آپ آف لائن ہیں
ہفتہ14؍شوال المکرم 1441ھ6؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’کچے کے علاقےمیں آپریشن‘ متعدد ناکامیوں کے بعد پولیس کی پہلی کامیابی

سکھر ریجن میں اغواء برائے تاوان اورڈاکوؤں کی سرگرمیوں کی وجہ سے عوام طویل عرصے سے پریشان تھے۔ پولیس نے ان کی سرکوبی کے لیے متعدد آپریشن کیے جو محکمے میں موجود کالی بھیڑوں کی وجہ سےنہ صرف ناکامیوں سے دوچار ہوئے بلکہ کئی افسران اور اہل کارڈاکوؤں کے ساتھ مقابلے کے دوران شہید ہوگئے۔ ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کارروائیوں کی مسلسل ناکامی اوربھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعدرواں ہفتے پولیس کو پہلی بار قابل ذکر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

نمائندہ جنگ کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق سکھر کے کچے کے جنگلات شاہ بیلو میں ڈاکوئوں کے خلاف پولیس کا گرینڈ آپریشن جاری ہے۔ آپریشن کے دوران پولیس نے ، 2مغویوں کو بازیاب کرایا جب کہ ، 15اشتہاری ملزمان کے علاوہ ، بدنام ڈاکو منیر مصرانی کا ساتھی بھی گرفتار ہوا۔ آپریشن کے دوران 10سہولت کاروں کو بھی حراست میں لیا گیاجب کہ مقابلے میں 5 ڈاکو زخمی ہوئے۔ 

پولیس ذرائع کے مطابق بازیاب کرائے گئے دونوں مغوی ڈیڑھ ماہ سے ڈاکوئوں کی قید میں تھے۔ شاہ بیلو کے جنگلات میں بھاری مشینری اور آتش گیر مادے کی مدد سے ڈاکو منیر مصرانی سمیت دیگر ڈاکوئوں کی کمیں گاہیں تباہ کردی گئیں۔ آپریشن میں پولیس کی جانب سے راکٹ لانچر، مارٹر گولوں، بکتر بند گاڑیوں سمیت دیگر جدید ہتھیار و آلات کا استعمال کیا جارہا ہےجب کہ 200سے زائد پولیس اہلکار اور کمانڈوزآپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں اس آپریشن کی بذات خودنگرانی کررہے ہیں اور انہوں نے یہاں کیمپ بھی قائم کرلیا ہے۔ کچے کے جنگلات شاہ بیلو میں ڈاکوئوں کی پناہ گاہیں مسمار اور نذر آتش کر کے وہاں پولیس چوکیاں قائم کی جارہی ہیں۔

ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں نے نمائندہ جنگ کو بتایا کہ پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ شاہ بیلو کے کچے کے جنگلات میں ڈاکوئوں کے گروہ منظم ہورہے ہیں ، جس پرپولیس پارٹی تشکیل دے کرکچے کے جنگلات میں آپریشن شروع کیا گیا ہےجس میں ڈاکوئوں کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ۔ کچے کے جنگلات میں پولیس اور ڈاکوئوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ آپریشن کے دوران پولیس نے 2مغویوں پنجل اور فیاض کو بازیاب کرایا جو ڈیڑھ ماہ سے ڈاکوئوں کے قبضے میں تھے۔ پولیس نے ڈاکو منیر مصرانی کے ساتھی مختار چانڈیو کو بھی گرفتار کرلیا، جس کے قبضے سے ڈبل بیرل بندوق ودیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ 

مذکورہ ڈاکو پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہوگیا تھا جسےاس کے ساتھی وہاں سے محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ گرفتار ڈاکو ،اغواء برائے تاوان، قومی شاہراہ پر مسافر گاڑیوں میں لوٹ مار، ڈکیتی سمیت دیگر سنگین جرائم میں پولیس کو کافی عرصے سےمطلوب تھا۔ بدنام ڈاکو منیر نصرانی سمیت دیگر ڈاکوئوں کے گروہوں کے متعدد ٹھکانوں کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔ایس ایس پی سکھر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈاکوؤں کے تمام گروہوں کے مکمل خاتمے تک کچے کے جنگلات میں آپریشن جاری رہے گا۔

کچے کے علاقے میں پولیس کے افسران و جوان جنگل کو کھنگال رہے ہیں، ڈاکوئوں کی درجنوں پناہ گاہوں کو مسمار و نذر آتش کرکے ان کے گردگھیرا تنگ کیا جاچکا ہے۔ آپریشن میں پولیس کے کمانڈوز، مارٹر گولوں، راکٹ لانچروں، جدیدرائفلوں، بکتر بند گاڑیوں، طویل فاصلے تک دیکھنے والی دوربینوں سمیت دیگر جدید ہتھیار و آلات استعمال کررہے ہیں۔ ایس ایس پی سکھر کے مطابق شاہ بیلو کے کچے کے جنگلات ہمیشہ سے ڈاکوئوں کی محفوظ پناہ گاہ رہے ہیں جہاں ڈاکوئوں نے متعدد کمیں گاہیں بنارکھی ہیں۔ وارداتوں کے بعد وہ کچے کے جنگلات میں روپوش ہوجاتے تھے اور وہاں جہاں پولیس کے لئے پہنچنا مشکل اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔اب کچے کے جنگلات میں مستقل طور سے چوکیاں قائم کی جارہی ہیں، جہاں پولیس افسران اور اہلکار 24گھنٹے فرائض انجام دیں گے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کچے کےعلاقے میں کئی سالوں سے متواترآپریشن ہورہے ہیں لیکن پولیس کو ناکامیوں کا سامنا رہا ہے۔ ایس ایس پی عرفان علی سموںکا اس بارےمیں کہنا ہے کہ شاہ بیلو کے ان جنگلات میں پولیس کے لئے آپریشن کے دوران سب سے زیادہ مشکل کا سبب جو چیز بنتی ہے وہ جنگلات کا دیگر اضلاع کی حدود میں شامل ہونا ہے۔ کچے کا یہ علاقہ ایک ٹرائی اینگل کی صورت میں ہے جس کی حدیں سندھ کے 5اضلاع سے ملتی ہیں۔ 

اسی بات کا فائدہ اٹھاکر ڈاکو کچے کے علاقوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتے ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ سال سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی پولیس کی جانب سے وفاقی حکومت کی مدد سے کچے کے علاقوں اور دریائی جزیرے میں ڈاکوئوں، جرائم پیشہ افراد قلع قمع کرنے کے لئے مشترکہ آپریشن کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور آئی جی پولیس کے درمیان رابطہ بھی ہونا تھا اور آپریشن کو حتمی شکل دی جانی تھی، تاہم دریائے سندھ میں سطح آب بلند ہونے کے باعث مذکورہ آپریشن شروع نہیں کیا جاسکا۔اب حالات سازگار ہونے کے بعدگرینڈ آپریشن شروع کیا گیا ہے جس میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

شہری و عوامی حلقوں نے شاہ بیلو کے کچے کے جنگلات میں پولیس آپریشن کے دوران 2مغویوں کو بحفاظت بازیاب کرانے اور متعدد ڈاکوئوں کی گرفتاری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے شاہ بیلو میں ڈاکوئوں کے خلاف جو آپریشن شروع کیا ہے اسے منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے اور جب تک کچے کے علاقے میں ایک بھی ڈاکو موجود ہے، آپریشن جاری رہنا چاہیے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید