آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

قیامِ پاکستان کے بعد ریلیز ہونے والی پہلی فلم ’تیری یاد‘

14؍ اگست1947 ء کو پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے ساتھ ہی لاہور میں فلمی صنعت کی بنیاد رکھتے ہوئے فلم ساز دیوان سرداری لال نے پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کا آغاز کردیا تھا۔ تقسیم سے قبل لاہور کا شمار بمبئی اور کلکتہ کے بعد تیسرے بڑے فلمی مرکز میں ہوتا تھا، یہاں بننے والی فلمیں پُورے ہندوستان میں کام یاب رہیں۔ 

فسادات کے دوران لاہور کے نگار خانے نذرِآتش کردیے گئے، خاص طور پر پنچولی آرٹ اسٹوڈیو، جو لاہور کا ایک بڑا اہم اسٹوڈیو تھا، ہندوئوں نے جان بوجھ کر اسے جلادیا، تاکہ یہاں فلمی صنعت نہ قائم ہوسکے۔ آنجہانی دیوان سرداری لال ہندو ہونے کے باوجود نئے ملک پاکستان میں فلم سازی کا خواب لےکر میدان میں کود پڑے۔ وہ محکمہ انکم ٹیکس میں وکیل تھے۔ 

انہوں نے پنچولی آرٹ کے ٹوٹے ہوئے سامان کو اکٹھا کیا، کیمرہ اور سائونڈ سسٹم اسٹوڈیو کے باتھ روم میں ٹوٹی ہوئی حالت میں ملے۔ ان تمام ایکوپمنٹ کو چند گنے چنے ٹیکنیشن نے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا۔ ان تمام ہنرمندوں نے حُب الوطنی کے جذبے سے کام کرتے ہوئے یہاں فلمی صنعت کی داغ بیل ڈالی۔ اس دور میں بھارتی فلموں کا پاکستانی سنیما ہائوسز پر قبضہ تھا۔ اس قبضے سے سنیما ہائوسز کو آزاد کرانے کے لیے دیوان سرداری لال، لقمان، دائود چاند، فوٹو گرافر رضا میر، بھائیا حمید، جعفر شاہ بخاری، ایم عبداللہ، میاں رشید کاردار، تدوین کار ایم اے لطیف، موسیقار ناتھ ، غلام حیدر، کہانی نویس خادم محی الدین نے فلم میکنگ کی بنیاد رکھی۔ 

فلم ’’تیری یاد‘‘ کے آغاز کےساتھ چند اور فلمیں بھی شروع ہوئیں، جن میں ہدایت کار لقمان کی فلم شاہدہ، ہچکولے، جہاد، ہیر رانجھا، کندن، کروٹ نامی فلمیں بھی ابتدائی مرا حل میں شروع ہوگئی تھیں۔ 9؍ مارچ 1948ء کو پنچول آرٹ پکچرز کے جنرل مینجر دیوان سرداری لال نے لاہور کے صحافیوں کو پنچولی آرٹ اسٹوڈیو میں ایک عشائیہ دیا اور اس عشایئے کے بعد انہوں نے صحافیوں کو اپنی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی شوٹنگ دکھائی۔

فلم ’’تیری یاد‘‘ کی مختصر کہانی کاخلاصہ کچھ یُوں تھا کہ ایک دولت مند مہاراج مرنے سے قبل اپنی بیوی بیگم رانی صاحبہ (رانی کرن) کو وصیت کرتا ہے کہ انتقال کے بعد ساری جائیداد کی وارث اس کی اکلوتی بیٹی آشا ہوگی۔ رانی بیگم نے اپنے نیم چندریل (سردار محمد) کو اپنی بیٹی کا سرپرست بنایا جو ایک لالچی اور مکار شخص تھا، اس نے جائیداد کے لالچ میں آشا کو زہر دےکر ہلاک کروادیا۔ رانی بیگم نے ایک لے پالک بچی کو گود لے کر اسے آشا کا نام دیا۔ آشا (آشا پوسلے) جوان ہوئی تو چندریل کے بیٹے روپ (ناصر خان) کو چاہنے لگی ۔ دونوں کی شادی طے ہوئی۔ تاریخ نمائش: یہ فلم ہفتہ 7؍ اگست عیدالفطر 1948 کو لاہور کے پربھات سنیما میں ریلیز ہوئی۔

پاکستان کی یہ اولین فلم 90؍ دن کی شب و روز کی محنت سے پایہ تکمیل کو پہنچی ۔ بلاشبہ اس فلم کے تمام فن کار اور ٹیکنیشنز قابل ستائش ہیں، جنہوں نے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر اس پہلی فلم میں اپنی تمام خدمات بلامعاوضہ پیش کرکے ایک ایسی مثال قائم کی، جس نے پاکستان میں فلمی صنعت کی بنیادوں میں خلو ص محبت اور قربانی جیسے جذبات کو شامل کرکے یہاں فلم سازی کا پودا لگایا، جو بعد میں تناور درخت کی صورت میں پروان چڑھا اور جس کے سائے تلے نہ جانے ان گنت فن کار اور ٹیکنیشن کا فن اس کی مضبوطی اور حسن کا اضافہ بنا۔ 

دنیا کےسامنے ہماری فلمی صنعت ایک عرصے تک اپنی لاتعداد معیاری میوزیکل سپرہٹ فلموں کے ذریعے راج کرتی رہی۔ کاش یہ عروج ایک بار پھرقائم ہوجائے تو ہم برحق یہ بات کہیں فلم ’’تیری یاد‘‘ سے پڑنے و الی بنیاد آج بھی مضبوط ہے اور ہم فخریہ اپنی فلم صنعت پر ناز کرنے کے قابل ہوجائیں۔