آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انتونیو گوتریس کا دورۂ کرتار پور

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کرتار پور راہداری کا دورہ  


اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کرتار پور راہداری کا دورہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے: ’’کرتارپور، دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ‘‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی کرتار پور آمد پر وزیرمذہبی امور نورالحق قادری اورسکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان نے ان کا استقبال کیا۔

  اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو کرتار پور راہداری منصوبے پر بریفنگ دی گئی ، انتونیو گوتریس نے گردوارہ کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔اس موقع پرانہوں نے کہا کہ کرتار پور راہداری ،پاکستان کی امن دوست خواہش کی عملی مثال ہے۔

انتونیو گوتریس کو سکھ برادری کی طرف سے تحائف بھی پیش کیے گئے۔

انہوں نے گردوارے کے لنگر خانے میں کھانا بھی کھایا ،انتونیو گوتریس، نور الحق قادری اور سکھ برادری  نے کرتارپور صاحب میں اکٹھے کھانا کھایا جس کے بعد کرتارپور راہداری میں مذہبی ہم آہنگی کی نئی مثال قائم ہو گئی۔

بریفنگ میں انتونیو کو بتایا گیا کہ پاکستان میں سکھوں سمیت اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے،کرتارپورمنصوبے کا مقصد سکھ برادری کو ان کے مقدس ترین مذہبی مقام تک بہ آسانی رسائی دینا ہے۔

انتونیو گوتریس نے کرتار پورراہداری کمپلیکس کے مختلف حصے بھی دیکھے،انہیں سکھ یاتریوں کو دی جانے والی سہولتوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ  پاکستان نے ایک اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے سکھ مت کے بانی بابا گرو نانک کے 550ویں جنم دن پر سکھ یاتریوں کے لیے  کرتار پور راہداری کھولی تھی۔

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ سال 9 نومبر میں گوردوارے کرتار پور کا افتتاح کیا تھا، بھارت سمیت دنیا بھر سے سکھ کمیونٹی یہاں آ کر اپنے مذہبی فرائض انجام دیتی ہے۔

کرتار پور وہ مقام ہے، جہاں سِکھوں کے پہلے گرو، نانک دیوجی نے اپنی زندگی کے آخری ایّام گزارے۔ یہیں بیک وقت اُن کی سمادھی بھی ہے اور قبر بھی، جو سکھوں اور مسلمانوں دونوں کے لیے ایک مقدّس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔

بابا گرو نانک کو مقامی مسلمان آبادیاں ایک بر گزیدہ ہستی کا درجہ دیتی ہیں، جب کہ سکھ انہیں اپنے مذہب کا بانی کہتے ہیں۔

اس گوردوارے سے قبل پاکستانی سرحد کی دوسری جانب سکھ یاتری  پاکستانی سر زمین تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے تھے، اس لیے وہ گوردوارہ صاحب کو دیکھنے کے لیے دور بینوں کا استعمال کیا کرتے تھے۔

قومی خبریں سے مزید