آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جاویدجعفری ایک بار پھر تنقید کا شکار

بالی ووڈ کامیڈین اداکار جاوید جعفری کو متنازع شہریت قانون کے خلاف بولنے پر ایک بھارتی ٹوئٹر صارف  نے یورپ منتقل ہونے کا مشورہ دے دیا۔

گزشتہ دِنوں بھارتی کامیڈین اداکار جاوید جعفری نے ٹوئٹر پر بھارت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف یورپ میں جاری احتجاج کے حوالے سے ایک خبر شیئر کی تھی جس کے کیپشن میں اُنہوں نے لکھا تھا کہ ’سی اے اے کے خلاف قرارداد یورپ منتقل ہوگئی ہے۔‘

جاوید جعفری کے اِس ٹوئٹ کے بعد ایک بھارتی ٹوئٹر صارف نے کامیڈین اداکار کو یورپ منتقل ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’آپ یورپ کیوں نہیں منتقل ہوجاتے؟ ہمیں اپنی قوم میں غداروں کی ضرورت نہیں ہے۔‘

بھارتی صارف کے اِس تنقید بھرے ٹوئٹ پر جاوید جعفری بھی خاموش نہ رہے اور اُنہو ں نے خاتون کے جوابی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’آپ کی قوم؟ میم آپ نے کب خریدی؟۔‘

جاوید جعفری نے بھارتی صارف کو طنزیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’جب میں نے پچھلی بار بھارت کا آئین پڑھا تھا تو اُس میں جمہوریت، مساوات اور اختلاف رائے کے حق کی بات کی گئی تھی، میں نہیں جانتا تھا کہ آپ نے ذاتی طور پر آئین میں تبدیلیاں کی ہیں، مہربانی کرکے اپنی تبدیلیاں اپ ڈیٹ کردیں۔‘

یہ بھی دیکھئے :جاوید جعفری مودی سرکار کے خلاف بولنے پر تنقید کا شکار


بھارتی کامیڈی اداکار پر تنقید یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ بھارت کے سابق پارلیمنٹ ممبر اور بی جے پی رہنما نریندر سوائیکر نے جاوید جعفری کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’تالیاں مسٹر جاوید۔۔ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟۔‘

بی جے پی رہنما نے لکھا کہ ’اُمید ہے کہ آپ اِس بات سے واقف ہوں گے کہ بھارت ایک آزاد اور خود مختار جمہوریہ ہے، بھارتی وہ کریں گے جو اُن کے لیے اور قوم کے مفاد کے لیے بہتر ہوگا۔‘

بی جے پی رہنما کے اِس ٹوئٹ پر جاوید جعفری نے جواب دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’سر اگر بھارت کو بین الاقوامی خیالات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے تو کیوں آپ لوگ اُن کو بھارت میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟‘

کامیڈین اداکار نے لکھا کہ ’ میں اِس بات سے بہت اچھی طرح واقف ہوں کہ بھارت کیا ہے اور این آر سی کے ساتھ مل کر آپ لوگ سی اے اے کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

جاوید جعفری کے اِس ٹوئٹ پر بی جے پی رہنما نے جواب دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’ سی اے اے پاس ہوچکا ہے، این آر سی نہیں، تو پھر کیوں این آر سی پر بات کریں؟‘

اُنہوں نے لکھا کہ ’آئین سازی کا معاملہ سپریم کورٹ کے پاس ہے، آئیے نتائج کا انتظار کریں، کیوں پہلے سے نتائج دے رہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ جاوید جعفری بھارت میں جاری متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے نظر آتے ہیں اور ان کا نام سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مشہور شخصیات کے لکھے ہوئے خط پر متعدد دستخط کرنے والوں میں بھی شامل ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید