آپ آف لائن ہیں
جمعہ9؍ شعبان المعظم1441ھ 3؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مہینے کے آخر میں پیسے نہ بچنے کی پریشانی کا حل چاہتے ہیں؟

مہینے کے آخر میں پیسے نہ بچنے کی پریشانی کا حل چاہتے ہیں؟


ایک تنخواہ دار ملازم کے لیے ہر ماہ کے اختتام کے وقت ایک مسئلہ سب سے زیادہ گھمبیر دکھائی دیتا ہے اور وہ ہے مہینے کے آخر میں پیسے نہ بچنے کا مسئلہ لیکن ایسے میں اگر چند باتوں کا خیال کیا جائے تو اس کی مدد سے ہم اس پریشانی سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔

غیر ملکی ٹیبلائیڈ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں 48 فیصد 18 سے 55 سال کی عمر کے افراد اپنے اخراجات کے لیے موجود رقم اور مہینے کے آخر میں اس کے نہ بچنے کی وجہ سے پریشان ہی دکھائی دیتے ہیں چاہے ان کی تنخواہ کتنی ہی ہو۔

ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 46فیصد افراد ایسا سوچتے ہیں کہ مہینے کے اختتام میں جو مسائل سامنے آتے ہیں ان کا سامنا کرنے والے وہ واحد شخص ہیں لیکن ایسا نہیں ہے، تقریباً ہر شخص ہی اس پریشانی کا شکار رہتا ہے۔

ایک ماہر امور فلاح و بہبود اور زندگی کے مسائل کے حل پر مبنی کتاب ’اوپن اپ‘ کی مصنفہ ایلکس ہولڈر نے 4 آسان اقدامات بتائے ہیں جن کی وجہ سے مالی مسائل کو دور کیا جاسکتا ہے۔



پیسوں کے بارے میں بات کرنا


پیسے کی انسان کو پریشانی میں مبتلا کرنے کی وجوہات میں سب بڑی وجہ مالی معاملات کے بارے میں بات کرنے سے ہچکچانا ہے، تاہم ہم مالی پریشانیوں کے بارے میں کھلے رہیں۔

پیسوں کے بارے میں بات کرنا اکثر ممنوع موضوع کی صورت میں دیکھا گیا ہے، تاہم گزشتہ کئی سالوں سے اس معاملے میں بڑی پیشروفت دیکھنے میں آئی ہے اور بہبود سے لے کر ذہنی مسائل تک حل کیے گئے ہیں تاکہ غیر منقسم مثبت جسمانی نقوش کو سامنے لانے کے لیے فروغ دیا جائے۔

اس کے باوجود لوگ پیسوں سے متعلق اپنی بات کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

محققین کا ماننا ہے کہ وہ لوگوں کی پیسوں یا مالی مسائل سے متعلق بات کرنے کی ہچکچاہت دور کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔


مالی معاملات کی بہتری پر توجہ


اس معاملے میں دوسرا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انسان بغیر کسی پریشانی کا شکار ہوئے اپنے مالی معاملات کی بہتری کی جانب اپنی توجہ رکھے اور اس سمت میں محنت کرتا رہے۔

اس کی وضاحت ماہر فلاح و بہبود کہتی ہیں کہ اپنے آپ کا موازنہ دوسروں سے نہ کیا جائے۔

اسی طرح ہر اس چیز پر بھروسہ نہ کیا جائے جو آپ آن لائن دیکھتے ہیں اور اس بات پر بھی یقین رکھیں کہ دوسرے لوگ بھی آپ ہی کی طرح ایک کشتی کے مسافر ہیں اور صرف آپ ہی ایسے نہیں ہیں جو مالی مسائل کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

کچھ لوگ اپنی آمدنی اور اخراجات کی ایک پوری شیٹ تیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اس پریشانی سے دور رہتے ہیں جبکہ دوسروں کے لیے دیگر آپشنز بہتر ہوسکتے ہیں۔

ان افراد کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کے لیے بہتر کام کونسا ہے جو وہ اپنے مقرر بجٹ میں کر بھی سکتے ہیں اور اس کی مدد سے اپنے آپ کو مطمئن بھی کرسکتے ہیں۔



قبول کر لیں کہ آپ کے پاس کبھی ’کافی‘ پیسہ نہیں ہوگا


یہ ایک وہ مالی مسئلہ ہے کہ جو ہر شخص کی زبان پر رہتا ہے اب چاہیے وہ مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا، ہر شخص یہی کہتے ہوئے پایا جاتا ہے کہ میرے پاس ’مناسب یا کافی‘ پیسہ نہیں ہے۔

ماہرین اس حوالے سے کہتے ہیں آپ کو یہ قبول کر لینا چاہیے کہ میرے پاس جو پیسہ ہے وہ میرے لیے کافی ہے۔

انسانی زندگی میں ہر چیز کا جواب صرف پیسہ ہی نہیں ہوتا، مالی مسائل کی پریشانی دیگر مسائل کی پریشانی سے مختلف ہوتی ہے، پیسوں کا دباؤ انسان کو اندر سے کمزور کردیتا ہے۔

اگر آپ اپنے آپ کا دوسروں سے موازنہ کرنے کی لت کا شکار ہیں تو آپ یہ ترک کرتے ہوئے اپنے کمائے ہوئے پیسوں اور ان سے حاصل ہونے والی آسائیشوں پر اطمینان کا اظہار کرنا چاہیے اور کہنا چاہیے کہ یہ میرے لیے کافی ہے۔



سوشل میڈیا کو اثرانداز نہ ہونے دیں


سوشل میڈیا اس وقت خود ایک جھوٹ کا لبادہ اوڑھے دکھائی دیتا ہے جہاں ہر شخص سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس طرح تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہیں جو ظاہری طور پر ایسے نہیں ہوتے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کبھی بھی مالی معاملات کو حل کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوا جبکہ اس کی وجہ سے دوسروں کو دیکھ کر مزید پریشانی کا شکار ہونا بھی ایک حقیقت بنتا جارہا ہے۔

18 سے 34 سال کی عمر کے حامل افراد اپنی مالی حالت کو اپنی بدترین حالت قرار دیتے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ آن لائن نظر آنے والے اپنے دوستوں سے خود کا موازنہ ہے۔

سوشل میڈیا کی اس زندگی میں ہم اپنے آپ کو بھرپور آسائیشوں کے ساتھ رہنے والے فلمی ستاروں، کھلاڑیوں اور دیگر سیلیبریٹیز کے ساتھ اپنا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔

سوشل میڈیا کی طرح ہی یہ ضروری ہے کہ ہم یاد رکھیں کہ گھاس ہمیشہ ہی زیادہ سبز نہیں ہوتی۔

خاص رپورٹ سے مزید