آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جو صحافی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے اسکو نشانہ بنا یا جاتا ہے ،میر شکیل الرحمٰن اسکی زندہ مثال ہیں ، مختیار یوسفزئی

پشاور (احتشام طورو/نمائندہ جنگ) پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سینئر ڈپٹی چیئرمین اورخیبرپختونخوا کے صوبائی صدر مختیار خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پاکستان تاریخ کی مشکل ترین صورتحال سے دوچار ہے، ساری سیاسی پارٹیاں متفق ہیں،پارلیمنٹ ربڑ اسٹمپ کے سوا کچھ نہیں، ۔جنگ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا کی آزادی سوالیہ نشان بن چکی ہے جو بھی صحافی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے ان پر طرح طرح کے الزام لگاکر ان کو انتقام کا نشانہ بنا یا جاتا ہے ،میر شکیل الرحمن اس کی زندہ مثال ہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا جو پہلے سے پابند تھے اب ان پر بدترین پہرے لگائے گئے ہیں اور اب سوشل میڈیا کا گلابھی دبانے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ مختیا خان یوسفزئی نے اقتصادی صورتحال بارے میں کہا کہ معاشی طور ملک حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دیوالیہ پن کا شکار ہوگیا ہے روپے کی قدر خطرناک سطح تک نیچے آگئی ہے، جسکے نتیجے میں بیرونی قرضوں کا دبائو بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں کمرتوڑ مہنگائی کے سیلاب نے غریب لوگوں کے چولہے ٹھنڈ کر دیئے ہیں، بیروزگاری میں تشویشناک حد اضافہ ہوچکا ہے اور حکمران جماعت کے پانچ لاکھ ملازمت کا دعویٰ بھی جھوٹا ثابت ہوا ہے۔ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لویہ جرگہ نے افغانستان کو نیا آئین دیا اور جمہوریت کا دور اب تک جاری ہے جس میں افغان عوام نے چار مرتبہ ووٹ کے ذریعے جمہوری حکومتوں کو منتخب کیا، لیکن بدقسمتی سے پڑوسی ممالک کی مسلسل مداخلت سے افغانستان میں طالبان، داعش اوردوسرے دہشت گروہوں کی جنگ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی حالیہ امریکہ طالبان معاہدہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے لیکن افغانستان میں امن کے لئے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ، امریکہ اور دوسری طاقتیں افغانستان کے پڑوسی ممالک سے عدم مداخلت کی ضمانت لے جب تک افغان حکومت سے طالبان کے مذاکرات نہ ہوں اور افغان حکومت کے موقف کو تقویت نہ ہو تو افغانستان میں امن صرف باتوں تک محدود ہوگا۔ جہاں تک افغانستان میں صدارتی انتخابات کا تعلق ہے تو اس پر ہمارا واضح موقف ہے کہ اشرف غنی افغانستان کے عوام کا منتخب کردہ جمہوری سربراہ ہے اور افغانستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کو اشرف غنی کو صدر تسلیم کرنا ہوگا، پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مختیار خان نے کہا کہ ریاست میں بسنے والے تمام اقوام و عوام کے سر و مال اور عزت کی ذمہ دار ریاست ہی ہوتی ہے، کیونکہ ریاست عوام سے ٹیکس وصول کرتی ہے اور پھر اسی ٹیکس پر سیکورٹی رکھی جاتی ہے جسکا بنیادی کام عوام کا سر و مال محفوظ رکھنا ہے۔ اگر پاکستان میں دہشت گردی ہوتی ہے تو یہ سیکورٹی اداروں کی ناکامی ہے، لہٰذاٰ اس حوالے سے یہ ادارے جواب دہ ہیں۔حالیہ عالمی وباء کرونا وائرس کے حوالے سےانہوں نے کہا کہ اس وباء سے نمٹنے کے لئے طبی ماہرین کے مشوروں کو مقدم سمجھنا چاہئے اور مرکزی حکومت بشمول صوبائی حکومتیں مکمل لاک ڈائون کریں، انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون سے غریب عوام متاثر ہونگے جس کے لئے حکومت راشن فراہم کرنے کا پروگرام بنائے، انہوں نے پاکستان میں وائرس پھیلنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو اس کا ذمہ دارٹھہرایا اور کہا کہ اگر حکومت تفتان بارڈر پر توجہ دیتی تو یہ وائرس اتنے خطرناک طریقے سے نہ پھیلتا انہوں نے طبی ماہرین کے پاس سہولیات کی عدم دستیابی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا حکومت اس معاملے پر بھی خصوصی توجہ دے۔
اہم خبریں سے مزید