 397 رنزجوڑے تھے جو اب تک کی دوسری بڑی شراکت میں چلی گئی ۔جے وردھنے اور یونس خان 29،29میچزکے ساتھ باہمی سیریز میں زیادہ ٹیسٹ کھیلنے والے پلیئرز ہیں۔

جبکہ پاکستان کی جانب سے سری لنکا کے خلاف سب سے زیادہ13ٹیسٹ میچز میں قیادت کا اعزاز موجودہ ہیڈ کوچ مصباح الحق کو حاصل ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ 4جیتے تو 4ہارے ،5میچز ڈرا کھیلے ۔دنیائے کرکٹ میں سب سے زیادہ ٹیسٹ میچز1018انگلینڈ نے کھیل رکھے ہیں ،پاکستان نے 425میں سے 136جیتے اور 130 ہارے،سری لنکا نے 285میں سے 91جیتے اور 108ہارے ہیں ،پاکستان نے ہوم گراؤنڈ پر 151 میچز کھیلے 56جیتے اور صرف 22 ہارے ہیں ،10 سال کرکٹ نہ ہونے سے پاکستان دیگر ٹیموں کی نسبت بہت پیچھے چلا گیا ہے ،سری لنکا ٹیم نے پاکستان کے خلاف 1982سے 2009کے درمیان پاکستانی سرزمین پر جو21 میچز کھیلے ہیں وہ ان میں سے 6جیتا ہے جبکہ پاکستان 8میں کامیاب ہوا،7میچز ڈرا رہے ،مہمان ٹیم 1995 اور 2000میں مجموعی طور پر 2سیریز جیت چکی ہے جبکہ پاکستان 3میں فتحیاب رہا۔2سیریز ڈرا رہی۔ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کے 2 میچز بھی اس نے پاکستان میں کھیلے ۔1999میں پاکستان اور 2002میں سری لنکا کامیاب رہا۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید