آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

22مارچ کو تنظیم اتحادِ امت پاکستان کے چیئرمین کی حیثیت سے راقم نے تنظیم کے شریعہ بورڈ سے مشاورت کے بعد کورونا وبا سے پوری دنیا میں پیدا ہونے والی صورتحال کے موقع پر عوام کی رہنمائی میں فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے گھروں میں رُکے رہیں، باہر ہرگز، ہرگز نہ نکلیں اور سماجی فاصلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شرح صحیح مسلم جلد 7صفحہ 755میں رقم ہے، حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا،عنقریب فتنے برپا ہوں گے، ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا جو ان فتنوں کو دیکھے گا وہ فتنے اس کو دیکھ لیں گے (یعنی اس کو ہلاک کر دیں گے) اور جس شخص کو ان سے پناہ کی جگہ مل جائے وہ پناہ حاصل کر لے۔ یہاں فتنے کا مطلب عذاب، وبا اور آزمائش ہے اور کورونا وائرس بھی ایک وبا ہے۔ حدیث پاک کی روشنی میں جو بندہ گھر سے باہر جتنا زیادہ رہے گا وہ نقصان میں رہے گا اور جو معاشرے سے جتنا زیادہ دور ہو جائے گا وہ فائدہ میں رہے گا، جو باہر نکلنے سے جتنی زیادہ احتیاط کرے گا وہ فائدے میں رہے گا۔ گھروں میں ٹھہرے رہنے والے بیماری سے بچ جائیں گے جبکہ سونے والا سب سے زیادہ فائدہ میں رہے گا کیونکہ وہ معاشرے سے سوتے وقت سب سے زیادہ الگ ہو جاتا ہے۔ فتویٰ میں حکومت پاکستان کو کورونا میت کی تدفین کیلئے رہنمائی دی گئی۔ مسلمان میت کو غسل دینا فرضِ شرعی ہے اور بغیر کسی وجۂ شرعی کے غسل کو ساقط کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اس لیے کورونا وائرس والی میت کو حفاظتی اقدامات کے تحت غسل دیا جا سکتا ہے تو غسل دینا ضروری ہے، اس حوالے سے ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ صابن کیمیکل وغیرہ سے یہ وائرس مر جاتا ہے، آگے نہیں پھیلتا تو حکومتی سطح پر ایسی میتوں کو مکمل حفاظتی اقدامات کے تحت غسل دیا جائے، اگر ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ ایسی میت کو غسل دینے سے یہ وائرس یقیناً پھیل جائے گا جس کی وجہ سے دوسرے لوگ اس میں مبتلا ہو جائیں گے تو اس صورت میں چونکہ دوسروں کی جان بچانا زیادہ ضروری ہے لہٰذا غسل ساقط کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ بات ضرورت و حاجت کے درجہ میں چلی جائے گی کیونکہ شریعت میں ایک ’’جان‘‘ بچانا گویا پوری انسانیت بچانے کے مانند ہے۔ لہٰذا مقاصدِ شرع اور ضرورت و حاجت کے پیشِ نظر کورونا وائرس والی میت کو غسل کے بجائے تیمم کروا دیا جائے۔ کورونا وائرس سے مرنے والی میت کو کفن پہنانے سے اس وائرس کے دوسرے افراد تک منتقل ہونے کا قوی امکان ہوتا ہے لہٰذا میت کو ایک کپڑا کفن کافی ہے اور اسی پر اکتفا کیا جانا چاہئے۔ کورونا میت کو صندوق میں بند کرکے دفن کیا جائے، مسلم میت کا نماز جنازہ پڑھا جائے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے، البتہ حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہیں، اس حوالے سے ضابطہ اخلاق بناتے وقت مستند علمائے کرام کی رہنمائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مصافحہ فرض یا واجب نہیں ہے، لہٰذا عوام مکمل پرہیز کریں، توبہ اللہ پسند فرماتا اور سختی بندے کو گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔ پوری دنیا اجتماعی توبہ کرے، ایران سے انسانی بنیادوں پر پابندیاں اٹھائی جائیں، تمام ممالک کے حکمران انسانیت پر ظلم کرنے، کروانے اور معاون بننے پر توبہ کریں، مسلم حکمران یکسو و یکجا ہوں، خانہ کعبہ میں اکٹھے ہوکر توبہ کرنے کا اعلان کریں، عوام توبہ استغفار اور یا حَیّ یا قیوم کا ورد کریں، مزدور کو اضافی تنخواہ دی جائے تاکہ غریب کا چولہا ٹھنڈا نہ ہو، مالک مکان ایک ماہ کا کرایہ چھوڑنے کا اعلان کریں، قرضہ دینے والوں کو معاف نہیں کر سکتے تو ریلیف ضرور دیں، زکوٰۃ دینا شروع کی جائے، مسلم اورغیر مسلم ریاستوں کے حکمرانوں کی طرف سے کورونا وائرس کیلئے جو حفاظتی اقدامات اور فیصلے کیے گئے ہیں ان کی پیروی لازم ہے، تاجر ناجائز منافع خوری سے جہنم میں جا سکتے ہیں، فی الفور توبہ کریں، عالمی حکمران اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اللہ سے معافی مانگیں، علمائے کرام، صوفیائے کرام، ائمہ، خطباء، لوگوں کو توبہ استغفار کی تلقین کریں، علماء، اساتذہ، ڈاکٹر، وکیل، سیاستدان، مالک، مزدور اور تمام سول سوسائٹی اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو جائے، عالمی حکمران میانمار، کشمیر، شام عراق، فلسطین، افغانستان میں شہید ہونے والے بچوں کے خون کی معافی مانگیں، ناراض والدین کو اولاد جلد از جلد راضی کرے، کیونکہ والدین کی زیارت بھی عبادت ہے۔ 24مارچ کی دوپہر اذانیں دینے کے حوالے سے فتویٰ جاری کیا گیا اور اللہ کے فضل و کرم سے رات دس بجے پورا ملک اللہ اکبر، اللہ اکبر کی صدائوں سے گونج اٹھتا ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اللہ ہمیں اس وبا سے نجات نہیں دے دیتا۔ امید ہے کہ کورونا اب روز بروز کمزور ہوگا۔ فتویٰ میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ علماء کرام مساجد میں اضافی اذانیں دینے کا عمل شروع کریں، رہائشی گھروں میں زیادہ سے زیادہ اذانیں دیں، کاروبار کرنے والے اپنے کام کے دوران اذانیں دینے کا عمل بار بار کریں، جو لوگ دفاتر اور فیکٹریوں میں کام کرنے کیلئے جار ہے ہیں وہ ہر نماز کے موقع پر اضافی اذانیں دینا شروع کریں، تمام چینلز، ایف ایم ریڈیو اور ویب چینلز پانچ وقت اذانوں کا سلسلہ شروع کریں تاکہ اللہ تعالیٰ نبی کریمﷺ کے صدقے ہمارے حال پر مہربان ہو جائے، ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور کورونا وبا سے انسانیت بچ جائے۔ فتویٰ رضویہ جلد 5صفحہ 370اور بہارِ شریعت ج 1ص 466میں درج ہے کہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ وبا کے زمانے میں اذان دینا مستحب عمل ہے۔ المعجم الکبیر للطبرانی جلد 1صفحہ 257حدیث 746میں ہے: رسول اللہﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس بستی میں اذان کہی جائے، اللہ تعالیٰ اپنے عذاب سے اس دن اسے امن دیتا ہے۔ فتاویٰ شامی میں ہے شدید آفات و مشکلات اور پریشانی کے موقع پر بھی اذانیں دی جا سکتی ہیں۔

تازہ ترین