آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وزیر اعظم عمران خان نے نہ صرف اعلان کیا بلکہ ایسا حقیقت میں کرکے بھی دکھایا ہے ’’عورتوں کو گھر چلانے کیلئے گائے بھینس اور بکریاں دیںگے‘‘۔ تصویر میں وزیراعظم کو ایک خاتون کو بھینس دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جس کی مارکیٹ قیمت لاکھ سوا لاکھ تو ہوگی۔ اس سے قبل وزیراعظم پاکستان نے غریبوں کی بے روزگاری دور کرنے کیلئے مرغیاں انڈے، کٹے اور لنگر خانے کھولے۔ جہاں ہزاروں بے گھر بے در لوگوں کے قیام طعام کا بندوبست کیا گیا۔ اسی ہزار لوگوں کو بلا سود قرضے دیے جائیں گے۔ نوجوانوں کو ہر سال پچاس ہزار کا وظیفہ دیا جائے گا۔ غریب غربا کو مقدمات کے لئے وکیل کی فیس دی جائے گی۔ یہ سب اچھے اقدام ہیں لیکن اس کے نقصانات بھی ہیں۔ حکومت ہر ماہ کیا ہر دن لاکھوں کا خرچہ برداشت کر رہی ہے اور مزید کرنے کو تیار ہے۔ اگر ہر روز خرچ ہونے والی رقم کا حساب کتاب کیا جائے اور معلوم کیا جائے کہ غریب متوسط طبقہ کے افراد کیلئے ایک مقرہ مقدار میں بجلی مفت فراہم کرنے اور ایک خاص مقدار میں ضروریات زندگی آٹا، دالیں اور چاول ہر ماہ مفت دیے جائیں تو اس سے زیادہ بہتر اور مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں اور یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہو گی، ایسا برادر اسلامی ملک میں ہو رہا ہے، خصوصاً سعودی عرب میں، متحدہ عرب امارات میں وہاں تو سامانِ ضروریات کے ساتھ ہزار پندرہ سو ریال نقد بھی دیے جاتے ہیں۔ اگر وزیراعظم عمران خان واقعی لوگوں کی فلاح کے خواہش مند ہیں تو اربوں روپے یوٹیلٹی اسٹورز پر سبسڈی کے نام پر، لنگر خانوں کی دیکھ ریکھ اور طعام پر، نیلی پیلی گائے بھینسوں، انڈے مرغیوں کے نام پر اور دیگر ایسی تمام اسکیموں بینظیر سپورٹ پروگرام اور ہرسال جمع ہونے والی زکوٰۃ کی رقوم کو اگر جمع کر دیا جائے تو حکومت پر کوئی نیا بوجھ بھی نہیں پڑے گا اور اس کے نتائج میں جو مقبولیت، جو ناموری حاصل ہوگی اس کی کوئی قیمت نہیں۔ سب سے بڑا فائدہ حزبِ اختلاف کی زبانیں بند ہو جائیں گی۔ عوام خصوصاً غریب عوام کو جو ریلیف ملےگا، اس کے بدلے جو عوامی حمایت حاصل ہوگی اس کا ابھی اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے آٹا، چینی اور دیگر اجناس کی ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹ کا خاتمہ بھی ہو سکے گا۔ اس کے لئے ہر ضرورت مند کو کارڈ جاری کئے جا سکتے ہیں۔ اس کےدور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ ملک سے بدعنوانی کرپشن کا خاتمہ ہو سکے گا۔ آنے والے بجٹ کو اگر اس طرح مرتب کیا جائے تو کیا ہی بات ہو مگر اس میں سب سے بڑی رکاوٹ آئی ایم ایف اور وہ تمام جن کا پاکستان مقروض ہے، وہ ہیں، وہی آڑے آئیں گے۔ حالانکہ اُن کی ادائیگیوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن اس طرح اُن کی گرفت مقروض ملک کے اندرونی معاملات میں ختم ہو جائے گی۔ ابھی تو اُن کی مرضی سے بجلی، گیس، پانی اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ حکومت قرضہ لے کر اُن کی بات ماننے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی کرتی ہے جیسا وہ چاہتے ہیں اور اگر کسی طرح اس تجویز پر عمل کر لیا جاتا ہے تو انہیں یہ قطعی قبول نہ ہوگی۔ اگر وزیراعظم ہمت کا مظاہرہ کرکے اُن کی من مانی کی نفی کر دیں اور کہہ دیں ’’میری حکومت، میری مرضی‘‘ کیونکہ اس منصوبے کےلئے کسی نئے فنڈ کی ضرورت تو نہیں ہوگی۔ جو رقوم اب مختلف اسکیموں کے حوالوں سے خرچ ہو رہی ہیں، وہی رقم تب خرچ ہونی ہے۔ ہاں اس طرح قرض دینے والوں کی دبائو رکھنے کی پالیسی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر ضروریاتِ زندگی بجلی، گیس مفت کر دی جائیں تو اس کے حیرت انگیز نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ ابتدا میں جو لوگ قابل انکم ٹیکس ہوں، وہ اس اسکیم سے باہر رکھے جا سکتے ہیں۔ قابل عمل ہونے کے بعد بتدریج اس کا دائرہ بڑھایا جا سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں وزیراعظم عمران خان کی اب تک نافذ کردہ اسکیموں سے اُن کے قلبی جذبات و اخلاص کا اظہار ہوتا ہے لیکن ہمارا معاشرہ، ہمارا نوکر شاہی طبقہ، امرا، تجارت پیشہ افراد سب کے منہ کو بدعنوانی کا مزہ لگا ہوا ہے۔ وہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے ملک و قوم کے مفادات کو کچلنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ دنیا جائے بھاڑ میں، ہمارا الو سیدھا ہونا چاہئے۔ وزیراعظم کو ایسے ہی مفاد پرستوں نے گھیر رکھا ہے جو اُن کے اچھے کاموں کو بھی اپنے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ وزیراعظم چاہتے ہوئے بھی عوام کے لئے کچھ اچھا نہیں کر پا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے تمام مخالفین کو ان کے خلاف بولنے، انگلیاں اُٹھانے کا موقع مل رہا ہے۔ اکیلا چنا تو بھاڑ نہیں پھونک سکتا۔ کاش کہ تیرے دل میں اُتر جائے میری بات!

اللّٰہ پاکستان کو ان تمام ظالموں، مفاد پرستوں، بدعنوانوں، ناجائز منافع خوروں، بددیانت، نااہل سیاست دانوں، چور، ڈاکو، لٹیروں اور قرضہ خوروں سے نجات دے، ملک و ملت کی ہر طرح سے حفاظت و سلامتی کرے۔ آمین!

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)