آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایک آدمی سرکاری اسپتال میں ایک بندے کو بلڈ دینے گیا۔فرصت ملنے پر ادھر موجود کینٹین سے برگر اور جوس خریدا اور مزے سے وہیں کھڑے کھڑے کھانا پینا شروع کر دیا۔

عین اسی وقت اس کی نظر بنچ پر بیٹھے ایک معصوم بچے پر پڑی جو بڑی حسرت سے دیکھ رہا تھا۔اس نے انسانی ہمدردی میں جلدی سے اس بچے کے لیے بھی برگر اور جوس خریدا جو بچے نے بلا تکلف لے لیا اور جلدی جلدی کھانے لگا۔ بیچارہ پتہ نہیں کب سے بھوکا ہو گا۔ یہ سوچ کرآدمی نے خدا کا شکر ادا کیا ،جس نے مجھے ایک بھوکے کو کھانا کھلانے کی توفیق بخشی۔

اتنی دیر میں بچے کی ماں، جو اس کی پرچی بنوانے کے لیے کھڑکی پر کھڑی تھی، واپس آئی اور بچے کو برگر کا آخری ٹکڑا کھاتے دیکھا،پھر اچانک پتہ نہیں اسے کیا ہوا کہ وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر ، باقاعدہ اس شخص کو بددعائیں دینے لگی ،جس نے اس کے بچے کو یہ چیزیں لےکر دی تھیں ۔ ’’انتہائی بے شرم اور خبیث تھا وہ شخص، جس نے میرے بچے کو برگر لے کے دیا۔ میں 35 کلومیٹر دور سے کرایہ لگا کر اس کاخالی پیٹ کا ٹیسٹ کروانے لائی تھی۔

یہاں مچھلیاں پکڑنا منع ہے

ایک آدمی فش فارم میں کانٹا لگا کر بیٹھا تھا۔ گارڈ نے دیکھا تو بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ یہاں مچھلیاں پکڑنا منع ہے۔ چلو نکلو یہاں سے۔

اس آدمی نے معذرت کی اور کانٹا پانی سے باہر نکالا، جس کے ساتھ بینگن لگا ہوا تھا۔

گارڈ نے بہت حیرت زدہ ہوکر آدمی سے پوچھا ۔۔۔۔۔

تم بینگن لگا کر مچھلیاں پکڑ رہے تھے؟؟؟

آدمی نے معصومیت سے کہا جی ہاں۔

گارڈ نے طنزیہ کہا ٹھیک ہے تم پکڑ لومچھلیاں ۔

اس آدمی نے کانٹا لگایا اور بیٹھ گیا۔

دو گھنٹے بعد گارڈ کو وہ آدمی ایک درجن مچھلیوں کے ساتھ باہر جاتا نظر آیا۔

گارڈ نے حیران ہو کر پوچھا تم نے یہ مچھلیاں بینگن لگا کر پکڑی ہیں؟؟؟؟

تو آدمی نے جواب دیا نہیں وہ بینگن تو تمہارے لئے تھا۔

مچھلیوں کےلئے میں نے دوسرا کانٹا لگایا ہوا تھا

فیس بک کا نشہ

کلاس روم میں پڑھائی کے دوران پچھلی سیٹوں پر بیٹھے ایک لڑکے نے اپنے موبائل پر اپنا فیس بک اکاونٹ کھولا،جیسے ہی اس کااسٹیٹس آن لائن شو ہوا پروفیسر صاحب نے جو لیب ٹاپ پر آن لائن تھے کمنٹ کیا کہ،’’ نالائق انسان کلاس سے نکل جاؤ۔‘‘

آفس میں بیٹھے پرنسپل نے پروفیسر کے کمنٹ کو لائک کرکے اس کی تائید کردی۔

دوست نے یہ ماجرا دیکھ کر کمنٹ کیا اوئے ٹینشن نہ لے کیفے میں آجا سموسے کھاتے ہیں۔

ماں نے گھر سے کمنٹ کیا ، نکمے انسان کلاس نہیں لینی تو سبزی لے کر گھر آجا۔

باپ نے دفتر سے کمنٹ کیا ۔ دیکھ لی اپنے لاڈلے کی حرکتیں ، تمہارے پیار نے ہی اسے بگاڑا ہے

فرینڈ نے کمنٹ کیا ۔دھوکے باز تم نے تو کہا تھا کہ تم کالج نہیں گئے، اسپتال میں ہو دادی کی حالت بہت خراب ہے آخری سٹیج پر ہیں، اس لیے ملنے نہیں آسکتا۔

اسی وقت دادی نے بھی کمنٹ کیا،او بیڑا غرق ہو تیرا بے غیرتا کیوں دادی کو مارنے پر تلے ہوئے ہو۔