آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ یکم رجب المرجب 1441ھ 26؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

1990کے اوائل میں تازہ تازہ ہی صحافت میں وارد ہوا تھا کہ رپورٹنگ کیلئے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے گاؤں صف نگری جانا پڑا جہاں فوج کی جانب سے جنگجوؤں کی موجودگی پر گھیراؤ کے نتیجے میں چند گھر آگ سے خاکستر ہو گئے تھے-

حکومت نے سرکاری میڈیا پر دعویٰ کیا کہ آگ طرفین میں گولیوں کے تبادلے میں لگی مگر اس کے برعکس مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ فوجی اہلکاروں نے گن پاؤڈر چھڑک کر مکانوں کو آگ لگائی اور پھر کسی بھی قسم کی امدادی کارروائی پر مکمل پابندی عائد کر دی- میری آنکھوں نے اس طرح کی بے تحاشا اور خوفناک تباہی کا منظر پہلی بار دیکھا تھا-

اس لئے نہ صرف میں دہل کر رہ گیا بلکہ میں اپنے آنسوئوں پر بھی قابو نہ رکھ سکا۔ صورتحال کو دیکھ کر ستم سے چور گاؤں والے مجھے ہی دلاسا دینے لگے اور میں کافی شرمندہ ہو گیا-

اسی دوران ایک عمر رسیدہ بابے نے میری طرف دیکھ کر قدرے تاسف کے ساتھ کہا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے زمانے میں ظلم اور جبر کے حالات ضرور تھے مگر اب لوگ موت کے محاصرے میں رہ رہے ہیں اور خدا جانے یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔

پچھلی تین دہائیوں سے موت کا یہ محاصرہ مختلف اور بہت کریہہ شکلوں میں جاری رہا جس دوران سینکڑوں عزیز و اقارب، ہمسائے اور جاننے والے بندوق کی گولیوں کے شکار ہوئے-

اس سے قطع نظر کہ مرنے والے گناہگار تھے یا بیگناہ، یہ بات مسلّم ہے کہ وہ سبھی کشمیری تھے- 1990میں ہی میں نے پہلی بار گولی سے مرنے والے ایک جاننے والے کی لاش دیکھی- وہ سرخ بالوں والا ایک خوبصورت پڑوسی تھا جو ٹیکسی چلاتا تھا- بھارتی فوجیوں نے اسے صرف اس بنا پر مار دیا کہ ان پر کہیں سے پتھر پھینکا گیا تھا۔

وہ غالباً سرینگر سے آرہا تھا کہ اسے روک کر سر میں گولی مار دی گئی- بھارتی فوج کے چلے جانے کے بعد نجانے کس طرح میں اپنے ایک دوست کی معیت میں وہاں پہنچا اور خون میں لت پت لاش دیکھی-

پاس ہی اس کے بھیجے کے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے- اس منظر کو دیکھ کر میں کئی دنوں تک نہیں سو پایا مگر اس کے بعد ایسے مناظر تو جیسے معمول ہی بن گئے- کچھ عرصے کے بعد دوست اور رشتے داروں کی لاشیں بھی اٹھانا پڑیں-

میں اپنے ماموں زاد بھائی نورالامین کو اب بھی گاہے گاہے یاد کرتا ہوں جس کے ساتھ میری گاڑھی چھنتی تھی اور ہم بات بے بات بے ہنگم ہنسا کرتے تھے جس کی وجہ سے کئی بار ہمیں اپنے بزرگوں کی صلواتیں بھی سننا پڑتی تھیں- ایک دن وہ کالج سے واپس آرہا تھا کہ اننت ناگ (اسلام آباد) کے پرانے محلے ملخ ناگ کے قریب ایک فوجی بنکر میں ایستادہ سپاہی نے اس پر اپنے ہیوی مشین گن کا دہانہ کھول دیا-

پتا نہیں کہ یہ پڑھائی لکھائی کے ساتھ اس کا شغف تھا یا خوف کہ آخر وقت تک کالج کی کتابیں اس کے ہاتھ میں رہیں جو خون میں اس قدر بھیگ گئی تھیں کہ پھر انکے اوراق کبھی کھل نہیں پائے۔وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ہمیں خون کی ایسی لت پڑ گئی کہ لوگ آپس میں بھی یہ کھیل کھیلنے لگے-

ذاتی رنجشوں اور آپسی تنازعات میں بھی لوگ مرنے مارنے لگے یہاں تک کہ بظاہر آزادی کیلئے لڑنے والی جماعتیں ایک دوسرے کے افراد اور معاونین کو مارنے لگیں- اس گھناؤنے کھیل میں سینکڑوں لوگ مارے گئے جن میں کئی دوست اور جاننے والے بھی تھے-

پھر ایک وقت آیا کہ بندوق کا استعمال متروک ہوگیا اور مذاکرات اور پُرامن بات چیت سکہ رائج الوقت ٹھہرا- اس دوران اگر کسی نے بھولے سے بھی آزادی کا نعرہ لگایا تو وہ مبغوض ٹھہرا مگر محاصرہ بدستور قائم رہا-

اگرچہ قفس کا مزاج بدلنے کیلئے کہیں سلاخوں کا رنگ بدلنے کی بات کی گئی تو کبھی رقص و سرود کا اہتمام کیا گیا جس میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ ذائقہ بدلنے کیلئے پاکستان سے بھی مراثیوں کے وفود لائے گئے تاکہ کشمیریوں کو ’تبدیلیٔ حالات‘ کا احساس دلایا جائے-

یہ بات کافی حیرت انگیز ہے یہ سب کچھ جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں ہو رہا تھا جب پاکستان کے کچھ حلقے ایک طرف جموں و کشمیر کے دو حصوں کو بانٹنے والی خونی سرحد کو غیر فعال کرنے کی باتیں کر رہے تھے تو دوسری طرف وہ بھارتی فوج کی طرف سے سرحد پر باڑ لگانے کی کارروائی میں ان کی مدد کر رہے تھے-

بقائے باہم اور مشترکہ امن کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی تو اب پھر کشمیریوں کا خیال ستانے لگا ہے مگر 5اگست کے بعد موت کا یہ محاصرہ نہایت شدید ہو گیا ہے ۔