• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئٹہ میں سیکڑوں محنت کش بچوں کا حکومت کیا کرے گی؟

کوئٹہ میں سیکڑوں محنت کش بچوں کا حکومت کیا کرے گی؟


کوئٹہ کے برفیلے موسم میں گھریلو مالی حالات سے مشقت پر مجبور ایک کم سن محنت کش بچے اسداللّٰہ کی تو بالآخر سنی گئی، صوبائی حکام اور پاکستان بیت المال اس بچے کی مالی مدد اور معاونت کے لیے سامنے آگئے اور اب سوال یہ ہے کہ کوئٹہ میں اسداللّٰہ جیسی صورتحال سے تو دیگر سیکڑوں بچے بھی نبردآزما ہیں تو ان کا کیا ہوگا؟

کوئٹہ کے سات سالہ اسداللّٰہ کی سوشل میڈیا پر بوٹ پالش اور برش کے ساتھ وائرل ہونے والی تصویر اور ویڈیو نے تو ارباب اقتدار اور اختیار کو جیسے خواب غفلت سے جگادیا۔

پہلے وزیراعلیٰ جام کمال خان نے اسداللّٰہ کےحوالےسے نشر ہونے والی خبر پر نوٹس لیا اور اس کے والدین کی مالی مدد کی اور اسی طرح ایم ڈی پاکستان بیت المال کو بھی اس کا خیال آگیا اور ایک ٹویٹ کے ذریعے پیغام دیا گیا ہے کہ بچے کی مالی مدد کردی گئی اور اسے اسکول میں داخلے کے ساتھ یونیفارم، جوتے، کتابیں اور اسکول بیگ بھی فراہم کردیا گیا ہے۔

ارباب اقتدار کے نوٹس لینے پر کوئٹہ میں ایک اسداللّٰہ کی مشکل تو دور ہوگئی، مگر شدید سرد موسم میں شہر کی سڑکوں پر خوار ہوتے اور مزدوری کرتے محمد صادق، جانان، عبدالنبی اور اس طرح کے دیگر حالات کے مارے تو اپنی اور اپنے گھر والوں کی پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اب بھی سڑکوں پر ہیں۔

چائلڈ لیبر کی روک تھام کے حوالے سے قوانین اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے حکومتی بلند و بانگ دعوے اپنی جگہ مگر تلخ زمینی حقائق یہی بتارہے ہیں کہ محمد صادق، جانان، عبدالنبی اور اس طرح کے دیگر بیشتر چھوٹے مزدور بچوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کا معاشی سہارا ہیں اور اگر وہ مزدوری نہیں کریں گےتو تیزی سے بڑھتی مہنگائی کے اس دور میں آخر گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟

سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کے پاس اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے کوئی حل موجود ہے؟

تازہ ترین