آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کنساس اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر رے بوائل کہتےہیں، ’’اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ماہرین تعمیرات کسی عمارت کی ہیئت و ساخت کا تعین کرتے ہیں، مگر اصل میں سول انجینئرز ہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی بھی عمارت کو کام کرنے کے لائق بناتے ہیں‘‘۔

عمارتوں کے فرش اور دیواریں اس غرض سے تیار کی جاتی ہیں کہ وہ عمارت کا زیادہ سے زیادہ وزن برداشت کرسکیں اور چھتیں اس طرح بنائی جاتی ہیں کہ وہ موسموں کی سختیوں کا مقابلہ کرسکیں۔عمار ت کی تعمیر میں ان بنیادی عناصر کےساتھ ساتھ بجلی، پانی اور نکاسی کے انتظامات بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ 

تعمیراتی مادے کے معیار کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے جبکہ آگ یا دیگر آفات کی صورت میں ہنگامی اخراج کے راستوں اور طریقوں کا بھی تعین کیا جاتاہے، یعنی کسی بھی عمارت کی بنیاد رکھنے سے پہلے اس کے استحکام و پائیداری، کارکردگی، حفاظت اور استعمال کے مقصد کو ذہن میں رکھا جاتا ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ سول یا تعمیراتی انجینئر تعمیراتی منصوبوں کا انتظام کرتے وقت اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ تعمیر منصوبہ بندی اور خصوصیات کے مطابق مکمل ہو۔ وہ عام طور پر تعمیر کے دوران استعمال ہونے والے عارضی ڈھانچے کے ڈیزائن اور حفاظت کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی بجٹ، ٹائم مینجمنٹ اور مواصلات کے پہلوؤں کی بھی نگرانی کرسکتے ہیں۔

سول انجینئرنگ کی تعلیم

سول انجینئرز کو سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی میں بیچلر ڈگری کی ضرورت ہوتی ہے۔ سول انجینئرنگ یا سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی کے پروگراموں میں ریاضی، اعدادوشمار، انجینئرنگ میکینکس اینڈ سسٹم اور فلیوڈ ڈائنامکس کے کورسز شامل ہیں، جن کا انتخاب اس بات پر ہوتاہے کہ آپ کس فیلڈ میں اسپیشلائزیشن کرنا چاہتےہیں۔ 

ان کورسز میں روایتی طور پر کلاس روم میں سیکھنے اور لیبارٹریوں میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ فیلڈ ورک بھی شامل ہوتا ہے۔ پروگراموں میں کوآپریٹو پروگرام (جسے Co-opsبھی کہا جاتا ہے) بھی شامل ہے، جس میں طلبا ڈگری حاصل کرتے ہوئے کام کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔

لائسنس / سرٹیفیکیشن

سول انجینئر کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے انٹری لیول کے عہدوں کے لئے لائسنس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک پیشہ ور انجینئرنگ (PE) لائسنس کے حامل افراد کو اعلیٰ سطح کے پروجیکٹس کی ذمہ داری ملتی ہے، یہ لائسنس کیریئر میں کبھی بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 

لائسنس یافتہ انجینئرز کو پیشہ ور انجینئر (PEs) کہا جاتا ہے۔ ایک پیشہ ور لائسنس یافتہ انجینئر دوسرے انجینئرز کے کام کی نگرانی کرسکتاہے، منصوبوں کے ڈیزائن کی منظوری دے سکتاہے ، منصوبوں پر دستخط کرسکتا ہے اور عوام کو براہ راست خدمات مہیا کرسکتا ہے۔

سول انجینئرنگ میں اسکوپ

تجربہ رکھنے والے سول انجینئرز سینئر عہدوں پر جاسکتے ہیں، جیسے پراجیکٹ منیجر، ڈیزائن، تعمیر ، آپریشن یا منٹیننس منیجر۔ تاہم، انہیں پہلے پروفیشنل انجینئرنگ (PE) لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ صرف لائسنس یافتہ انجینئر ہی عوامی منصوبوں کی ذمہ داری قبول کرسکتے ہیں۔

سول انجینئرز کیلئے کیریئر

سول انجینئرنگ کی ڈگر ی حاصل کرنے کے بعد یہ آپ کی دلچسپی اور صوابدید پر ہے کہ آپ اپنا کیریئر کن بنیادوں پر استوار کرتے ہیں۔ جیسے کہ آرکیٹیکچرل انجینئر، برج انجینئر، سہولیات انجینئر، جیو ٹیکنیکل انجینئر، ہائی وے انجینئر، ہائیڈرو گرافک انجینئر، ہائیڈرولک انجینئر، ریسرچ ہائیڈرولک انجینئر، اسٹرکچرل انجینئر اور ٹرانسپورٹیشن انجینئر وغیرہ۔ 

تاہم کچھ شعبوں میں آمدنی کے زیادہ مواقع ہیں، ان میں آرکیٹیکچرل اور انجینئرنگ منیجر، تعمیراتی منیجر،ماحولیاتی انجینئر، جیو سائنسدان، میکینکل انجینئر، کان کنی اور ارضیاتی انجینئر، نیوکلیئر انجینئر اور پیٹرولیم انجینئر قابل ذکر ہیں۔ آمدنی کا انحصار آپ کے تجربے، لائسنس اور تعلیم پر بھی منحصر ہوتاہے۔

پاکستان کی صورتحال

اگر آپ پاکستان کے کسی گائوں یا چھوٹے شہر میں دس سے پندرہ سال بعد جارہے ہیں تو شاید ہی آپ کو وہاں کوئی کچا مکان نظر آئے کیونکہ اب گائوں دیہات میں بھی مکانات پکی اینٹوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی آپ کو مارکیٹس، شاپنگ پلازے، فلیٹس اور ون یونٹ بنگلوں کے منصوبے نظر آئیں گے۔ 

ملک بھر میں پھیلے موٹروے نے نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے، اس لیے نہ صرف پرائیویٹ سیکٹر بلکہ سرکاری شعبے میں بھی سول انجینئرز کی کھپت میں اضافہ ہورہاہے اور ان کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ بے شمار ہائوسنگ اسکیمیں زیر تکمیل ہیں اور تازہ بستیاں بسائی جار ہی ہیں، اس تناظر میں اگر آپ تعمیراتی انجینئرنگ کی تعلیم کسی معروف ادارے سے حاصل کررہے ہیں تو آپ کا مستقبل روشن ہے۔

بیرون ملک مواقع

پاکستانی سو ل انجینئرز نے ملک میں ہی نہیں، ملک سے باہر بھی اپنی صلاحیتوں کی دھاک بٹھا رکھی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پاکستانی انجینئرز کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتاہے ، جنہوں نے عرب کے ریگستانوں میں شہرکے شہر آباد کردیے ہیں۔ امریکا اور کینیڈا میں بھی پاکستانی انجینئرز کیلئے عمدہ مواقع موجود ہیں۔

تعلیم سے مزید