آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کرپشن میں کمی کی بجائے اضافہ، پاکستان کا دس سال میں کم ہوتا کرپشن انڈیکس33 سے بڑھ کر32، عالمی رینکنگ میں کمی117 سے120 ہوگئی، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

کرپشن میں کمی کے بجائے اضافہ


جنیوا(خبرایجنسی، جنگ نیوز)ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نےاپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہےکہ پاکستان میں کرپشن میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا۔

پاکستان کا 10سال میں کم ہوتا کرپشن انڈیکس 33سے بڑھ کر 32ہوگیا، عالمی رینکنگ میں کمی 117سے 120ہوگئی۔

عالمی ادارے نے اپنی سفارشات میں لکھاکہ کرپشن روکنے کیلئے شہریوں کو بااختیار کیاجائے، سماجی کارکنوں ، نشاندہی کرنےوالوں اور صحافیوں کو تحفظ دیاجائے۔

چیک اینڈ بیلنس اور اختیارات الگ کیے جائیں،سیاسی فنانسنگ کنٹرول، سیاست میں پیسے، اثرو رسوخ، مفادات کے تصادم ، بھرتیوں کے طریقہ کار کو قابو کیاجائے، لابیز کو ریگولیٹ، الیکٹورل ساکھ مضبوط ، غلط تشہیر پر پابندی لگائی جائے۔

ادھر عالمی ادارے نے یہ بھی انکشاف کیاہےکہ بھارت ، افغانستان ، بنگلہ دیش ، ایران، جرمنی،امریکا، برطانیہ ، جاپان اور فرانس سمیت G7ممالک میں بھی کرپشن بڑھی جبکہ ملائیشیا میں صورتحال بہتر ہوئی۔

تفصیلات کےمطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کے 180 ممالک میں کرپشن سے متعلق 2019ء کی رپورٹ جاری کر دی، جس میں بتایا ہے کہ 2018ء کی نسبت 2019ء کے دوران پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے۔

پاکستان کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پچھلے سال کی نسبت ایک نمبر کم حاصل کر سکا۔رپورٹ کے مطابق 2018ء میں پاکستان نے کرپشن کےخلاف اقدامات میں 33نمبر حاصل کیے تھے لیکن 2019ء میں پاکستان کا اسکور 32رہا۔

32 اسکور حاصل کرنے پر پاکستان کا کرپشن پرسیپشن انڈیکس 117سے 120ویں درجے پر چلا گیا ۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے 180رینکس میں پاکستان کا رینک 120ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی گزشتہ رپورٹس کے مطابق 2010ء سے 2018ء تک پاکستان کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں مسلسل بہتری کی جانب بڑھ رہا تھا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ کے مطابق 10 سالوں میں یہ پہلی بار ہے کہ کرپشن سے متعلق انڈیکس میں پاکستان آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ چیئرمین جاوید اقبال کی زیرِ قیادت قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارکردگی بہتر رہی، نیب پاکستان نے بدعنوان عناصر سے 153 ارب روپے نکلوائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019ء میں زیادہ تر ممالک کی کرپشن کم کرنے میں کارکردگی بہتر نہیں رہی۔

2019ء میں پہلا نمبر حاصل کرنے والے ڈنمارک کا اسکور بھی 1 پوائنٹ کم ہو کر 87 رہا۔ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ جی 7 کے ترقی یافتہ ممالک بھی انسدادِ بدعنوانی کی کوششوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

امریکا، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کا انسدادِ بدعنوانی کا اسکور بھی کم رہا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کا اسکور 2، برطانیہ اور فرانس کا 4 اور کینیڈا کا انسدادِ بدعنوانی اسکور 4 درجے کم رہا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں بڑھتی کرپشن روکنے کے لیے سفارشات بھی تجویز کی ہیں، جن کے مطابق دنیا بھر میں سیاسی فنانسنگ کو کنٹرول کیا جائے۔

سیاست میں بڑے پیسے اور اثر و رسوخ کو قابو کیا جائے،بجٹ اور عوامی سہولتوں کو ذاتی مقاصد اور مفاد رکھنے والوں کے ہاتھوں میں نہ دیا جائے۔

مفادات کے تصادم اور بھرتیوں کے طریقے پر قابو کیا جائے،دنیا بھر میں کرپشن روکنے کے لیے لابیز کو ریگولیٹ کیا جائے،الیکٹورل ساکھ مضبوط کی جائے،غلط تشہیر پر پابندی لگائی جائے۔

شہریوں کو بااختیار کریں،سماجی کارکن، نشاندہی کرنے والوں اور صحافیوں کو تحفظ دیں، کرپشن روکنے کے لیے چیک اینڈ بیلنس اور اختیارات کو علیحدہ کیا جائے۔

اہم خبریں سے مزید