آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر29؍ جمادی الثانی 1441ھ 24؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایک طرف ضمانت سیزن عروج پر، نواز، شہباز لندن پہنچ چکے، مریم نواز لندن جانے کیلئے درخواست دے چکیں، آصف زرداری، ضمانت، فریال تالپور، ضمانت، سراج درانی، ضمانت، خورشید شاہ، ضمانت، ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن، ایان علی، ضمانتیں پرانی ہو چکیں، حمزہ شہباز، شاہد خاقان عباسی، خواجہ برادران، احد چیمہ، فواد حسن فواد، مفتاح اسماعیل ابھی اندر مگر جو صورتحال، کسی لمحے بھی لاٹری نکل سکتی، ایک طرف یہ ہول سیل، یہ جمعہ بازار، دوسری طرف 43صفحاتی ایکسٹینشن فیصلہ، 6ماہ میں قانون سازی، ورنہ نیا آرمی چیف، ابھی گزشتہ رات صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ یہ بھی بتا چکے، ایکسٹینشن، ایکٹ آف پارلیمنٹ سے معاملہ حل ہو جائے گا۔

آگے بڑھنے سے پہلے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی گزشتہ شب صحافیوں سے ’لذیذ‘ گفتگو دہرانے کا دل چاہ رہا، فرمایا، میں نے پاناما کیس فیصلے میں گاڈ فادر نہیں لکھا، سسلین مافیا کی بات مجھ سے ویسے ہی منسوب کر دی گئی، ممتاز قادری کے فیصلے پر جنرل راحیل شریف کا پیغام ملا، آپ کو سیکورٹی دینا چاہ رہے، میں نے سوچا، اگر آج سیکورٹی کی گود میں بیٹھ گئے پھر کبھی نہیں نکل پائیں گے، کیمرج، ہارورڈ یونیورسٹیوں سے فیلو شپس کی آفر قبول کر چکا، ریٹائرمنٹ کے بعد جاؤں گا، کئی مواقع پر لالچ دیا گیا، اہم عہدوں کی پیشکش ہوئی، دانا ڈالا گیا، میں نے دانا چگا نہیں، پرویز مشرف کیس اوپن اینڈ شٹ کیس تھا، محترم چیف جسٹس کا ایک ایک جملہ قابلِ تبصرہ، یہی نہیں، چیف جسٹس کا وزیراعظم عمران خان سے کہنا ’’احتیاط کریں احتیاط‘‘۔

3روزہ ایکسٹینشن کیس میں ریمارکس پہ ریمارکس، احترام کی وجہ سے کوئی تبصرہ نہیں کرتا۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی، کہہ رہا تھا، ایک طرف بیماروں کی طبی بنیادوں پر ضمانتیں، دوسری طرف بیمار پرویز مشرف کو پھانسی، جسٹس وقار سیٹھ، جسٹس شاہد کریم، جسٹس نذر اکبر پر مشتمل تین رکنی خصوصی عدالت کا 4سطری مختصر فیصلہ، پرویز مشرف نے آئین توڑا، ججز کو نظربند کیا، غیر قانونی ترامیم کیں، وہ غداری کے مرتکب، سزائے موت، فیصلہ دو ایک سے آیا، جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا.

6سال، 125سماعتیں، 6بار خصوصی عدالت کی تشکیل نو، فیصلے پر پرویز مشرف نے کہا ’’ملک کیلئے جنگیں لڑ کر میں غدار، مایوسی ہوئی، وہم و گمان میں بھی نہ تھا، یہ فیصلہ آئے گا‘‘

حکومتی ردعمل، فیصلہ غیر آئینی، غیر قانونی، غیر انسانی، پاک فوج کا ردِعمل، فوج میں غم و غصہ، پرویز مشرف آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، صدرِ پاکستان رہ چکے، 40سال وطن کی خدمت کی، ملکی دفاع کیلئے جنگیں لڑیں، غدار نہیں ہو سکتے، آئینی تقاضے پورے نہ ہوئے، عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر، کیس کو عجلت میں نمٹایا گیا، توقع، آئین کے تحت انصاف دیا جائے گا۔

اب تین باتیں، پہلی بات، پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی 2007کو، تب آرٹیکل 6میں لفظ ’آئین کی معطلی‘ شامل ہی نہیں تھا، یہ لفظ شامل کیا گیا 2010میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے جبکہ آئین کا آرٹیکل 12بتائے، کوئی فوجداری قانون ماضی سے نافذ نہیں کیا جا سکتا.

دوسری بات، پرویز مشرف کی درخواست، میں بیمار، سفر کے قابل نہیں، میرا دبئی آکر بیان ریکارڈ کر لیا جائے، یہ کیوں نہ ہو سکا، جب 6سال سے مقدمہ چل رہا، جب اتنا صبر کر لیا گیا، جب معلوم یہ تاریخی مقدمہ، جب آئین کا آرٹیکل 10اے ملزم کو فیئر ٹرائل کا حق دے، تب اچانک اتنی جلدی کیا پڑ گئی کہ پرویز مشرف کا بیان ریکارڈ ہوا نہ ان کے وکیل کو سنا گیا.

ویسے یہ بھی کتنا حسین اتفاق، چوہدری نثار نے جب جنرل پرویز مشر ف کیخلاف 18نومبر 2013کو آئین شکنی کا مقدمہ چلانے کا علان کیا، تب جسٹس افتخار چوہدری کے بحیثیت چیف جسٹس 23دن باقی تھے، اب جب خصوصی عدالت نے فیصلہ سنایا تب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ریٹائرمنٹ میں 3دن باقی، جسٹس افتخار چوہدری اور پرویز مشرف کی ’محبت‘ آپ کے سامنے، آج کیا بات کرنی، آپ خود سمجھدار، تیسری بات، کیا پرویز مشرف سب کچھ کے اکیلے ذمہ دار، وہ 3نومبر 2007کو ایمرجنسی لگاتے ہوئے بھی اپنی تقریر میں کہہ رہے.

مجھے وزیراعظم نے لکھ کر بھیجا کہ اس سنگین صورتحال میں حکومت چلانا مشکل، میں نے خود بھی جائزہ لیا، سب سے صلاح مشورہ کیا، میں ایمرجنسی لگا رہا‘‘، جب جرم مشترکہ، مجرم ایک کیوں، چوہدری شجاعت تو کہہ چکے کہ اگر پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس چلانا ہے تو 12اکتوبر 1999سے چلایا جائے، مجھ پر بھی چلایا جائے، تب کی حکومت، افتخار چوہدری اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی شامل کیا جائے۔

بلاشبہ جہاں اس کیس میں بہت آئینی، قانونی سقم، وہاں یہ بھی درست کہ پرویز مشرف نے کیس کو صحیح طریقے سے لڑا ہی نہیں، خیر اب بھی ان کے پاس سپریم کورٹ آپشن موجود، اب آجائیں سیاسی جماعتوں کے ردِعمل پر، صدقے جاواں، فیصلہ آیا۔

بلاول بھٹو نے فرمایا ’’جمہوریت بہترین انتقام‘‘ صدقے جاواں، بلاول بھولے بن رہے ورنہ مشرف مارشل لا لگا، بینظیر بھٹو نے خیر مقدم کیا، زرداری صاحب نے مشرف سے ڈیل فرمائی، بینظیر بھٹو نے مشرف سے دبئی میں خفیہ ملاقاتیں فرما کر مشرف سے این آر او کیا، یہی نہیں، 31

جولائی 2009کو سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا کہ پرویز مشرف کیخلاف مقدمہ چلایا جائے، 4سال پی پی حکومت رہی، مقدمہ نہ چلایا، اب آجائیے مسلم لیگ پر، یہ چھوڑیں نواز شریف پرویز مشرف سے ڈیل کر کے سعودیہ گئے، یہ بھی چھوڑیں، سعودیہ سے بریگیڈیئر نیاز کے ذریعے مشرف سے ڈیل کر کے نواز شریف لندن گئے، یہ نواز شریف ہی تھے جنہوں نے ای سی ایل سے نام ہٹا کر پرویز مشرف کو باہر جانے دیا، جب مشرف مقدمہ سنتی خصوصی عدالت کی تشکیلِ نو کا مرحلہ آیا۔

35دن تک فائل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی میز پر پڑی رہی، وزارتِ عظمیٰ ختم ہو گئی مگر انہوں نے فائل پر دستخط نہ کئے، باقی چھوڑیئے، عدالت نے تو آج پرویز مشرف کو سزا سنائی، ان سب کو تو معلوم تھا کہ پرویز مشرف ڈکٹیٹر، آئین شکن، تو پھر وزیراعظم گیلانی، پی پی اور نون لیگ کے وزیروں نے صدر پرویز مشرف سے حلف کیوں لیا، کوئی شرم، کوئی حیا، کسی بات پر کوئی معذرت، کوئی پچھتاوا؟