آپ آف لائن ہیں
پیر3؍صفر المظفّر 1442ھ 21؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کسی غلط کام پروزیراعظم کواسکی نشاندہی کا حق رکھتے ہیں،رہنما ق لیگ

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ق لیگ کے رہنما اور وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے کہاہے کہ وزیراعظم اپنے تئیں اچھے فیصلے کرنے کی کوشش کرتے ہوں گے، کسی غلط کام پر وزیراعظم کو اس کی نشاندہی کرنے کا حق رکھتے ہیں، سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ نواز شریف ، شہباز شریف اور مریم نواز کی خاموشی کے پیچھے کوئی کہانی ضرور ہے، میزبان شاہزیب خانزادہ نے اپنے تجزیئے میں کہا کہ حکومت اپوزیشن کو شرمندہ کرنا چاہ رہی ہے اورا س میں کامیاب بھی ہورہی ہے۔ق لیگ کے رہنما اور وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم سیاسی جماعت ہیں ہمیں حلقوں میں عوام کے سامنے جانا ہوتا ہے، حکومت کی طرف سے تحریری معاہدہ پرعملدرآمد نہیں ہورہاتھا، حکومت سے کئی دفعہ شکایات کیں پہلی دفعہ حکومت سنجیدہ نظر آئی ہے، اچھی شہرت رکھنے والے حکومتی لوگوں کے وعدے پر یقین کیا ہے کہ حکومت معاہدے پرعمل کرے گی، حکومت کی کمزوری کی نشاندہی کرنا بطور اتحادی ہمارا کام ہے، وزیراعظم مشورہ مانگتے ہیں تو دیانتداری سے اپنی رائے دیتے ہیں، پنجاب میں ہم سے آج تک مشاورت نہیں کی گئی، پنجاب میں ق لیگ اتحادی ہے ہمیں گورننس کے معاملات پر اعتماد میں لیا جانا چاہئے، وزیراعظم اپنے تئیں اچھے فیصلے کرنے

کی کوشش کرتے ہوں گے، کسی غلط کام پر وزیراعظم کو اس کی نشاندہی کرنے کا حق رکھتے ہیں، اتنی آزادی ہونی چاہئے کہ ہمیں اس تنخواہ پر کام کرنا ہے یا نہیں کرناہے۔ ایک ہفتے میں معاملات بہتر نہ ہوئے تو حکومت سے علیحدگی کے بارے میںطارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ اس پر ایک ہفتے بعددیکھیں گے کیا کرنا ہے، کوشش کریں گے جب تک حکومت ہے ان کے ساتھ رہیں، ہم حکومت گرانے نہیں جارہے ہیں، اللہ کرے حکومت بہتری کی طرف چل پڑے، رانا ثناء اللہ کیس میں تنقید برائے تنقید نہیں کی تھی، ذہن میں جو دو چار سوالات تھے وہ کابینہ میں کردیئے تھے،کابینہ میں اجتماعی فیصلہ ہوجائے تو پھر اس پر تنقید نہیں کی جاتی ہے، کسی شخص پر جھوٹا مقدمہ بنا ہے تو اس کی تحقیق کرنا میرا فرض بنتا ہے، رانا ثناء اللہ کے کیس میں جان ہوگی تو ثبوت عدالت میں پیش کردیئے جائیں گے۔سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ حکومت میں اعتماد پیدا ہونا چاہئے لوگوں کے مسائل حل کرسکے، حکومت ڈیلیور نہیں کرسکی تو اس کی گرپ مزید کمزور ہوجائے گی،حکومت سمجھتی ہے کہ وہ تمام مشکلات سے نکل آئی ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی خاموش ہیں ، بزنس مینوں کی ہڑتالوں کا خطرہ ختم ہوگیا ہے، سب کو توقع ہے کہ تین چار مہینے میں عمران خان کی حکومت کارکردگی دکھائے، حکومت اس وقفہ میں طعنے دیتی اور لڑائی جھگڑے کرتی رہی تو ان کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی خاموشی کا مطلب لوگ سرینڈر لے رہے ہیں، نواز شریف وزیراعظم ہوتے ہوئے بھارت کے لوگوں سے ملتے رہے لیکن آج تک نہیں بتایا کہ ان کے ساتھ کیا مذاکرات ہوتے تھے، نواز شریف نے ابھی تک نہیں بتایا کہ سجن جندل ان سے کیا باتیں کرتا تھا اس کی تفصیل آنی چاہئے، نواز شریف سیاست میں اپنی خاموشی سے فائدے لیتے رہے ہیں، نواز شریف خاموشی سے ایسا بیانیہ ڈویلپ کر دیتے ہیں جس کا انہیں فائدہ ہو، نواز شریف ، شہباز شریف اور مریم نواز کی خاموشی کے پیچھے کوئی کہانی ضرور ہے، جو بھی معاملہ چل رہا ہے نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز اس سے مکمل باخبر ہیں اسی لئے ان کی پراسرار خاموشی جاری ہے، ان تینوں کی خاموشی کا ن لیگ کو نقصان ہورہا ہے۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اپوزیشن کو شرمندہ کرنا چاہ رہی ہے اورا س میں کامیاب بھی ہورہی ہے مگر متنازع قانون سازی اور ادارے ہورہے ہیں، تحریک انصاف پر الزام لگ رہا ہے کہ وہ فوج کو متنازع بنارہی ہے،سیاسی معاملات میں گھسیٹ رہی ہے اور چاہتی ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا معاملہ سیاسی ہوجائے،پہلے جب آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ سپریم کورٹ سے پارلیمنٹ میں آیا تو حکومتی اراکین نے متنازع بیانات دیئے، جب اپوزیشن نے حکومتی بل کو ووٹ دیدیا تو حکومتی ارکان نے اپوزیشن کو طعنے دینا شروع کردیئے ہیں، حکومت ایک ایسے معاملہ کو زندہ کررہی ہے جس پر نہ اپوزیشن بات کرنا چاہ رہی تھی نہ میڈیا بات کررہا تھا، گزشتہ روز وفاقی وزیر فیصل واوڈا ٹی وی شو میں فوجی بوٹ لے آئے، یہ الزام لگایا گیا کہ حکومت فوج کو سیاسی معاملات میں لاکر یہ تاثر دے رہی ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے قانون سازی سیاسی جماعتوں کا اپنا فیصلہ نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں نے یہ فیصلہ اپنی مرضی کے بجائے دباؤ میں کیا ہے،فیصل واوڈا نے جیوکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں کہا کہ وزیراعظم بوٹ والی بات سے خوش نہیں تھے، فیصل واوڈا وزیراعظم کے خوش نہ ہونے کا کہہ کر بھی بہت پراعتماد نظرآئے، نہ ان کا انداز معذرت خواہانہ تھا نہ انہوں نے اس عمل پر معافی مانگی، پروگرام کے دوران فیصل واوڈا بار بار بوٹ پروگرام میں لانے اور میز پررکھنے جیسے افسوسناک عمل کا دفاع کرتے رہے، حامد میر نے انہیں قوانین بتائیں انہوں نے پھر بھی معافی نہیں مانگی، فیصل واوڈا نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم نے انہیں معافی مانگنے کیلئے نہیں کہا ہے، سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ سب وزیراعظم کی آشیرواد سے ہوا ہے ، کیا وزیراعظم ان باتوں پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں لیکن اپنے رہنماؤں کو منع نہیں کرتے، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے پہلے، توسیع کے بعد اور قانون سازی کے بعد بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کی طرف سے ایسی باتیں ہوتی رہی ہیں، فیصل واوڈا نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قانون سازی فوج کی مداخلت کی وجہ سے ہوئی، انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حکومت اور اپوزیشن تمام سیاسی جماعتیں بوٹ کے اشارے پر چلتی ہیں ،جو جماعتیں بوٹ کے اشارے پر نہیں چلتیں ان کیخلاف کارروائیاں ہوتی ہیں اور جو جماعتیں بوٹ کے اشارے پر چلتی ہیں انہیں ریلیف ملتا ہے، وفاقی وزیر کی اس بات نے پوری قانون سازی کو متنازع بنادیا ہے۔ شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ حکومتی وزراء کے بیانات کے بعد پہلے سے مشکلات کا شکار ن لیگ کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں، یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ن لیگ نے اپنے بیانیہ کی قربانی دی اسے عارضی ریلیف تو ملا مگر اب ن لیگ کو طنز کا سامنا ہے، ن لیگ کا ووٹر سپورٹر ناراض ہے ساتھ ہی پارٹی میں اختلافات کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں، شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ حکومت اعتماد کے ساتھ اتحادیوں کو بھی منارہی ہے اور ن لیگ کو بھی بیک فٹ پر رکھی ہوئی ہے، جہانگیر ترین کی قیادت میں حکومتی ٹیم نے ق لیگ سے ملاقات کی، ق لیگ کے وفد نے حکومت کو چوہدری برادران کا پیغام بھی پہنچایا کہ حکومت اب یہ ڈھنڈورا پیٹنا بند کر ے کہ مونس الٰہی کو وزارت چاہئے، ق لیگ کے وزراء پچھلے کچھ عرصہ سے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ سندھ حکومت نے آئی جی سندھ کلیم امام کو ہٹانے کیلئے فیصلہ کرلیا ہے مگر وفاقی حکومت یہ بات ماننے کے موڈ میں نظر نہیں آرہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید