آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ24؍ جمادی الثانی 1441ھ 19؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دل چسپ و عجیب: تتلی جیساسمندری گھونگا

عائشہ

ایک تحقیق کے مطابق سمندری گھونگے کی ایک قسم، ایسی بھی ہے جو سمندر کے اندر پروں والے ننھے کیڑوں کی طرح حرکت کرتے ہوئے اڑتی ہے۔

امریکی سائنسدانوں نے تتلی کی طرح کے اس سمندری گھونگے کی حرکات پر غور کرنے کے لیے تیز رفتار فلم اور فلو ٹریکنگ نظام کا استعمال کیا ،تین ملی میٹر کا یہ گھونگا اڑنے والے کیڑوں کی طرح اپنے پروں کو پھڑپھڑاتا اور اس کے پر عین اس جگہ ہیں ،جہاں عام طور پر ایک گھونگے کے پاؤں ہوتے ہیں۔یہ ان طریقوں کا استعمال بھی کرتا ہے جو اکثر اڑنے والے کیڑے اپنے آپ کو ہوا میں معلق رکھنے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔

جان ہوپکنز یونیورسٹی کے مکینیکل انجینئر ڈاکٹر ڈیوڈ مرفی بتاتے ہیں ’ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے کیڑے کی مانند اڑ رہا ہے۔‘

اس عجیب وغریب شکاری گھونگے کا حیاتیاتی نام لیماسانیا ہیلی سینا ہے جو اگر پانی میں اپنے منفرد انداز سے تیر نہیں رہا ہوتا تو اپنے لعاب سے اپنے گرد ایک جال بن لیتاہے جو اس کی غذا کے انتخاب میں کام دیتا ہے۔

ڈاکر مرفی کی تحقیق کے مطابق’تقریباً تمام چھوٹے آبی جانور اپنے پروں کو پیروں کی طرح استعمال کرتے ہیںاور یہ سمندری تتلی بھی ایسا ہی کرے گی لیکن اس کی حرکات اڑنے والے کیڑوں سے زیادہ قریب ہیں۔

ڈاکٹر مرفی نے چار کیمروں کی مدد سے اس کیڑے کے تیرنے کے دوران پیدا ہونے والے بہاؤ کو ناپنے کے لیے تھری ڈی تصاویر لیں،اسی کے ساتھ یہ کیمرے اس کیڑے کی اپنی رفتار اور حرکات کی تفصیلات بھی محفوظ کرتے رہے۔اور اس نتیجے پر پہنچےکہ یہ حسین مخلوق شہد کی مکھی سے بھی مختلف ہے۔

یہ گھونگا اپنے پروں کو ایک عام کیڑے کی طرح ہی اوپر نیچے کرتا ہے۔اس کے پر بھی اس ہی طرح پھڑپھڑاتے ہیں، جس طرح ایک اڑنے والے ننھے کیڑے کے پر ہوا میں اٹھتے وقت پھڑپھڑاتے ہیں۔یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ اس گھونگے کے پروں کے کھلتے وقت ان کے درمیان ایک سیال مادہ پیدا ہوتا، جس سے ان کے پروں کے کناروں پر ایک بھنور سا بن جاتا ہے جو ان کو مزید اوپر اٹھنے میں مدد دیتا ہے۔

ڈاکٹر مرفی نے کا کہنا ہے کہ ’یہ کیڑے حیاتیاتی چکر کے لحاظ سے بھی اہم ہیں۔ ان کے گرد کیلشیم کاربونیٹ کا ایک خول موجود ہوتا ہے اور جب یہ گھونگے ختم ہونے کے بعد سمندر کی تہ میں چلے جاتے ہوں تو ممکن ہے کی ان کے خول سمندر میں کاربن کی موجودگی کی ایک بڑی وجہ بنتے ہوں۔‘

ان گھونگوں پر لیبارٹری میں تحقیق کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ بہت نازک ہیں اور سوائے ان کے خول کے ان کا سارا جسم جیلی کی طرح ہوتاہے۔’یہ واقعی ایک منفرد مخلوق ہیں۔‘