آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ذیقعد 1441ھ4؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان میں حالیہ دِنوں میں فلم میکنگ کی رفتار پچاس فی صد تسلی بخش قرار دی جا سکتی ہے اور اسے سو فی صد پر لانے کے لیے مزید محنت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ایک اور خوش کن بات یہ بھی ہے کہ اب یہ فلمیں ٹیکنکلی یعنی فوٹو گرافی، ایڈیٹنگ ،ڈبنگ وغیرہ جیسے شعبوں میں انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ سے ہم آہنگ ہو رہی ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ فلم میکرز مقامی بوسیدہ لیبارٹریز پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی فلموں کا تکنیکی کام اور پرنٹ کی تیاری کے مراحل میں بیرون ممالک کی جدید اپ گریڈ لیبارٹریز سے استفادہ کر رہے ہیں۔ 

اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان فلمی صنعت بتدریج پھر سے مثبت سمت میں پیشرفت کر رہی ہے، لیکن موضوعات کے معاملے میں فلم میکرز کچھ محدود سے ہو کر کام کر رہے ہیں۔ یا تو کامیڈی موضوعات پر فوکس کیا جا رہا ہے یا پھر سوشل سبجیکٹس فلم میکرز کی خاص ترجیح ہے۔ 

اس کے برعکس پچاس، ساٹھ ستر اور اسی کی دہائیوں میں فلم میکرز کا سبجیکٹس کے چنائو میں کینویس بہت وسیع اور لامحدود تھا،بہت سی مختلف جہتوں میں کام ہو رہا تھا ،سوشل ،کاسٹیوم، ایکشن، جاسوسی، ہارر، فکشن ، طلسماتی اور کامیڈی …یعنی اس عہد کے فلم میکر کو جو موضوع سمجھ میں آتا اس پر وہ بے دھڑک کام شروع کر دیا کرتے تھے۔ 

مثلاً ہدایت کار ظہو راجا کے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اپنی کہانی میں جانوروں کو مرکزیت دی جائے۔ سو انہوں نے ایورنیو پکچرز کے لیے ’’باغی سردار‘‘ کے ٹائٹل سے ایک فلم تحریر کی اور ڈائریکشن کا شعبہ خود سنبھالا۔ بنیادی طور پر باغی سردار ایک مکمل کاسٹیوم فلم تھی، جس کا تھیم رستم و سہراب سےلیا گیا تھا، لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے فلم کے ہیرو محمدعلی کے وفادار ساتھیوں کے طور پر ایک نہایت خُوب صورت’’ کُتا ‘‘جس کا نام رومن تھا۔ اور سفید رنگت کا حامل گھوڑا جس کا نام موتی تھا، کو بطور کہانی کے اہم کرداروں کی صورت پیش کیا۔ 

کہانی کے جس موڑ پر فلم کے ہیرو محمد علی کو کسی مشکل سے دوچار دکھایا گیا تو اس کے وفادار جانور رومن اور موتی گھوڑا بڑی محنت اور تگ ودو کے بعد اپنے مالک محمدعلی کو اس مشکل سے چھٹکارا پانے میں بھرپور معاونت کرتے دکھائے گئے۔ مثلاً دشمن فوجی ، فلم کے ہیرو محمد علی کو ہلاک کرنے کی غرض سے ایک گہرے کنویں میں پھینک دیتے ہیں۔ ایسے میں رومن کتا، اپنے ساتھی موتی گھوڑے کی پشت سے بندھا ہوا طویل رسہ کا دوسرا سرا کنوئیں میں ڈال دیتا ہے۔ 

جس کی مدد سے محمد علی کنویں سے باہر نکل آتے ہیں۔ یہ ایک طویل منظر تھا، جس میں گھوڑے اور کُتے کی کارکردگی قابل داد تھی۔ اسی طرح فلم کے ایک منظر میں رومن کتے کو کامیڈی کے لیے بھی ذہانت سے استعمال کیا گیا۔ منظر کچھ یوں تھا کہ کتا رومن…اداکارنذر کے پیچھے دوڑتا ہے تو نذر خوف زدہ ہو کر ایک پول پر چڑھ جاتے ہیں۔ لیکن نیچے سے رومن اس کا پاجامہ منہ میں دبا کر کھینچ لیتا ہے۔ اس وقت کے لحاظ سے یہ منظر فلم ویورز نے بہت انجوائے کیا۔ باغی سردار 1966کی ایک کام یاب فلم ثابت ہوئی۔

اگلے برس یعنی1967میں ہدایت کار منور رشدی کی کاسٹیوم تخلیق فلم ’’بہادر‘‘میں مسرت نذیر کے وفادار ساتھیوں کی صورت ایک بار پھر کُتے اور گھوڑے کو مرکزی کرداروں میں پیش کیا گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار یہ دونوں جانور محمدعلی کے خیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ تھے … تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مذکورہ فلم میں’’بہادر ‘‘کا ٹائٹل رول مسرت نذیر کر رہی تھیں، جب کہ محمد علی ایک ظالم وزیر اعظم کے منفی کردار میں فلم کا حصہ تھے۔ 

سو کتا اور گھوڑا مل کر فلم کے ایک منظر میں ظالم وزیر اعظم کو خوب زدو کوب کرتے ہیں۔ اس فلم کے حوالے سے کتے اور گھوڑے کے کرداروں کو عوامی حلقوں میں خوب سراہا گیا۔ 1968میں عکاس اسلم ڈار نے بہ حیثیت ہدایت کار اپنے کیریئر کا آغاز خالص جنگل مودی ’’دارا‘‘ سے کیا، جس کی تمام تر فلم بندی سندر بن میں کی گئی۔ 

اس فلم کی وساطت سے نصر اللہ بٹ کو بہ طور ’’دارا‘‘ متعارف کروایا گیا۔ دارا اسی ٹارزن طرز کا کردار تھا، جو خوف ناک جنگلوں میں پرورش پاتا ہے۔ جنگل کے جانور اس سے اس قدر مانوس ہو جاتے ہیں کہ بعض جانور اس کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ بالخصوص ایک بندر جو اکثر دارا کے کندھے پر سوار عجیب عجیب شرارتیں کرتا ہے اور جب ’’دارا‘‘کا دشمنوں سے مقابلہ ہوتا ہے تو اس معرکے میں بھی دارا کا وفادار ساتھی بندر دشمنوں سے بھرپور انداز میں نبرد آزما ہوتا ہے۔ 

اس فلم کی وساطت سے جہاں نصر اللہ بٹ کو بہ طور ’’دارا‘‘ بے حد عوامی پذیرائی ملی، وہیں دارا کے وفادار ساتھی اس بندر کے کردار کو بھی سراہا گیا۔ 1973میں سید کمال کی ڈائریکشن میں بنائی گئی فلم ’’انسان اور گدھا‘‘ منظر عام پر آئی، تو فلم بینوں نے ایک گدھے کو مرکزی کردار میں دیکھا۔ دراصل ’’انسان اور گدھا‘‘ کرشن چندر کے افسانے گدھے کی سر گزشت سے ماخوذ تھی۔ فلم کی کہانی کے مطابق ایک گدھا اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ اسے انسان بنا دیا جائے تاکہ وہ انسانوں کی سی مہذب زندگی گزار سکے۔ 

اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتے ہیں اور وہ انسان بن جاتا ہے، لیکن انسان بننےکے بعددوسرے انسانوں کے غلط رویے اور شیطانی کرتوت اسے انسانیت سے متغیر کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ایک قتل کیس میں سزا دلوا دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے اور وہ عین تختہ دار پر کھڑا ہو کر مالک دوجہاں سے التجا کرتا ہے، اسے پھر سے حیوان ؒبنادے۔ 

اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور وہ پھر سے گدھا بن جاتا ہے۔ انسان اور گدھے کی یہ تمثیل ہمارے ہشت پہلو فن کار رنگیلا نے کمال مہارت سے نبھائی۔اس فلم میں غریب جانور ’’گدھے‘‘ پر فوکس کیا گیا اور اس دل چسپ تجربے کو فلمی حلقوں میں خاصی پذیرائی ملی ۔ ایس اے حافظ نے 1976میں جب ’’راجا جانی‘‘ بنائی تو کہانی کے مطابق ایک کُتے کو بھرپور کردار میں پیش کیا گیا۔ یہ کُتا بھولے بھالے راجا کا پروردہ ہوتا ہے۔ 

راجا کی معذور بہن شازیہ کی عصمت شہر کے بدقماش لوگوں سے بچاتا ہے اور فلم کے کلائمکس سین میں جب دو ہم شکل راجا اور جانی میں شناخت کرنے کا مرحلہ آتا ہے کہ دونوں میں جرائم پیشہ اسمگلر جانی کون ہے اور راجا کون؟ تو عدالت کے روبرو راجا کا وفادار یہ موتی کتا ہی جانی کو دیکھ کر زور سے غراتا ہے اور راجا کے قریب جا کر بیٹھ جاتا ہے۔ فلم کا ایک منظر کُتے کی پرفارمنس کے تناظر میں بہ طور خاص قابل ذکر ہے کہ جانی کے حکم پر جانی کے کچھ ساتھی راجا کے اس وفادار موتی کُتے کو ٹھکانے لگانے کی غرض سے اس پر فائر کرتے ہیں۔ 

کتا گرتا ہے اور دم سادھ کر یوں پڑ جاتا ہے کہ جیسے مر چکا ہو۔ جانی کے ساتھی مطمئن ہو کر واپس لوٹ جاتے ہیں اور موتی کچھ دیر بعد آنکھیں کھول کر دیکھتا ہے کہ یہ خطرہ ٹل گیا ہے، تو وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس طرح کی اور بھی کئی فلمیں ہیں، جن میں جانوروں سے فلموں کے ہدایت کاروں نے عمدہ کام لیا۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید