• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیلی ویجز اساتذہ کو فوری تنخواہیں ادا کرنے کی ہدایت

اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی مستقلی سے متعلق توہینِ عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ڈیلی ویجز اساتذہ کو فوری تنخواہیں ادا کرنے کی ہدایت کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ان کو تنخواہ بھی نہ دیں اور یہ کام بھی کریں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

ڈائریکٹر وفاقی نظامتِ تعلیمات نے کہا کہ ڈیلی ویجز کی مستقلی کے لیے ریکارڈ بھجوا رہے ہیں۔

نمائندہ ایف پی ایس سی نے کہا کہ ریکارڈ ملنے پر اسکروٹنی کے بعد سلیبس تیار کر کے ٹیسٹ لیں گے۔

ڈائریکٹر وفاقی نظامت تعلیمات نے عدالت سے استدعا کی کہ ایف پی ایس سی کوتفصیلات بھجوانے کے لیے تین ہفتے دیں۔

یہ بھی پڑھیئے: میٹرک بورڈ، ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کیا جائے، ایپکا

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ کو چار ہفتے دے رہے ہیں، اس کے بعد کوئی جواز پیش نہیں ہونا چاہیے، ابھی ایف پی ایس سی بھی پانچ چھ ماہ لے گا، اساتذہ کو ایسے ذلیل نہ کریں۔

عدالت نے سوال کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود استاد کو کیا اب بھی ڈیلی ویجز پر بھرتی کر رہے ہیں؟ ڈیلی ویجز اساتذہ کی بھرتی ہو گی تو ذمے دار وزارتِ تعلیمات ہو گی۔

ڈائریکٹر ایچ آر مینجمنٹ جاوید مرزا نے کہا کہ واضح حکم دیا گیا ہے کہ کالجز اپنے طور پر کوئی ٹیچر نہیں رکھ سکتے۔

یہ بھی پڑھیئے: ڈیلی ویجز وفاقی ملازمین کو ریگولر کرنے کیلئے کمیٹی قائم

عدالتِ عالیہ نے کہا کہ ملک کا المیہ یہ ہے کہ پالیسی میکرز نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ کیا ریکوائرمنٹ ہونی چاہیے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس میں کہا کہ جن ٹیچرز کو آپ ذلیل کریں گے تو وہ کیا پڑھائیں گے؟ اب ڈیلی ویجز ٹیچرز کا کیا مستقبل ہے، ابھی وہ ہی واضح نہیں ہو رہا۔

عدالت نے کہا کہ بچوں کے اچھے نتائج کے لیے اچھی پالیسیاں بنانی ہوں گی، عوام نے ووٹ دیا، اب حکومت کا کام ہے کہ پالیسی بنائے، یہ عدالتوں کا کام نہیں،آدھے سے زیادہ بھرتیاں ایف پی ایس سی کے بغیر کر دی گئیں، قانون کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: ڈیلی ویج ایمپلائز کے ناموں پر ڈیپازٹ کا انکشاف

جسٹس محسن اختر کیانی کے نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ نہ آبادی، نہ انفرا اسٹرکچر کو دیکھا گیا، آئندہ دس سال بعد آبادی 40 کروڑ ہو جائے گی، آئی ایم ایف کے قرضوں سے ملک چل رہا ہے۔

عدالت نے ڈیلی ویجز اساتذہ کو تنخواہیں دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 9 اپریل تک ملتوی کر دی۔

قومی خبریں سے مزید