آپ آف لائن ہیں
منگل13؍ذی الحج 1441ھ 4؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مخمصوں سے نکلنے کا وقت ہے…؟

فکرفردا … راجہ اکبردادخان
 وزیراعظم پاکستان عمران خان جب چند ماہ قبل مظفر آباد گئے تو کشمیریوں کے لیے یہ پیغام چھوڑ آئے کہ ان کے (وزیراعظم) کے کہے بغیر کنٹرول لائن عبور کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور تحریکوں میں مشکل وقت آتے رہتے ہیں۔ گھبرانا نہیں چاہیے اور یہ سب کچھ انہوں نے دو کامیاب امریکی دوروں کے بعد کہا جس عمران خان کو پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد جانتی ہے، ان سے ایسی نصیحات سننا اور انہیں خاموشی سے ہضم کرلینا لوگوں کے لیے مشکل تھا، جس کی کڑواہٹ ابھی تک قائم ہے۔ کشمیر پر جو کچھ ٹرمپ نے کہا وہ اس چوہے، بلی کھیل کا حصہ تھا، جو طالبان امریکہ مذاکرات حوالہ سے کھیلا جارہا ہے۔ اگرچہ خان صاحب پاکستانی حوالےسے جو کچھ کہہ آئے وہ نبھایا جارہا ہے مگر ٹرمپ کا جلد بھارت دورہ ہماری توقعات پر پانی پھیر رہا ہے یا وزیراعظم کی زوردار یو این تقریر ان کا غصہ نکالنے کا اپنا طریقہ تھا۔ 27فروری2019ء واقعات کی برسی کو بھی کم ہی دن باقی رہ گئے ہیں، اس موقع پہ ہم نے کامیابی بھی حاصل کی، مگر دفاعی حوالوں سے کمزوریاں بھی سامنے آئیں، پچھلے چھ ماہ میں بھارت آزاد کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کرکے اسے اپنے ملک کا آئینی طور پر حصہ بنا چکا ہے جسے بین الاقوامی دنیا نے تسلیم کرلیا ہے۔ سیکورٹی کونسل فرانس اور چین کے درمیان تقسیم ہے، جس کی وجہ سے وہاں سے بہتری کی خبر نہیں آرہی۔ روٹین کی کارروائیاں نہ تو مسئلہ کو کسی حل کی طرف لے جارہی ہیں اور نہ ہی پانچ ماہ سے چلتے کرفیو اور ذرائع ابلاغ میں بہتری لانے کے لیے کچھ کیا جاسکا ہے، میڈیا میں روزانہ کے حکومتی بیانات کہ پوری پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کشمیریوں کے لیے ہمہ دم سفارتی جنگ لڑتا رہے گا، ایسے بیانیے ہیں جو حقیقت میں اپنی قدرو قیمت کھو بیٹھے ہیں، لوگ اس بیانیے سے آگے دیکھنا اور بڑھنا چاہتے ہیں،بھارت کے ساتھ اگر بین الاقوامی فورمز پر بات کرنے کے مواقع ابھرتے ہیں تو انہیں ضائع نہیں ہونا چاہیے،مسئلہ کشمیر پہ ملک میں پایا جانے والا ’’سکوت‘‘ پاکستان اور تحریک آزادی کے لیے نقصان دہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان ایک طلسماتی شخصیت ہیں جو ایسے قومیImpassesکے دوران بھی وہ کچھ حاصل کرلینے کی اہلیت رکھتے جو روایتی سیاستدانوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ الگ معاملہ ہے کہ حکومت میں آکر وزیراعظم بھی وہ اوریجنل عمران خان نہیں رہے جو میچوں میں سنچری بھی بنایا کرتے تھے اور10وکٹیں بھی لے اڑتے تھے۔ بحیثیت وزیراعظم وہ اپنی زندگی کی اہم ترین اننگز کھیل رہے ہیں اور اس اننگز کے درمیان میں کشمیر پر ان کی ٹیم مشکلات کا شکار ہے یا تو جرأت مندانہ اننگز کھیلتے ہوئے ٹیم کو کامیابی دلوانی ہے یا اچھا کھیل کھیلتے ہوئے کھیل بچانا ہے۔ بھارت کو آزاد کشمیر پر قبضہ سے پیچھے دھکیلے رکھنا ہماری سفارت کاری کا اتنا ہی اہم پہلو ہے جتنا کہ دنیا کو یہ تسلیم کروانا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی اتنی ہی موثر ہیں جتنی کہ وہ روز اول تھیں، نہ ہی ہمارے قومی بیانیے اور نہ ہی آزاد کشمیری، گلگت بلتستانی آوازیں دنیا کے دلوں میں اس مسئلہ پہ اپنے لیے جگہ بناسکی ہیں۔ پی ٹی آئی کو اقتدار میں آئے تو ڈیڑھ سال ہی ہوا ہے۔ 72برس میں اس مسئلہ کو پروموٹ کرنے میں کھربوں روپے خرچ ہوئے ہیں۔ ہم نے ایک جنگ کرکے بھی دیکھ لی، مگر کوئی مضبوط بیانیہ جسے دنیا قبول کرسکتی، ہم سے تیار نہ ہوسکا، جہاں ہم نے کئی دوسرے اہم اہداف جس کے لیے وہاں ہم اپنے مرکزی ہدف ’’آزادی کشمیر‘‘ پر بھی بات آگے نہ بڑھا سکے، یہاں اگر ہمیں اپنی ’’قومی اہلیت‘‘ پہ سوال اٹھتے نظر آئیں تو کسی کو بھی منہ چڑانے کی ضرورت نہیں۔ ایک جیتے ہوئے ابتدائی موقف پہرہم بین الاقوامی دنیا سے ’’ڈیل ڈن‘‘ نہ کرواسکے۔ موجودہ مخمصہ صورت حال سے باہر نکلنے کا ایک سفارتی طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وزیر خارجہ سطح کا ایک درمیانی درجہ کا وفد بھارت بھیجا جائے جس کا بیانیہ یہ ہوکہ پرامن زندگی کے لیے ہمسایوں سے بات چیت ضروری ہے اور ہم اسی تسلیم شدہ حقیقت کو عملی جامہ پہنانے بھارت آئے ہیں، موجودہ سکوت کو ٹوٹنا تو ہے ہی اور اگر یہ ہماری ٹرمز پہ اگر ٹوٹتا ہے تو اس سے بہتر کیا ہوسکتا ہے؟ وزیراعظم اپنے دور کے کئی بھارتی کرکٹر سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعہ کرکٹ ڈپلومیسی کو طاقت بخشتے ہوئے گفت و شنید کے بند دروازے کھولنے کے لیے کوششیں کی جانی اچھی سوچ ہوگی۔ حکومت کی ذمہ داریوں نے عمران خان ’’دی میگا اسٹار‘‘ کو پروٹوکول اور سرکاری ضوابط کے درمیان قید کر رکھا ہے، جس سے اتنے فوائد نہیں ابھر رہے جتنے آزاد عمران خان سے کام لینے میں ابھر سکتے ہیں۔اندرون ملک پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے معاملات، مرکزی حکومت کے حوالہ سے کچھ اپنوں اور غیروں کی ریشہ دوانیاں بھی وزیراعظم کے وقت کا بڑا حصہ قبضہ میں لیے ہوئے ہیں۔ پرانے وقتوں سے ساتھ چلتے جماعتی دوستوں کی وفاداریاں وزیراعظم کے ساتھ کھڑی ہونے کی وجہ سے حکومت قائم رہے گی، ہر جگہ سے پنجاب میں تبدیلی کی آوازیں اپنی جگہ جو لوگ بہتر پرفارمنس دینے کی خواہش رکھتے ہیں، انہیں اپنے کارڈ میز پہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم آواز خلق کو نقارہ بھی مانا جاتا ہے۔شنید ہے کہ پانچ فروری کو وزیراعظم میرپور جا رہے ہیں۔ ان کا حالیہ بیان کہ ایل او سی کی بھارتی خلاف ورزیوں کا جواب دینے کا وقت آگیا ہے، نہایت اہم ہے، ان خلاف ورزیوں کا جواب فوجی کارروائیوں کے ذریعہ بھی دیا جاسکتا ہے اور سفارتی کامیابیوں کے زریعہ بھی، اگر بین الاقوامی مبصرین کی تعداد مزید اختیارات کے ساتھ بڑھ جاتی ہے تو یہ بھی ایک سفارتی کامیابی ہوگی، جس کی پشت پر ریاست کے اس حصہ میں بھارتی تشدد میں کمی لائی جاسکے گی۔ وزیراعظم کے پاس کشمیر پہ کوئی نیا بڑا آپشن موجود نہیں، ان کی جماعت کیلئے آزاد کشمیر میں کئی نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ اگلے انتخابات بھی زیادہ دور نہیں، جن کے لیے صرف بندیاں شروع ہوچکی ہیں، مسئلہ کشمیر سے ریاستی سطح پہ باآواز بلند نمٹنے کیلئے کسی ’’اتحاد ثلاثہ‘‘ کے تحت قومی حکومت کے امکانات پہ مقتدر حلقوں میں بحث و مباحثہ شروع ہوچکا ہے۔ اللہ ان تمام کوششوں کو کامیابی عطا فرمائے جو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کی جا رہی ہیں۔ 
یورپ سے سے مزید