آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے ایک ٹوٹکے سے ایران میں 480افراد کے جاں بحق ہونے اور معذوری سمیت کئی تکالیف میں ہزاروں افراد کے مبتلا ہونے کا واقعہ ایسے لوگوں کے لیے چشم کشا ہونا چاہئے جو طبی ماہرین کے مشوروں پر توجہ دینے کے بجائے اِدھر اُدھر سے سنے ہوئے نسخوں اور سوشل میڈیا پر بیان کردہ ٹوٹکوں کے استعمال میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ ایران میں محکمۂ صحت کے ایک طبی ماہر کے حوالے سے امریکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ حکام کے منع کرنے کے باوجود صنعتی کیمیکل میتھانول کے بارے میں یہ تاثر پھیل گیا کہ وہ کورونا کا علاج ہے اور اس کے ذریعے مہلک وبا کے حملے سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کیفیت میں میتھانول پینے کے باعث ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق 300افراد جبکہ امریکی نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق 480افراد جاں بحق ہو گئے۔ جمعہ کے روز تک ممنوعہ کیمیکل پینے کے باعث متاثرہ افراد کی تعداد 2850سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک پانچ سالہ بچے کو والدین نے مذکورہ کیمیکل پلادیا جس کی وجہ سے وہ نابینا ہوگیا۔ جہاں تک سنی سنائی دوائوں یا ٹوٹکوں کا تعلق ہے پاکستان سمیت تیسری دنیا کے ممالک میں ان کا استعمال کرنے والوں کی تعداد کم نہیں۔ وطن عزیز میں اگرچہ سماجی سطح پر قائم اچھے اسپتالوں کے ذریعے کڈنی، کینسر اور ہڈیوں سمیت کئی امراض کا مفت علاج کیا جاتا ہے تاہم بہت سے افراد غربت اور کم علمی کے باعث ایسے طریقے استعمال کرنے پر مجبور ہیں جن کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں۔ اب ’’صحت کارڈ‘‘ جیسی سہولتوں کے باعث امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے مہینوں یا برسوں میں عام لوگوں کو معیاری علاج کی مفت سہولتیں حاصل ہو جائیں گی۔ جہاں تک سوشل میڈیا یا ’’سینہ گزٹ‘‘ کے تحت پھیلائے جانے والے نسخوں اور افواہوں کا تعلق ہے، ان پر بلاتحقیق بھروسہ کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین