آپ آف لائن ہیں
بدھ7؍ شعبان المعظم 1441ھ یکم اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کورونا، پنجاب میں دوسری ہلاکت، ملک میں مریضوں کی تعداد1077

کورونا، پنجاب میں دوسری ہلاکت، ملک میں مریضوں کی تعداد1077


کراچی، لاہور (نمائندہ جنگ، اسٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ سیل،ایجنسیاں) راولپنڈی میں کوروناسے خاتون جاں بحق ہوگئی، پنجاب میں دوسری موت، ملک میں مجموعی ہلاکتیں 8ہوگئیں۔

67 نئے کیسزکے بعد ملک میں مجموعی متاثرین 1077 ہوگئے۔گزشتہ روز خیبرپختونخوا میں 39، پنجاب میں 16، بلوچستان میں9، سندھ میں 3، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں ایک ایک کیس سامنے آیا ہے۔ 

سندھ میں لاک ڈائون میں مزید سختی کر دی گئی ہے اب رات 8بجے کے بعدشہ ریوں کے باہر نکلنے پرپابندی کردی گئی ہے جبکہ ،CNG، پٹرول پمپ بند کر دیئے گئے ۔ 

ادھر کرونا سے نمٹنے کیلئے گورنربلوچستان نےایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنیکااعلان، دوسری جانب حکومت نے این ڈی ایم اے کو 5 کروڑ ڈالردینے کی منظوری دیدی فنڈز سے انسدادکوروناکیلئے سامان خریداجائیگا۔ 

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں کوروناسے خاتون موت کے بعد ملک میں مجموعی ہلاکتیں 8ہوگئیں۔ جبکہ سندھ میں بدھ کے روز کورونا وائرس کے مزید 3 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مجموعی تعداد 413 ہوگئی ہے۔ 

صوبائی محکمہ صحت کی ترجمان میران یوسف کے مطابق تین نئے کیسز کے بعد کراچی کے کیسز کی تعداد 147 اورسکھر کے کیسز کی 265 ہوگئی ہے جبکہ ایک مریض دادو میں ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ سکھر قرنطینہ رکھے گئے 3414 زائرین میں سے 3149 کے نتائج منفی آئے ہیں۔ کراچی میں اب تک 14 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں ، ایک مریض جاں بحق ہوگیا تھا جبکہ 133مریض زیر علاج ہیں۔ 

انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 94 کیسز سماجی رابطوں کے ذریعے منتقل ہوئے ہیں۔

کمشنر راولپنڈی کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا ایک خاتون مریض انتقال کرگئیں،خاتون 21 مارچ سے زیرعلاج تھیں اور بیرون ملک سے وطن واپس آئی تھیں،یہ پنجاب میں دوسری ہلاکت ہے۔

اس سے قبل خیبرپختونخوا میں 3، بلوچستان، گلگت بلتستان، سندھ میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔ جبکہ مہلک وائرس سے اب تک 20 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جن میں سے 14 کا تعلق سندھ، 4 کا گلگت بلتستان اور 2 کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی لاہور کے میو ہسپتال میں ایک مریض انتقال کرگیا تھا۔ دوسری جانب صوبے میں آج مزید 16 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 312 ہوگئی ہے۔

صوبائی وزارت صحت کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں تفتان سے لائے گئے زائرین میں 176، لاہور میں 77، گجرات میں 21، جہلم میں 19، گوجرانوالہ میں 8، ملتان میں 3، راولپنڈی اور فیصل آباد میں 2، 2 جبکہ منڈی بہاؤ الدین، سرگودھا، رحیم یار خان اور نارووال میں ایک ایک شخص میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

خیبر پختونخوا میں آج کورونا وائرس کے 39 کیسز سامنے آچکے ہیں جس کی تصدیق صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ مردان کی یونین کونسل منگا میں 46 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 39 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ 

وزیر صحت نے مزید بتایا کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے انتقال کرنے والے پہلے مریض کا تعلق یونین کونسل منگا سے تھا۔ بلوچستان میں کورونا وائرس کے مزید 9کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد119 ہوگئی ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق وائرس کی تصدیق تفتان قرنطینہ سینٹر میں مقیم 5 افراد میں ہوئی ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بدھ کے روز ایک کیس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد شہر میں مجموعی کیسز کی تعداد 16 بتائی گئی ہے۔

سرکاری پورٹل میں گلگت بلتستان میں بدھ کے روز کورونا کا ایک کیس رپورٹ ہوا جس کے بعد علاقے میں مجموعی تعداد 81 ہوگئی ہے۔گلگت بلتستان کے ترجمان کی جانب سے کورونا کے کیس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ 

دریں اثناء عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان میں کورونا وائرس کیسز سے متعلق رپورٹ جاری کردی۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق 22 مارچ سے 23 مارچ کے دوران 115 کیسز سامنے آئے اس کے بعد 24 مارچ تک 5857 افراد کے کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 918 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ادھرسندھ حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن مزید سخت کردیا ہے جس کے تحت رات 8 بجے کے بعد کسی کو بھی سڑکوں پر آنے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ صرف اسپتالوں کے قریب واقع میڈیکل سٹورز کو کھلا رکھا جاسکے گا۔

اس حوالے سے محکمہ داخلہ سندھ نے نوٹیفکیشن جاری کردیاہے جس کے مطابق 13 روز کے لیے صوبے میں رات 8 سےصبح 8 بجےتک کھانے پینے کی اشیا اور پرچون کی دکانیں بھی بند رہیں گی تاہم اسپتال 24 گھنٹے کام کرتےرہیں گے جبکہ صرف اسپتالوں کے قریب واقع میڈیکل اسٹورز کو ہی کھلنے کی اجازت ہوگی۔

محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، سندھ حکومت نےپٹرول اور سی این جی سٹیشنز کو رات 8 بجے تک بند کرنے کا اعلان کردیا۔ 

دوسری جانب وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس قادر شاہ کا کہنا ہے کہ اگر شہری گھروں میں نہ بیٹھے تو ایک ماہ تک کرفیو لگا سکتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید