آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

فصلوں کو ٹڈی دل سے محفوظ رکھنے کا انوکھا طریقہ

تھر کا خطہ ’’آرگینک یا نامیاتی ‘‘ کھانوں کی وجہ سے پورے ملک میں منفرد شناخت رکھتا ہے ۔ لیکن چند ماہ قبل تھری باشندوں نے ٹڈیوں سے نئے پکوان ایجاد کیے ہیں جو تھر کے روایتی و دیسی کھانوں میں انوکھا اضافہ ہے۔ تھر کے باشندے گزشتہ کئی عشرے سے فصلوں پر ٹڈی دل کے حملوں کی وجہ سے پریشان ہیں۔ یہ ٹڈیا ں براعظم افریقہ سےہزاروں میل کا سفر کرکے سندھ اور خاص کر تھر میں لاکھوں کی تعداد میں غول کی صورت میں داخل ہوکر فصلوں پر حملہ آور ہوتیں اور انہیں تباہ و برباد کردیتی ہیں۔ تھر ی باشندے جنہیں پہلے ہی بھوک و افلاس کا سامنا ہے، اب غذائی قحط کا شکار ہیں اور خوراک می قلت کی وجہ سے اب تک سیکڑوں بچے ہلاک ہوچکے ہیں ۔

تھری باشندوں نے ان سے ڈشز بنانا شروع کردیں

صحرائی ٹیلوں کے درمیان اناج اور کپاس کی فصلوں کوٹڈیوں کے ہاتھوں تباہی سے بچانے کے لیے وہ اپنے طور سے جتن کرتے ہیں۔ کاشت کار اور ان کے بچے ہاتھوں میں تھال اور پلاسٹک کی بوتلیں بجاتے ہوئے کھیتوں میں گھومتے پھرتے ہیں تاکہ ان کی فصلوں پر بیٹھی ہوئی ہزاروں لاکھوں ٹڈیاں ان کی آوازوں سے ہراساں ہوکر اڑ جائیں۔ کھیتوں کے درمیان آگ جالئی جاتی ہے، لیکن ان کی تماکاوشیں ناکام ثابت ہوتی ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کے لشکر پر فضائی اسپرے کا بھی کوئی اثر نہیں پڑتا اور وہ فصلوں کو نیست و نابود کرنے کے بعد دیگر مقامات کی جناب نقل مکانی کرجاتی ہیں۔

چند ماہ قبل تھر کے باسیوں نے ان سے نجات حاصل کرنے کا انوکھا طریقہ ایجاد کیا۔ انہوں نے ٹڈی دل کو پکڑ کر ان سے شکم سیری کا کام لینا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو تھر کی ’’خالص و روایتی ‘‘ اور صحت مند خوراک میسر آگئی ہے، دوسری جانب انہوں نے اس ہلاکت خیز پرندے سے مختلف النوع ڈشیں تیار کرکے آسان روزگار کا ذریعہ بھی بنالیا۔وہ ہزاروں لاکھوں کی تعدادمیں دھان ، کپاس اور مختلف اناج کی فصلوںپر بیٹھے ہوئے ان ننھے پرندوں کو جال لگا کر پکڑتےہیں اور ان سے ’’ٹڈی کڑاہی‘‘ اور’’ ٹڈی بریانی ‘‘ تیار کرکے اس خوراک سے خود بھی کام و دہن کو تسکین دیتے ہیں اور خوش خوراک افراد کو فروخت کرکے پیسے بھی کماتے ہیں۔ٹڈی سے تیار کیے ہوئے پکوان متعارف کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ان سے ڈشز تیار کرکے ہم نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ اس سستی ،وٹامنز سے بھرپور اور ذائقہ دار خوراک کو پیٹ بھرنے کے لیے استعمال کیا۔ 

اس کے بعد اسے ذریعہ روزگار بنالیا اور چھوٹے چھوٹے اسٹال لگا کر ’’ٹڈی کڑاہی‘‘ اور ’’ٹڈی بریانی ‘‘ فروخت کرنے لگے۔ چند ہی روز میں اس کی شہرت دور دراز علاقوں تک پھیل گئی اور لوگ ہمارے پاس انہیں انتہائی ذوق و شوق سے کھانے آتے ہیں۔ 200 سے 300 روپے میںفروخت ہونے والی ٹڈی کڑاہی اور ٹڈی بریانی کا ذائقہ مچھلی کے گوشت کی طرح ہوتا ہے۔پکانے سے پہلے ٹڈیوں کو دھو کر ، دھوپ میں سکھا کر صاف کیا جاتا ہے پھر اسے دھیمی آنچ پربھونا جاتا ہے۔مزے دار ٹڈی ڈش اب مقامی افرادکے علاوہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں کے باشندوں کی بھی پسندیدہ خوراک بن چکی ہے۔اسے کھانے کیلئے آنے والوں کے مطابق ٹڈی دل کا گوشت بہت لذیزہوتا ہے جبکہ اس کی بریانی بھی انتہائی مزیدار ہے۔

طبی ماہرین نے ٹڈی کے گوشت کو انسانی صحت کے لیے بہترین خوراک قرار دیا ہے۔ ان کی رائے کے مطابق ،ٹڈی گرم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ فائدہ مند بھی ہے،سانس کے مرض میں مبتلا افراد اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ علمائے کرام کے درمیان اس کے بارے میں ’’حلال‘‘ اور ’’حرام‘‘ کی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ایک عالم نے اسے حلال پرندہ قرار دیا ہےاوربتایا ہے کہ اسلامی ممالک سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں اسے بہ طور خوراک استعمال کیا جاتا ہے ۔ سعودی عرب میں بھی اس کا استعمال عام ہے وہاں ٹڈی کو بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے ۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے بھی اسے صحت کے لیے مفید پروٹین سے بھرپور خوراک قرار دیا ہے۔

اس مشینی دور میں زندگی اتنی تیز رفتار ہوگئی ہے کہ لوگوں کو کھانوں کے لیے بھی وقت نہیں ملتا، اس لیے انہیں ’’جنک یا فاسٹ فوڈز ‘‘ پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔شہروں میں ہر جگہ پیزا یا برگر شاپس موجود ہیں جب کہ شہروں کے اندر یا مضافات میں باکڑا ہوٹل بن گئے ہیں جس کی وجہ سے فیشن ایبل خواتین میں گھروں میں کھانا پکانے کی عادت ختم ہوگئی ہے ۔ان کے اہل خانہ پیزا ، برگر یا باکڑا ہوٹلوں کے مرغن و چٹخارے دار کھانوں سے شکم سیری کرتے ہیں۔ لیکن روایتی کھانوں کی مہک پھر بھی انہیں اپنی جانب کھینچتی ہے اور وہ اس کے لیے خاندان کی بزرگ خواتین کی مدد حاصل کرتے ہیں جو انہیں مختلف قسم کے ساگ ، باجرہ، جوار اور مکئی کی روٹیاں کھلا کر دیسی اور نامیاتی کھانوں کی لذت سے روشناس کراتی ہیں۔ 

تھری باشندے اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ وہ دیسی خوراک سے اپنی شکم سیری کرتے ہیں۔ تھر میں باجرہ جہاں نامیاتی غذا کا اہم حصہ ہے وہاں اس کے پکانے کا انداز بھی روایتی اور سادہ ہونے کے ساتھ دل کولبھانے والا ہے۔باجرہ کی روٹی کا اصل ذائقہ لکڑی کے چولہے اور مٹی کے توے پر بننے سے ہی ہے اور یوں گرم روٹی پر دیسی مکھن کے لگا نے سے اس کی لذت دوبالاہوجاتی ہے۔تھر کے زیادہ تر لوگ صبح کا آغاز باجرہ کی روٹی پرمکھن ڈال کر تازہ لسی کا ناشتہ کرکے کرتے ہیں۔سوکھی سبزیوں سے بنی کھچریوں کو بھون کر استعمال میں لایا جاتا ہے جس کا ایک الگ ذائقہ ہوتا ہے۔گوار کی پھلیوں سے لے کر تل کے لڈواور سنگریوں کی سبزی سے لے کر بھنی ہوئی مشروم تک سو فیصد آرگینک یا نامیاتی غذائیں جب دسترخوان یا ڈائننگ ٹیبل پر سجتی ہیں تو ان کی مہک ذہنوں کو مسحور کرلیتی ہے ۔

تھر میںگھروں میں مہمانوں کی آمد پر دیسی گھی،مکھن باجرہ کی روٹی دیسی شہد اور سوکھی سبزیاںتھر کے روایتی اور مخصوص پکوانوں کی صورت میں پیش کی جاتی ہیں ۔گھر وںمیں مٹی کے برتنوں میں پکنے والی خوراک کا ذائقہ دنیا بھر میں پکنے والے کھانوں سے منفرد ہوتا ہے۔ ۔ان ذائقوں کو تھر کی ثقافت کے طور پر عام کرنے کے لیے کیفے تھربھی کوشاں ہےیہاں پر مٹی کے برتنوں میں تمام تھری کھانے پکائے جاتے ہیں۔اور ساتھ ہی سوکھی سبزیوں سے اچار بناکرگاہکوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

وادی مہران سے مزید