آپ آف لائن ہیں
پیر 9؍ شوال المکرم 1441ھ یکم جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تفہیم المسائل

سوال: ہماری مسجد کے امام صاحب مغرب وعشاء کی نماز میں تسلسل کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے ہیں ، نماز کے دوران کچھ غلطیاں آئیں ،مثلاً : سورۂ رعد آیت:2 یُدَبِّرُ الأَمْرَ یُفَصِّلُ الآیَاتِ لَعَلَّکُم بِلِقَائِ رَبِّکُمْ تُوقِنُونَOکی بجائے سورۂ فاطرآیت:13وَالَّذِیْنَ تَدْعُونَ مِن دُونِہٖپڑھا ۔سورۂ رعد، آیت: 17 کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَکی جگہ سورۂ محمد، آیت:3کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَہُمْ پڑھی ،مگر اگلے ہی لمحے صحیح پڑھ لی۔ تیرہویں پارے کی آیت59کی جگہ آیت70پڑھی ،پھر صحیح پڑھ لی ۔معلوم یہ کرنا ہے کہ مذکورہ صورت میں کیا نماز درست اداہوگئی یا دہرائی جائیںگی؟(جامع مسجد گلزارِ حبیب ، کراچی )

جواب:ایسی غلطی جس سے معنیٰ فاسد ہوتے ہوں ، اُس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ۔معنیٰ میں فساد اعرابی غلطی کے سبب ہو یا کسی لفظ ، کلمے یا جملے کے کم یا زیادہ کرنے کے سبب ہو ۔درج بالاتینوں مقامات پر نہ تو کوئی لفظی غلطی ہے اور نہ ہی معنوی ۔ مُتشابہ لگنے کے سبب ایک آیت کی جگہ دوسری آیت یا اُس کا کچھ حصہ پڑھ لینا مُفسدِ نماز نہیں ہے ۔ایک آیت کی جگہ دوسری آیت پڑھنے کی بابت بھی اصول یہ ہے کہ اگر اس آیت پر پورا وقف کرچکاہے تو نماز فاسد نہیں ہوگی اور اگر وقف نہیں کیا اور معنیٰ مُتغیر ہوتے ہیں تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔علامہ نظام الدین ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ ایک آیت کو دوسری آیت کی جگہ پڑھا ،اگر پورا وقف کرچکاہے ،پھر دوسری آیت پوری یا تھوڑی پڑھی، تو نماز فاسد نہیں ہوگی ،مثلاً :وَالْعَصْرِ،إِنَّ الإِنْسَان پڑھ کر إِنَّ الأَبْرَارَ لَفِی نَعِیمٍپڑھا یا سورۂ التین’’وَہٰذَا الْبَلَدِ الأَمِینِ‘‘ تک پڑھی ،وقف کیا اور پھر ’’لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَانَ فِی کَبَد‘‘ پڑھا یا ’’ إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات ‘‘پڑھ کر وقف کیاپھر ’’أُولَئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ‘‘پڑھا،نماز فاسد نہیں ہوگی ۔پس جب( پڑھنے والے نے) وقف نہ کیا ،ملا کر پڑھا ،تو اگر معنیٰ تبدیل نہیں ہوتے تو نماز فاسد نہیں ہوگی ،مثلاًإِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات کَانَتْ لَہُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلَاOکی جگہ ’’ فَلَہُمْ جَزَآئنِالْحُسْنٰی ‘‘پڑھا۔لیکن اگر معنیٰ تبدیل ہوجائیں ،مثلاً: إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ(کے بعد) أُولَئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ پڑھا،إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ،کو خَالِدِینَ فِیہَا تک پڑھا ،پھر أُولَئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِپڑھا ،تو تمام علماء کے نزدیک نماز فاسد ہوجائے گی ،یہی صحیح ہے، ’’خلاصۃ الفتاویٰ ‘‘ میں بھی اسی طرح ہے ،(فتاویٰ عالمگیری، جلد1،ص:80)‘‘۔

(…جاری ہے…)

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk

اقراء سے مزید