آپ آف لائن ہیں
پیر3؍صفر المظفّر 1442ھ 21؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بجلی پر مزید ٹیکس ملکی صنعت کیلئے تباہ کن ہونگے، اپٹیما

اسلام آباد( خالد مصطفیٰ)آل ُپاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے سادہ الفاظ میں حکومت کو کہا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں ٹیکسوں کا اضافہ بشمول ، سرچارجز، پوزیٹیو فیول ایڈجسٹمنٹ وغیرہ ملک کی ایکسپورٹ کو تباہ کردے گی، ریجنل مقابلے میں ملک مقابلہ نہیں کرسکے گا، ٹیکس فورا واپس لئے جائیں ٹیکسٹائل انڈسٹریز نے کامرس منسٹری سے کہا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی یا وفاقی کابینہ کو سمری ارسال کی جائے کہ تاکہ یکم جنوری 2019 کو جاری کئے جانے والے ایس آر ا 12 پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جاسکے،اورایکسپورٹ سیکٹر کی صنعت سے سرچارجز،اور پوزیٹیو فیول ایڈجسٹمنٹ کو واپس لیا جائے،بدھ کے روز عبدالرزاق داؤد کو لکھے گئے خط کہا گیا ہے کہ پاور ڈویژن نے 13 جنوری سے ایکسپورٹ سیکٹر کو مذکورہ ٹیکس اور سرچارج ادا کرنے ہونگے جس سےبجلی کےنرخ 11.70روپئے فی یونٹ سےبڑھ کر 20 روپئے ہوجائیں گے، اس سے پہلے ایکسپورٹ سیکٹر کے لئے فائنانشل کاسٹ سرچارجز،نیلم ۔جہلم سرچارجز،ٹیکس، فکسڈ چارجز اور پوزیٹیو چاراور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجزٹیرف کا حصہ

نہیں تھے، خط میں کہا گیا ہے کہ توانائی مجموعی لاگت کا 35 فیصد ہوتا ہےاس طرح پوری لاگت پر 24 فیصد اضافہ ہوجائے گا،اضافے سے بین الاقوامی مقابلے میں پاکستان کو شدید نقصان ہوگا،خط میں بھارت کا خصوصی زکر کیا گیا ہے۔

ملک بھر سے سے مزید