آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار30؍جمادی الاوّل 1441ھ 26؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

فیس بک، گوگل ملازمت کرنے کیلئے 10 بہترین کمپنیوں کی فہرست سے باہر

فیس بک، گوگل ملازمت کرنے کیلئے 10 بہترین کمپنیوں کی فہرست سے باہر


سال 2019 دنیا کی بڑی ٹیکنالوجیکل کمپنیوں فیس بک اور گوگل کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے جہاں ان کی مقبولیت میں کمی کا سلسلہ جاری رہا۔

مقبولیت میں کمی ان کی سروس کی وجہ سے نہیں بلکہ ملازمت کے لیے موزوں ماحول میں ہوئی ہے۔

غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں ملازمت کے لیے بہترین 10 کمپنیوں میں فیس بک اور گوگل شامل نہیں ہیں۔

ماہرین کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ان کی مقبولیت میں کمی کی وجہ گزشتہ چند سالوں کے دوران سامنے آنے والے اسکینڈلز شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ڈیٹا سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں اور ڈیٹا کی حفاظت میں کمزوری سے متعلق سامنے آنے والے انکشافات کی وجہ سے بھی گریجویٹس کی نظر میں سال 2019 کے دوران فیس بک اور گوگل بہترین کمپنیاں نہیں رہیں۔

ملازمت پیشہ افراد کے لیے گلاس ڈور کی جانب سے تیار کی گئی فہرست کے مطابق بہترین امریکی کمپنیوں میں گوگل کا 11واں جبکہ فیس بک کا 23واں نمبر ہے۔

مذکورہ فہرست میں میں 2018 کے مقابلے میں ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔

ہب اسپاٹ اس فہرست میں پہلی پوزیشن پر ہے اور 2020 میں ملازمت اختیار کرنے والی بہترین کمپنی قرار دیا گیا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر بین اینڈ کمپنی اور تیسرے نمبر پر ڈوکو سائن ہے۔

خیال کیا جارہا ہے کہ گوگل اور فیس بک کی مقبولیت میں آنے والی کمی کی وجہ ان کمپنیوں کے ملازمین کی جانب سے اخلاقی خدشات کی وجہ سے کیے جانے والے مظاہرے ہیں۔

صرف گزشتہ ماہ ہی گوگل کے 200 سے زائد ملازمین نے کمپنی کے 2 ملازمین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا تھا کہ مذکورہ افراد کو ورک پلیس پر ان کی فعال پذیری کی وجہ سے  چھٹیوں پر بھیج دیا گیا تھا جبکہ کمپنی نے اس کی وضاحت بھی نہیں دی۔

دوسری جانب گزشتہ برس 7ویں نمبر پر رہنے والی فیس بک اس مرتبہ 23ویں نمبر پر پہنچ گئی۔

جھوٹی خبروں کو روکنے میں ناکامی پر فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کو عوام کی جانب سے اوپن لیٹر جاری کیے گئے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ فیس بک اور انسٹاگرام پر پاسورڈ اور ای میل ایڈریسز کے لیک ہونے پر اس کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔

خاص رپورٹ سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید