آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کیا سگریٹ نوشی ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہے؟

کیا سیگریٹ نوشی دباؤ کو بڑھاتی ہے؟


ہم سب جانتے ہیں کہ سیگریٹ نوشی کی وجہ سے انسانی جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہی ہیں تاہم کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کی وجہ سے ذہنی مسائل بھی سامنے آتے ہیں؟

غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق پلوس ون نامی جرنل میں شائع ایک تحقیق میں تمباکو نوشی، ذہنی دباؤ اور بے چینی کے درمیان تعلق کا پتہ لگانے کے لیے ریسرچ کی گئی ہے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سگریٹ نوشی ذہنی دباؤ پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں سے ایک ہے۔

اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں میں بےچینی کم رہتی ہے جبکہ اس کے برعکس اس عادت میں مبتلا افراد زیادہ بے چین رہتے ہیں اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔

دیگر مقالوں میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ سگریٹ نوشی نہیں کرتے ان میں صحت سے متعلق مسائل کم پیدا ہوتے ہیں اور ان کا معیارِ زندگی بھی بہتر رہتا ہے۔

تحقیق کے لیے 2ہزار سے زائد افراد کا انتخاب کیا گیا تھا جن کا پہلے اپریل اور جون 2009 میں ایک ٹیسٹ کیا گیا تھا جبکہ اس 6 سال بعد 2015 میں اسی عرصے میں ایک اور ٹیسٹ کیا گیا۔

تحقیق میں شامل افراد نے اپنی جائے پیدائش، تاریخ پیدائش، سماجی حیثیت، والدین کی حالت وغیرہ سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یومیہ سگریٹ پینے کی تعداد، جسمانی ورزش، کھانے پینے کی عادات وغیرہ بھی بتائی۔

تحقیق میں ایک دن میں ایک سگریٹ ہو یا پھر 100، انہیں سگریٹ نوش افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

ان افراد کی صحت سے متعلق معلومات کا حاصل کرنے کے لیے انہیں ایک سوالنامہ دیا گیا تھا جن سے صحت سے متعلق 36 سوالات پوچھے گئے۔

سوالنامے کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ تمباکو نوشی کے عادی طالب علموں میں ڈپریشن اور بےچینی کی شرح عام افراد سے 2 سے 3 گنا زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بہترین اور 100 فیصد نتائج کے لیے مزید ریسرچ پر زور دیا ہے۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید