• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگرمیرا جسم میری مرضی نہیں ہوگی توکس کی مرضی ہوگی، شہزاد رائے

شہزاد رائے کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر ے گفتگو


معروف گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے کا کہنا ہےکہ بچوں پرتشدد کےخاتمے سےمتعلق بل اب قومی اسمبلی میں چلا جائےگا،قانون جلد آئےگا، بچےکوکوئی غلط طریقے سےدیکھ اورچھونہیں سکتا، اگرمیرا جسم میری مرضی نہیں ہوگی توکس کی مرضی ہوگی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستانی گلوکار و سماجی کارکن شہزاد رائے کی جانب سے بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

شہزاد رائے نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ بچےکو بتایا جاتا ہےکہ اس کے جسم کو کوئی نہیں چھو سکتا ہے،  یہ بات صرف خواتین اور مردوں تک محدود نہیں، بچے کو کوئی غلط طریقے سے دیکھ اور چھو نہیں سکتا، یہ بطور طرز زندگی تمام دنیا میں پڑھایا جاتا ہے۔

شہزاد رائے نے کہا کہ بچوں پرتشدد کےخاتمے سےمتعلق بل اب قومی اسمبلی میں چلا جائےگا، قانون جلد آئےگا، کارپل سزا ہمارا مائنڈ سیٹ ہے، بچوں پر مار پیٹ اسلامی تعلیمات کےخلاف ہے، ہم نے عالمی معاہدے دستخط کئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو جسمانی سزا دینے والے سیکشن 89 کا سہارا لیتے ہیں کہ اچھی نیت سے مارا، سیکشن 89 کہتی ہے بچوں کے گارجین اچھی نیت کے ساتھ تشدد کی اجازت دے سکتا ہے، والدین یا بچوں کے گارجین کو بھی کیسے حق ہے کہ وہ تشدد کی اجازت دیں۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران شہزاد رائے نے میڈیا کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا اس معاملے پر ساتھ دینے پر شکر گزار ہیں ،ب ل کا قومی اسمبلی میں جانا بڑی کامیابی ہے۔

شہزاد رائے کے وکیل کے مطابق 2 کروڑ چالیس لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے، بہت سارے بچےاساتذہ کی مار کی وجہ سے اسکول چھوڑ دیتے ہیں، دنیا ہم پر ہنس رہی ہے کہ اسکول میں ایسے تشدد ہوتا ہے کہ بچے مرتے بھی رہے۔

وکیل شہزاد رائے کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں میں یہ قانون آگیا ہے مگر وفاق میں ابھی تک نہیں آیا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے شکر گزار ہیں، آئندہ سماعت 30 مارچ کو ہے جبکہ اب بل قومی اسمبلی میں چلا جائے گا۔

تازہ ترین