آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

15یا زائد دنوں کیلئے لاک ڈاؤن جاری رکھنا ہوگا، وزیرصحت خیبرپختونخوا


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر صحت کے پی کے ، تیمور سلیم خان نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد لوگوں کی آمدورفت میں بہت کمی واقع ہوئی ہے جتنا لوگ گھروں میں محدود رہیں گے وائرس کی منتقلی اتنی ہی کم ہوگی میرے خیال میں 15 دن یا اس سے زائد دنوں کے لئے لاک ڈاؤن کو جاری رکھنا ہوگا،وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ 4 اپریل تک لاک ڈاؤن میں نرمی کا کوئی ارادہ نہیں ہے، ترجمان بلوچستان حکومت، لیاقت شاہوانی نے کہا کہ ہم سختی کی طرف جارہے ہیں،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان، حافظ حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے ہمیں اس سے بھرپور فائدہ ہورہا ہے۔وزیر اطلاعات سندھ ، سید ناصر حسین شاہ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو ماہرین کی رائے ہے اوردیگر ممالک کے جو نتائج آئے ہیں اس میں بھی یہی ہے کہ لاک ڈاؤن سے بہت فائدہ ہوا ہے اور ہم نے اس پر عمل کیا ہے کچھ جگہوں سے شکایات آرہی تھیں تو اس کو مزید سخت کیا ہے اگر اس پر عمل نہیں ہوا تو ہم کرفیو کی طرف بھی جاسکتے ہیں اگر وزیراعظم لاک ڈاؤن کا خود اعلان کریں تو اس سے ہمیں بھی بڑی سپورٹ ملے گی اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر مکمل آزادی ہے ۔وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں کورونا وائرس کے 313 کیس ہیں ان میں سے176 قرنطینہ میں ہیں 77 مریض لاہور ،گجرات21،جہلم 19، گوجرانوالہ 8 ،راولپنڈی 2،ملتان3 اور فیصل آباد میں 2 مریض موجود ہیں ان میں 10ا فراد ایسے ہیں جن کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کمیونٹی میں اب پھیلنا شروع ہوا ہے تو ہم امید کرتے ہیں کے لاک ڈاؤن کی مدد سے اس کا پھیلاؤ50 فیصد کم ہوجائے گا4 اپریل تک لاک ڈاؤن میں نرمی کا کوئی ارادہ نہیں ہے اگر ہم سب نے مل کر جنگ کی تو انشاء اللہ ہم اس آفت سے جلد نکل آئیں گے۔ ترجمان بلوچستان حکومت، لیاقت شاہوانی نے کہا کہ ہم سختی کی طرف جارہے ہیں 17 مارچ کو ہم نے جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیااور پھر اس میں سختی میں اضافہ کیا گیا اور بدھ کو اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد ڈسٹرکٹ کوئٹہ کا رابطہ بلوچستان کی دیگر ڈسٹرکٹ سے منقطع کردیا گیا ہے اور کوئٹہ کے کچھ ٹاؤنزکو دیگر کوئٹہ کے افراد کے لئے ہم نے بند کردیا تاکہ وائرس کی روک تھام عمل میں لائی جاسکے۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان، حافظ حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کے لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے ہمیں اس سے بھرپور فائدہ ہورہا ہے ٹھیک ہے لوگوں کو تکلیف ضرور ہورہی ہے ہم نے فوج کو باقاعدہ گراؤنڈ پر اتارا ہے ہم نے پیٹرول پمپس بھی بند کردیئے ہیں پرچون کی دکانوں کے لئے بھی اوقات کار مقرر کی ہیں اس لئے کہ ہمارے ہاں ایک ضلع ہے ضلع نگر وہاں 14 کیسز آپس میں میل جول سے پیدا ہوئے ہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کیسز میں کمی واقع ہوئی ہے ہماری صورتحال دیگر صوبوں سے اس لئے مختلف ہے کہ ہماری آبادی کم ہے اور بیرون ملک سے آنے والے زائرین کی تعداد زیادہ ہے اس لئے ہم نے اس کو سنجیدگی سے لیا ہے ہم نے چین سے وینٹی لیٹر مانگے تھے آج رات کھیپ پہنچ جائے گی ہم سمجھتے ہیں کہ کم از کم 15 روزہ لاک ڈاؤن کے بعد اس کے نتائج آنا شروع ہوں گے ۔

اہم خبریں سے مزید