آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تحریر: نرجس ملک

ماڈل :مِشی

سوئیٹرز:موڈ کلاسک ویئر

آرایش: دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

امیر مینائی نے کہا تھا ؎ ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار.....سادگی گہنا ہے، اِس سِن کے لیے۔ اور خاردہلوی کا ایک شعر ہے ؎ ہے جوانی خود اپنی مشّاطہ..... حُسن کو کس قدرنکھار آئی۔ سچ تو یہ ہے کہ ’’شباب، جوبن‘‘ انسان سے لے کر پھول، بُوٹوں، رنگوں، موسموں تک جس بھی شئے پر آتا ہے، پھر قیامت ہی ڈھاتا ہے۔ جیسے اِن دنوں موسمِ سرما اپنے پورے جوبن پر ہے۔ وہ کہتے ہیں ناں ’’جوانی میں تو کیکر پر بھی پھول آجاتے ہیں‘‘ تو بس یوں سمجھیں کہ اس بار تو سردی کے معاملے میں کیکر جیسے کراچی پر بھی پھول آئے ہوئے ہیں۔ 

مدّتوں بعد ایسی سردی پڑ رہی ہے، جسے صحیح معنوں میں سردی کہا جاسکتا ہے۔ سالوں سے بکسوں، صندوقوں میں بند کمبل، رضائیاں، سوئیٹرز، جیکٹس، گرم شالیں، مفلرز تک نکل آئے ہیں۔ اور تو اور، شہر میں عرصے سے ماٹھا پڑا لنڈے کا کاروبار تک ایک بار پھر چمک اُٹھا ہے۔ جب کہ ماہرینِ موسمیات سردی کے دورانیے میں اضافے کی بھی رپورٹس دے رہے ہیں کہ امسال موسمِ سرما کے وسط مارچ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

چلیں خیر، یخ بستہ رُت نے تادیر ٹھہرنے کی ٹھانی ہے، تو ہم بھی بھلا کہاں کسی سے پیچھے رہنے والے ہیں۔ آپ کے لیے عین موسم سے ہم آہنگ ایک اور بہت ہی حسین و رنگین، دل کش و دل آراء سے انتخاب کےساتھ حاضرِ خدمت ہیں۔ ذرا دیکھیے، سفید رنگ بیگی اسٹائل کیولوٹ پینٹ کے ساتھ میجنٹا رنگ کارڈیگن اسٹائل سوئیٹر کا امتزاج کیسا عُمدہ، اجُلا، کِھلا کِھلا سا لگ رہا ہے۔ سفید اسٹرائپ کے ساتھ سیاہ رنگ اسٹریٹ پینٹ پر سفید و کاسنی کے تال میل میں حسین راؤنڈڈ کارڈیگن ہے، تو لائٹ فَر کے خُوب صُورت ڈیزائن سے آراستہ آف وائٹ کارڈیگن کا بھی کیا ہی کہنا۔ بلیو جینز کے ساتھ سُرمئی، آف وائٹ کے کامبی نیشن میں ایک بہت اسٹائلش سا لُک ہے، تو سَرما کے خالص رنگ، گہرے عنّابی رنگ کے دل آویز سوئیٹر نے بزم کا حُسن بھی جیسے دو آتشہ کردیا ہے اور لائٹ، ڈارک بلیو کے سدا بہار امتزاج میں نفیس ڈیزائننگ، موتی، نگوں کی آراستگی لیے کارڈیگن کا تو سمجھیں کوئی مول ہی نہیں۔

ایک تو ماڈل سُندر، کومل پریوں جیسی، سونے پہ سہاگا، ایک سے بڑھ کر ایک رنگ و انداز۔ دیکھنے والوں نے تو پھر کہنا ہی ہے ناں ؎ حور ہو یا کوئی پَری ہو تم.....کیسے دل میں اُتر گئی ہو تم.....تیری آنکھوں میں نیلے دریا ہیں.....میرے خوابوں کی جل پَری ہو تم.....زندگی بھی تو عارضی ٹھہری.....کیسے کہہ دوں کہ زندگی ہو تم.....تم مِری نظم ہو، تخیّل ہو.....میری اُردو ہو، شاعری ہو تم.....دیکھ جگنو بھی تم سے جلتے ہیں.....چاند نگر کی چاندنی ہو تم.....آئنہ خانہ بن گئی آنکھیں.....سامنے ہُوبہو کھڑی ہو تم.....آخری بار دیکھ لوں تم کو.....کیا پلٹ کر بھی دیکھتی ہو تم۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید