آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مذاکراتی عمل کے آگے بڑھنے سے پاکستان اور روس نے اپنا 40سال پرانا تجارتی تنازع حل کرتے ہوئے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جس کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ دونوں ممالک زمینی فاصلے کم ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے صنعت و تجارت سمیت مختلف شعبوں میں ایک نئے سفرکا آغاز کر سکیں گے۔ وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے روس کو 9کروڑ 35لاکھ ڈالر کی ادائیگی کر دی ہے جس کے بعد پاکستان میں آٹھ ارب ڈالر کی روسی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے، اسی کے ساتھ پانچ کمپنیوں کو دو کروڑ ڈالر سے زائد رقم کی ادائیگی کا عمل شروع ہو گیا ہے ان میں سے ایک کو ادائیگی کر دی گئی ہے اور باقیوں کو پیمنٹ کا عمل جاری ہے۔ پاکستان اور سوویت یونین (روس) کے درمیان سفارتی، ثقافتی اور تجارتی تعلقات کا شاندار آغاز یکم مئی 1948کو محض قیامِ پاکستان کے آٹھ ماہ بعد ہو گیا تھا اور متذکرہ شعبوں میں روابط کو بڑی مہمیز ملی تھی۔ 1970کی دہائی میں پاکستان اسٹیل ملز کے قیام، اس کی تعمیر اور تکمیل پر عملے کی سوویت یونین میں تربیت کو ان تعلقات میں بڑی اہمیت حاصل ہے البتہ 1971میں سوویت یونین کا بھارت سے جنگی معاہدہ اور 1979میں افغانستان میں اس کی فوجوں کے آجانے سے پاک روس تعلقات کو دھچکا لگا، تاہم سوویت یونین کے انہدام کے بعد گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان اور روس بڑی حد تک پھر سے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں اس کا دونوں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ روس سی پیک منصوبے میں بھی گہری دلچسپی رکھتا ہے اور ان حالات میں جب دونوں ملکوں کے باہمی تجارتی حجم میں جو محض 80کروڑ ڈالر ہے خاطر خواہ اضافے اور خصوصاً پاکستان میں روس کی سرمایہ کاری کیلئے حالات انتہائی سازگار ہیں اس سے باہمی تجارت یقیناً آگے بڑھے گی۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین