آپ آف لائن ہیں
ہفتہ10؍شعبان المعظم 1441ھ4؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جامعہ کراچی: وائس چانسلر کے تقرر کیلئے تلاش کمیٹی پر سینئر پروفیسرز نے سوال اٹھادیے

جامعہ کراچی میں وائس چانسلر کےتقرر کے لیے بنائی گئی تلاش کمیٹی پر سینئر پروفیسرز نے سوال اٹھا دیے ہیں۔ صوبے کی سرکاری جامعات کے چانسلر اور وزیر اعلیٰ سندھ کو پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری، پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر، پروفیسر ڈاکٹر بلقیس گل، پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ جمال احمد صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر عارف کمال اور پروفیسر ڈاکٹر جمیل کاظمی نے مکتوب لکھا ہے۔

مکتوب میں کہا ہے کہ انہوں نے بھی وائس چانسلر کے لیے درخواست جمع کروائی تھی لیکن انہیں شارٹ لسٹ نہیں کیا گیا، اس لیے انہیں شارٹ لسٹ کرنے کا معیار بتایا جائے۔

جامعہ کراچی: وائس چانسلر کے تقرر کیلئے تلاش کمیٹی پر سینئر پروفیسرز نے سوال اٹھادیئے
سینئر پروفیسرز کے مکتوب کا عکس

ان کا کہنا ہے کہ 29 جون 2019 کو جو اشتہار جاری کیا گیا تھا اس میں معیار یہ رکھا گیا تھا کہ درخواست دینے والے امیدوار کے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ قومی و بین الاقوامی جریدوں میں کم از کم 25 تحقیقی مقالے شائع ہوں، درس و تدریس اور سینئر انتظامی عہدوں پر کام کرنے کا 20 سال کا تجربہ ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ پہلے اشتہار کی مدت ختم ہونے کے بعد اکتوبر 2019 میں جان بوجھ کر ترمیم کی گئی اور پاکستان کی صفِ اول کی جامعہ میں ڈاؤن گریڈڈ معیار رکھ دیا گیا، جس کی رو سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ قومی و بین الاقوامی جریدوں میں کم از کم تحقیقی مقالوں کی تعداد کم کرکے 15 کردی گئی اور تدریسی عہدوں پر 20 سال کے تجربے میں سے کم از کم 10سال سینئر انتظامی عہدوں پر تجربہ مانگا گیا۔

مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے معیار کے مطابق ہم میں سے کچھ امیدوار پہلے ہی جامعہ کراچی اور وفاقی اردو جامعہ کے وائس چانسلر کے لیے اہل قرار دیے گئے ہیں، اس لیے حالیہ چھان بین میں ہمارے نام شامل نہ کرنے پر سوال اٹھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ تلاش کمیٹی کے اراکین پر ہمیں شدید تحفظات ہیں کیونکہ وہ جامعہ کراچی سے براہ راست منسلک رہے ہیں، اس لیے بدنیتی اور اقرباء پروری کا احتمال ہے۔

انہوں نے درخواست کی ہے کہ جامعہ کراچی کے وسیع تر مفاد اور انصاف کے لیے اس عمل کو ختم کر دیا جائے۔

مکتوب کے ساتھ پروفیسرز نے اپنی سی ویز اور تمام دستاویزات بھی منسلک کی ہیں۔

قومی خبریں سے مزید