• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت اسٹیل ملز کی نجکاری سے متعلق فیصلہ نہ کرسکی

حکومت اسٹیل ملز کی نجکاری سے متعلق فیصلہ نہ کرسکی


حکومت پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری سے متعلق کسی بھی فیصلے پر نہیں پہنچ سکی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی سطح پر چین، روس اور یوکرائن نے اسٹیل ملز کی خریداری یا بحالی میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی سطح پر پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری یا بحالی کا منصوبہ ترک کردیا گیا ہے۔

اسٹیل ملزم اس وقت قومی خزانے کو روزانہ کی بنیاد پر 5 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت اسٹیل ملز کو لیز یا پٹرولیم بلاکس کی طرز پر اجارہ داری پر دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت بحری امور نے بھی اسٹیل ملز کو خریدنے یا پٹے پر لینے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، وفاقی کابینہ کل ادارے کو علی زیدی کی وزارت کے سپرد کرنے پر غور کرے گی۔

ذرائع کے مطابق نجکاری کمیشن اسٹیل ملز کو پٹے پر دینے کے لیے الگ سے کام کررہی ہے تو دوسری طرف وزارت نجکاری ادارے کو اجارہ داری پر دینے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔

سرمایہ کار اسٹیل ملز کی پیداواری صلاحیت 11 لاکھ ٹن سے30 لاکھ ٹن سالانہ کرنے کا پابند ہوگا، اسٹیل ملز کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ مارچ کے وسط تک کرلیا جائے گا۔

تازہ ترین